ستر سال کی عمر میں ایک دن محلے کے وٹس ایپ گروپ می…
میرا نام اَمل آرا ہے۔
عمر ستر برس ہے۔
راولپنڈی کے ایک پرانے سے محلے میں میرا چھوٹا سا مکان ہے۔ دو کمرے، ایک تنگ سا صحن، دیوار کے ساتھ لگا ہوا رات کی رانی کا پودا، اور باورچی خانہ، جہاں اب بھی مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے یحییٰ ابھی دروازے سے جھانک کر کہیں گے:
“اَمل، آج نمک ہاتھ ہلکا رکھنا، کل سالن نے زبان پکڑ لی تھی۔”
یحییٰ میرے شوہر تھے۔
پچھلے سال ایسے گئے کہ کسی کو سنبھلنے کی مہلت ہی نہ دی۔
نہ لمبی بیماری، نہ بستر، نہ دوا دارو کا قصہ۔
بس ایک صبح صحن میں پرانی کرسی کی کیل ٹھونک رہے تھے۔ میں نے اندر سے پوچھا:
“چائے میں چینی کتنی؟”
وہ بولے:
“چینی کم، مگر ساتھ بیٹھ کر پینا۔”
میں چائے لے کر باہر آئی تو کرسی آدھی ٹھیک تھی، ہتھوڑی زمین پر پڑی تھی، اور یحییٰ ایسے چپ تھے جیسے کسی نے ان کی آواز تہہ کر کے کہیں رکھ دی ہو۔
اس دن کے بعد گھر گھر نہ رہا، خالی برتن ہو گیا۔
آواز دو تو اپنی ہی صدا واپس آتی۔
ٹی وی لگایا، دل نہ لگا۔
ریڈیو کھولا، پرانے گیت بھی کانٹوں جیسے لگے۔
محلے کی عورتیں آتیں، دو باتیں کرتیں، دعا دیتیں، پھر اپنے اپنے چولہوں میں گم ہو جاتیں۔
اور میں؟
میں پھر اسی خاموشی کے ساتھ رہ جاتی جس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔
ایک دن باورچی خانے کی الماری کھنگالتے ہوئے میرا پرانا رجسٹر ہاتھ لگ گیا۔
وہی جس میں میں نے برسوں کے پکوان لکھ رکھے تھے۔
کچھ میرے اپنے آزمائے ہوئے نسخے۔
کچھ عیدوں، دعوتوں، بیماریوں اور بارشوں کے۔
اور کچھ پر یحییٰ کے شرارتی جملے بھی لکھے تھے۔
“کھیر میں الائچی کم نہ کرنا۔”
“آلو گوشت میں آلو زیادہ ہوں تو غریب آدمی بھی بادشاہ لگتا ہے۔”
“یخنی میں دعا ڈالنا نہ بھولنا، نمک بعد میں بھی پورا ہو جاتا ہے۔”
میں رجسٹر گود میں رکھے دیر تک بیٹھی رہی۔
پھر نہ جانے کس دھیان میں ایک صفحہ بلند آواز سے پڑھنے لگی۔
“کھیر کے لیے چاول آدھا پیالہ…”
میری اپنی آواز باورچی خانے کی دیواروں سے ٹکرائی تو دل کو عجب سی ٹھنڈ پڑی۔
یوں لگا جیسے سنسان گھر میں کسی نے دیا جلا دیا ہو۔
اس دن میں نے کھیر بنائی۔
الائچی بھی دل کھول کر ڈالی۔
چولہے کے آگے کھڑی ہو کر میں یحییٰ سے بولتی رہی:
“لو، آج شکایت کی گنجائش نہیں چھوڑی۔”
کھیر تیار ہوئی تو عادتاً دو پیالیاں نکال لیں۔
پھر خود ہی مسکرا دی۔
بعض عادتیں بھی عجب ہوتی ہیں، بندہ چلا جاتا ہے، مگر پیالی اپنی جگہ مانگتی رہتی ہے۔
میرے نواسے نے مجھے ایک موبائل دیا ہوا تھا۔ کہتا تھا:
“نانو، بس یہ بٹن دبائیں، آواز ریکارڈ ہو جائے گی۔”
میں نے وہی بٹن دبایا اور محلے کے واٹس ایپ گروپ میں وائس نوٹ بھیج دیا۔
“السلام علیکم۔ آج اَمل آرا کھیر بنا رہی ہے۔ چاول دھو لو، دودھ چڑھا لو، اور الائچی کنجوسی سے نہ ڈالنا۔ میرے یحییٰ کہتے تھے، کھیر میں الائچی کم ہو تو میٹھا تو بن جاتا ہے، یاد نہیں بنتی۔”
آخر میں بس اتنا کہا:
“آج بارش ہے… یحییٰ بہت یاد آئے۔”
وائس نوٹ بھیج کر دل دھک دھک کرنے لگا۔
سوچا، لوگ کہیں گے بڑھیا فارغ بیٹھی ہے، اب ترکیبوں سے محلہ سنبھالے گی۔
