منتخب غزلیں

دلائل سے خدا تک عقلِ انسانی نہیں جاتی وہ اک…

دلائل سے خدا تک عقلِ انسانی نہیں جاتی
وہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی

اسے تو راہ میں اربابِ ہمت چھوڑ دیتے ہیں
کسی کے ساتھ منزل تک تن آسانی نہیں جاتی

کسے ملتی ہیں وہ آنکھیں محبت میں جو روتی ہیں
مبارک ہیں وہ آنسو جن کی ارزانی نہیں جاتی

ابھرتا ہی نہیں دل ڈوب کر بحرِ محبت میں
جب آ جاتی ہے اس دریا میں طغیانی نہیں جاتی

گدائی میں بھی مجھ پر شانِ استغنا برستی ہے
مرے سر سے ہوائے تاجِ سلطانی نہیں جاتی

مقیمِ دل ہیں وہ ارمان جو پورے نہیں ہوتے
یہ وہ آباد گھر ہے جس کی ویرانی نہیں جاتی

کچھ ایسا پرتوِ حُسنِ ازل نے کر دیا روشن
قیامت تک تو اب ذروں کی تابانی نہیں جاتی

کچھ ایسے برگزیده لوگ بھی ہیں جن کے ہاتھوں سے
چھڑا کر اپنا دامن ، پاک دامانی نہیں جاتی

ہجومِ یاس میں بھی زندگی پر مسکراتا ہوں
مصیبت میں بھی میری خندہ پیشانی نہیں جاتی

(مخمور دہلوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/