منتخب غزلیں
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر وہ بھری…

ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
….
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا یوم وفات
Aug 13, 1992
(پیدائش: 4 اکتوبر، 1928ء- وفات: 13 اگست، 1992ء)
——
منتخب کلام
——
سامان دل کو بے سر و سامانیاں ملیں
کچھ اور بھی جواب تھے میرے سوال کے
——
کھینچے ہے مجھے دست جنوں دشت طلب میں
دامن جو بچائے ہیں گریبان گئے ہیں
——
پھرتی تھی لے کے شورش دل کو بہ کو ہمیں
منزل ملی تو شورش دل کا پتا نہ تھا
——
پھر ذہن کی گلیوں میں صدا گونجی ہے کوئی
پھر سوچ رہے ہیں کہیں آواز سنی ہے
——
زلفیں ادھر کھلیں ادھر آنسو امنڈ پڑے
ہیں سب کے اپنے اپنے روابط گھٹا کے ساتھ
——
کیا کیا نہ ترے شوق میں ٹوٹے ہیں یہاں کفر
کیا کیا نہ تری راہ میں ایمان گئے ہیں
——
میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا
میں درد ہوں وہ درد کے عنواں کی طرح تھا
….
پہلے چادر کی ہوس میں پاؤں پھیلائے بہت
اب یہ دکھ ہے پاؤں کیوں چادر سے باہر آ گیا
….
شہر کے آباد سناٹوں کی وحشت دیکھ کر
دل کو جانے کیا ہوا میں شام سے گھر آ گیا
…..
ہمارے دم سے ہے روشن دیار فکر و سخن
ہمارے بعد یہ گلیاں دھواں دھواں ہوں گی
…..
ہر رنگ ہر آہنگ مرے سامنے عاجز
میں کوہ معانی کی بلندی پہ کھڑا ہوں
…..
من دھن سب قربان کیا اب سر کا سودا باقی ہے
ہم تو بکے تھے اونے پونے پیار کی قیمت کم نہ ہوئی
….
دو کنارے ہوں تو سیل زندگی دریا بنے
ایک حد لازم ہے پانی کی روانی کے لیے
…..
میں سرگراں تھا ہجر کی راتوں کے قرض سے
مایوس ہو کے لوٹ گئے دن وصال کے
……
چھلکی ہر موج بدن سے حسن کی دریا دلی
بوالہوس کم ظرف دو چلو میں متوالے ہوئے
……
سامان دل کو بے سر و سامانیاں ملیں
کچھ اور بھی جواب تھے میرے سوال کے
…..
پھرتی تھی لے کے شورش دل کو بہ کو ہمیں
منزل ملی تو شورش دل کا پتا نہ تھا
لفظ جب کوئی نہ ہاتھ آیا معانی کے لیے
کیا مزے ہم نے زبان بے زبانی کے لیے
یہ دوراہا ہے چلو تم رنگ و بو کی کھوج میں
ہم چلے صحرائے دل کی باغبانی کے لیے
زندگی اپنی تھی گویا لمحۂ فرقت کا طول
کچھ مزے ہم نے بھی عمر جاودانی کے لیے
میں بھلا ٹھنڈی ہوا سے کیا الجھتا چپ رہا
پھول کی خوش بو بہت تھی سرگرانی کے لیے
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
راکھ ارمانوں کی گیلی لکڑیاں احساس کی
ہم کو یہ ساماں ملے شعلہ بیانی کے لیے
شمع ہو فانوس سے باہر تو گل ہو جائے گی
بندش الفاظ مت توڑو معانی کے لیے
دو کنارے ہوں تو سیل زندگی دریا بنے
ایک حد لازم ہے پانی کی روانی کے لیے
آج کیوں چپ چپ ہو باقرؔ تم کبھی مشہور تھے
دوستوں یاروں میں اپنی خوش بیانی کے لیے
——