مگر صبح ایک پیغام آیا:
“خالہ، میں نے آپ والی کھیر بنائی۔ میرا بچہ کئی دن سے کھانا نہیں کھا رہا تھا۔ آج اس نے دو پیالیاں کھائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔”
میں نے موبائل سینے سے لگا لیا۔
وہ رونا دکھ کا نہیں تھا۔
وہ رونا ایسے تھا جیسے سوکھی زمین پر پہلی بوند گرے۔
پھر میں نے ایک اور وائس نوٹ بھیج دیا۔
“آج آلو قیمہ بنائیں گے۔ پیاز بس سنہری کرنی ہے۔ جلا دی تو سمجھو ہانڈی میں ذائقہ نہیں، صدمہ اتر آئے گا۔”
اس کے بعد کسی لڑکے کا پیغام آیا:
“خالہ، امی بیمار ہیں۔ آج پہلی بار ان کے لیے سالن بنایا۔ نمک تیز ہو گیا، مگر امی نے کہا، تیرے ہاتھ کا ہے، میٹھا لگ رہا ہے۔”
بس پھر تو جیسے دل کا بند ٹوٹ گیا۔
جب شام لمبی ہو جاتی
جب صحن میں یحییٰ کی کمی زیادہ بولنے لگتی
جب خاموشی دامن پکڑ لیتی
میں موبائل اٹھاتی اور کوئی نسخہ سنا دیتی۔
کبھی یخنی۔
کبھی دال کا بگھار۔
کبھی ساون کے پکوڑے۔
کبھی نرم روٹی کا راز۔
اور ہر ترکیب کے ساتھ یحییٰ کی کوئی بات بھی نکل آتی۔
“ہانڈی میں جلدی نہ کرو، جلدی کا کام شیطان کا۔”
“مرچ کم ہو تو میز پر رکھی جا سکتی ہے، زبان کی مرچ واپس نہیں آتی۔”
“کھانا وہی اچھا جو کسی کے انتظار میں پکایا جائے۔”
آہستہ آہستہ محلے کا گروپ بدلنے لگا۔
پہلے وہاں پانی، کچرے اور بجلی کی شکایتیں ہوتی تھیں۔
اب لوگ اپنی کہانیاں بھیجنے لگے۔
کوئی کہتا، “خالہ، آج دال بناتے ہوئے مرحوم ابا یاد آ گئے۔”
کوئی لکھتا، “میرے بچے نے پہلی بار کہا، امی گھر کی خوشبو آ رہی ہے۔”
کوئی پوچھتا، “تنہا آدمی کے لیے ایک بندے کا سالن کیسے بنتا ہے؟”
میں سب کو جواب دیتی۔
کبھی ترکیب سے۔
کبھی دعا سے۔
کبھی صرف ایک جملے سے:
“بیٹا، چولہا جل جائے تو گھر ابھی باقی ہے۔”
ایک دن ایک اجنبی نمبر سے لمبا سا پیغام آیا۔
لکھا تھا:
“خالہ، میں آپ کے محلے کی نہیں ہوں۔ کسی نے آپ کا وائس نوٹ آگے بھیجا تھا۔ میری امی پچھلے مہینے فوت ہو گئیں۔ میں امید سے ہوں۔ شوہر بیرون ملک ہے۔ گھر میں لوگ بہت ہیں، مگر دل کا حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ آپ نے کہا تھا آٹا ایسے گوندھو جیسے فکر کو انگلیوں سے نرم کر رہی ہو۔ آج میں نے میٹھی روٹی بنائی۔ گول نہیں بنی، ایک کنارے سے جل گئی۔ مگر جب کھائی تو لگا امی نے ماتھا چوم لیا ہے۔”
میں نے پیغام پڑھا اور دیر تک چپ رہی۔
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب الفاظ نہیں، ہاتھ دیتے ہیں۔
اگلے جمعرات میں آٹا، گھی اور بیلن لے کر اس کے گھر پہنچ گئی۔
دروازہ کھلا تو سامنے ایک زرد سی لڑکی کھڑی تھی۔
آنکھیں بجھی ہوئی، چہرہ تھکا ہوا، جیسے کئی راتوں کی نیند اس سے ناراض ہو۔
مجھے دیکھتے ہی وہ رو پڑی۔
میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“چل بیٹی، پہلے آٹا گوندھتے ہیں۔ آنسو بعد میں بھی اپنا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔”
ہم نے فرش پر اخبار بچھایا۔
آٹا رکھا۔
پانی ڈالا۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں نے اپنی جھریوں بھری ہتھیلی اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔
“آٹا بھی دل جیسا ہوتا ہے۔ زور سے دباؤ تو ٹوٹتا نہیں، بس آہستہ آہستہ نرم ہوتا ہے۔”
وہ روتی رہی۔
میں گوندھتی رہی۔
کبھی وہ چپ ہو جاتی، کبھی سسکی آٹے میں گر پڑتی۔
روٹیاں ٹیڑھی بنیں۔
ایک جل بھی گئی۔
مگر اس دن اس کے باورچی خانے میں صرف روٹی نہیں پکی، اس کے اندر کی ویرانی بھی ذرا سی پگھلی۔
اس کے بعد ہر جمعرات میرے صحن میں محفل لگنے لگی۔
کوئی کھانا سیکھنے آتا۔
کوئی ماں کو یاد کرنے۔
کوئی بیوی کے بعد بچوں کے لیے سالن پکانے۔
کوئی بس اس لیے کہ گھر میں خاموشی بہت شور کرتی تھی۔
ہم پیاز کاٹتے، آنسو آتے تو کوئی بہانہ نہیں بناتا۔
ہم دال دھوتے، پرانی باتیں بھی ساتھ دھلنے لگتیں۔
ہم ہانڈی ہلاتے، اور ہر شخص اپنی اپنی ٹوٹی ہوئی جگہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا۔
پھر محلے کے اسکول نے مجھے بلا لیا۔
کہنے لگے:
“خالہ، بچوں کو دل سے پکانا سکھا دیں۔”
میں ہنس پڑی۔
“میں کون سی استاد ہوں؟”
ہیڈ مسٹریس بولی:
“استاد وہی ہوتا ہے جو سبق کتاب سے نہیں، زندگی سے دے۔”
اسکول کے صحن میں پرانی اینٹوں کا چھوٹا سا چولہا بنایا گیا۔ بچوں نے کاغذ کی تختی لگا دی:
“یحییٰ کا کونا”
میں نے نام پڑھا تو دل بھر آیا۔
مجھے لگا یحییٰ مرے نہیں، بس اپنی جگہ بدل کر بچوں کی ہنسی میں بیٹھ گئے ہیں۔
پہلے دن ایک دبلا سا بچہ میرے پاس آیا۔
قمیض کا بٹن ٹوٹا ہوا تھا، آواز جیسے جیب میں چھپا رکھی ہو۔
بولا:
“خالہ، میری امی بیمار ہیں۔ مجھے سوپ بنانا سکھا دیں گے؟”
میں نے اس کے ہاتھ میں چمچ دیا۔
“ضرور۔ مگر سوپ بناتے ہوئے خاموش نہیں رہنا۔ ماں کے لیے کچھ پکاؤ تو اس سے بات بھی کرتے رہنا۔ کہنا، امی میں نے خود بنایا ہے، بس تھوڑا سا پی لیں۔”
وہ ہانڈی ہلاتا رہا۔
پھر بہت آہستہ سے بولا:
“امی… میں نے بنایا ہے… آپ پی لینا۔”
آواز اتنی مدھم تھی کہ شاید صحن کے آخر تک بھی نہ گئی ہو۔
مگر ہانڈی نے سن لی۔
اور میں نے بھی۔
اس شام گھر واپس آئی تو صحن پہلے جیسا خالی نہیں لگا۔ رات کی رانی کی خوشبو دیوار سے اتر کر میرے پاس آ بیٹھی۔
میں نے یحییٰ کی خالی پیالی الماری میں رکھ دی۔
اب سمجھ آ گیا تھا کہ کچھ خالی جگہیں بھری نہیں جاتیں، ان میں چراغ رکھ دیے جاتے ہیں۔
آج بھی جب بارش ہوتی ہے، میں موبائل اٹھاتی ہوں، ریکارڈ کا بٹن دباتی ہوں اور کہتی ہوں:
“السلام علیکم۔ آج یخنی بنائیں گے۔ پہلے پانی چڑھاؤ، پھر دعا ڈالو، پھر کسی اپنے کا نام لے کر ہانڈی ہلاؤ۔ کھانا صرف پیٹ نہیں بھرتا، کبھی کبھی آدمی کو ٹوٹنے سے بھی بچا لیتا ہے۔”
اب مجھے یقین ہے۔
نیکی ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتی۔
کبھی وہ آٹے کی مٹھی میں چھپی ہوتی ہے۔
کبھی دال کے بگھار میں۔
کبھی ایک بوڑھی عورت کی کانپتی ہوئی آواز میں۔
جو سمجھتی ہے، اسے کوئی نہیں سن رہا۔
اسحالانکہ کہیں نہ کہیں کوئی ضرور سن رہا ہوتا ہے۔
اور کبھی کسی کو سنبھالنے کے لیے لمبی تقریر نہیں چاہیے ہوتی۔
بس ایک نسخہ۔
ایک دعا۔
ایک آواز۔
جو کہے:
“بیٹی، آٹا نرم ہو جائے گا… ہاتھ نہ چھوڑنا۔”
افسانہ: یحییٰ کا کونا
©️ انتخاب سخن
#loneliness #LonelinessToConnection #lonely #SocialWelfare #itsnotovertillitsover