اکثر بیٹھے تنہائی کی زلفیں ہم سلجھاتے ہیں
خود سے ایک کہانی کہہ کر پہروں جی بہلاتے ہیں
دل میں اک ویرانہ لے کر گلشن گلشن جاتے ہیں
آس لگا کر ہم پھولوں سے کیا کیا خاک اڑاتے ہیں
میٹھی میٹھی ایک کسک ہے بھینی بھینی ایک مہک
دل میں چھالے پھوٹ رہے ہیں پھول سے کھلتے جاتے ہیں
بادل گویا دل والے ہیں ٹھیس لگی اور پھوٹ بہے
طوفاں بھی بن جاتے ہیں یہ موتی بھی برساتے ہیں
ہم بھی ہیں اس دیس کے باسی لیکن ہم کو پوچھے کون
وہ بھی ہیں جو تیری گلی کے نام سے رتبہ پاتے ہیں
کانٹے تو پھر کانٹے ٹھہرے کس کو ہوں گے ان سے گلے
لیکن یہ معصوم شگوفے کیا کیا گل یہ کھلاتے ہیں
الجھے الجھے سے کچھ فقرے کچھ بے ربطی لفظوں کی
کھل کر بات کہاں کرتے ہیں باقرؔ بات بناتے ہیں
——
کم ظرف بھی ہے پی کے بہکتا بھی بہت ہے
بھرتا بھی نہیں اور چھلکتا بھی بہت ہے
اللہ کی مرضی کا تو سختی سے ہے پابند
حاکم کی رضا ہو تو لچکتا بھی بہت ہے
کوتاہ قدی کہتی ہے کھٹے ہیں یہ انگور
لیکن گہ و بے گاہ لپکتا بھی بہت ہے
پروا ہے نہ کچھ تال کی نے سر کی خبر ہے
پر ساز پہ دنیا کے مٹکتا بھی بہت ہے
شوریدگی بڑھتی ہے در لیلی زر پر
دیوار پہ یہ سر کو پٹکتا بھی بہت ہے
محفل میں تو سنیے ہوس جاہ پہ تقریر
پہلو میں یہی خار کھٹکتا بھی بہت ہے
باقرؔ جو بھٹکتا ہے معانی کے سفر میں
ہو صورت زیبا تو اٹکتا بھی بہت ہے
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
….
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا یوم وفات
Aug 13, 1992
(پیدائش: 4 اکتوبر، 1928ء- وفات: 13 اگست، 1992ء)
——
منتخب کلام
——
سامان دل کو بے سر و سامانیاں ملیں
کچھ اور بھی جواب تھے میرے سوال کے
——
کھینچے ہے مجھے دست جنوں دشت طلب میں
دامن جو بچائے ہیں گریبان گئے ہیں
——
پھرتی تھی لے کے شورش دل کو بہ کو ہمیں
منزل ملی تو شورش دل کا پتا نہ تھا
——
پھر ذہن کی گلیوں میں صدا گونجی ہے کوئی
پھر سوچ رہے ہیں کہیں آواز سنی ہے
——
زلفیں ادھر کھلیں ادھر آنسو امنڈ پڑے
ہیں سب کے اپنے اپنے روابط گھٹا کے ساتھ
——
کیا کیا نہ ترے شوق میں ٹوٹے ہیں یہاں کفر
کیا کیا نہ تری راہ میں ایمان گئے ہیں
——
میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا
میں درد ہوں وہ درد کے عنواں کی طرح تھا
….
پہلے چادر کی ہوس میں پاؤں پھیلائے بہت
اب یہ دکھ ہے پاؤں کیوں چادر سے باہر آ گیا
….
شہر کے آباد سناٹوں کی وحشت دیکھ کر
دل کو جانے کیا ہوا میں شام سے گھر آ گیا
…..
ہمارے دم سے ہے روشن دیار فکر و سخن
ہمارے بعد یہ گلیاں دھواں دھواں ہوں گی
…..
ہر رنگ ہر آہنگ مرے سامنے عاجز
میں کوہ معانی کی بلندی پہ کھڑا ہوں
…..
من دھن سب قربان کیا اب سر کا سودا باقی ہے
ہم تو بکے تھے اونے پونے پیار کی قیمت کم نہ ہوئی
….
دو کنارے ہوں تو سیل زندگی دریا بنے
ایک حد لازم ہے پانی کی روانی کے لیے
…..
میں سرگراں تھا ہجر کی راتوں کے قرض سے
مایوس ہو کے لوٹ گئے دن وصال کے
……
چھلکی ہر موج بدن سے حسن کی دریا دلی
بوالہوس کم ظرف دو چلو میں متوالے ہوئے
……
سامان دل کو بے سر و سامانیاں ملیں
کچھ اور بھی جواب تھے میرے سوال کے
…..
پھرتی تھی لے کے شورش دل کو بہ کو ہمیں
منزل ملی تو شورش دل کا پتا نہ تھا
لفظ جب کوئی نہ ہاتھ آیا معانی کے لیے
کیا مزے ہم نے زبان بے زبانی کے لیے
یہ دوراہا ہے چلو تم رنگ و بو کی کھوج میں
ہم چلے صحرائے دل کی باغبانی کے لیے
زندگی اپنی تھی گویا لمحۂ فرقت کا طول
کچھ مزے ہم نے بھی عمر جاودانی کے لیے
میں بھلا ٹھنڈی ہوا سے کیا الجھتا چپ رہا
پھول کی خوش بو بہت تھی سرگرانی کے لیے
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
راکھ ارمانوں کی گیلی لکڑیاں احساس کی
ہم کو یہ ساماں ملے شعلہ بیانی کے لیے
شمع ہو فانوس سے باہر تو گل ہو جائے گی
بندش الفاظ مت توڑو معانی کے لیے
دو کنارے ہوں تو سیل زندگی دریا بنے
ایک حد لازم ہے پانی کی روانی کے لیے
آج کیوں چپ چپ ہو باقرؔ تم کبھی مشہور تھے
دوستوں یاروں میں اپنی خوش بیانی کے لیے
——
اکثر بیٹھے تنہائی کی زلفیں ہم سلجھاتے ہیں
خود سے ایک کہانی کہہ کر پہروں جی بہلاتے ہیں
دل میں اک ویرانہ لے کر گلشن گلشن جاتے ہیں
آس لگا کر ہم پھولوں سے کیا کیا خاک اڑاتے ہیں
میٹھی میٹھی ایک کسک ہے بھینی بھینی ایک مہک
دل میں چھالے پھوٹ رہے ہیں پھول سے کھلتے جاتے ہیں
بادل گویا دل والے ہیں ٹھیس لگی اور پھوٹ بہے
طوفاں بھی بن جاتے ہیں یہ موتی بھی برساتے ہیں
ہم بھی ہیں اس دیس کے باسی لیکن ہم کو پوچھے کون
وہ بھی ہیں جو تیری گلی کے نام سے رتبہ پاتے ہیں
کانٹے تو پھر کانٹے ٹھہرے کس کو ہوں گے ان سے گلے
لیکن یہ معصوم شگوفے کیا کیا گل یہ کھلاتے ہیں
الجھے الجھے سے کچھ فقرے کچھ بے ربطی لفظوں کی
کھل کر بات کہاں کرتے ہیں باقرؔ بات بناتے ہیں
——
کم ظرف بھی ہے پی کے بہکتا بھی بہت ہے
بھرتا بھی نہیں اور چھلکتا بھی بہت ہے
اللہ کی مرضی کا تو سختی سے ہے پابند
حاکم کی رضا ہو تو لچکتا بھی بہت ہے
کوتاہ قدی کہتی ہے کھٹے ہیں یہ انگور
لیکن گہ و بے گاہ لپکتا بھی بہت ہے
پروا ہے نہ کچھ تال کی نے سر کی خبر ہے
پر ساز پہ دنیا کے مٹکتا بھی بہت ہے
شوریدگی بڑھتی ہے در لیلی زر پر
دیوار پہ یہ سر کو پٹکتا بھی بہت ہے
محفل میں تو سنیے ہوس جاہ پہ تقریر
پہلو میں یہی خار کھٹکتا بھی بہت ہے
باقرؔ جو بھٹکتا ہے معانی کے سفر میں
ہو صورت زیبا تو اٹکتا بھی بہت ہے


