میں جو رویا ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے حسن کی…

حسن کی فطرت میں شامل ہے محبت کا مزاج
—
علامہ انورؔ صابری کا یومِ وفات
13؍ اگست 1980
عالم ،دانشور، مجاہد آزادی اورخطیب، اپنی شاعری میں مستانہ روی اور صوفیانہ رنگ کے لیے معروف شاعر
رونق علی شاہ۔ اور قلمی نام علامہ انورؔ صابریؔ 10؍مئی 1901ء کو پاک پٹن میں پیدا ہوئے۔ 13؍اگست 1980ء کو دیوبند میں انتقال کرگئے۔
منتخب اشعار
…
آپ کرتے جو احترامِ بتاں
بتکدے خود خدا خدا کرتے
—
ہر سانس میں خود اپنے نہ ہونے کا گماں تھا
وہ سامنے آئے تو مجھے ہوش کہاں تھا
—
وقت جب کروٹیں بدلتا ہے
فتنۂ حشر ساتھ چلتا ہے
—
آدمیت کے سوا جس کا کوئی مقصد نہ ہو
عمر بھر اس آدمی کی جستجو کرتے رہو
—
جفا و جور مسلسل وفا و ضبطِ الم
وہ اختیار تمہیں ہے یہ اختیار مجھے
—
اف وہ معصوم و حیا ریز نگاہیں جن پر
قتل کے بعد بھی الزام نہیں آتا ہے
—
روز آپس میں لڑا کرتے ہیں اربابِ خرد
کوئی دیوانہ الجھتا نہیں دیوانے سے
—
جینے والے ترے بغیر اے دوست
مر نہ جاتے تو اور کیا کرتے
—
ظلمتوں میں روشنی کی جستجو کرتے رہو
زندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہو
—
جب زمانے کا غم اٹھا نہ سکے
ہم ہی خود اٹھ گئے زمانے سے
—
تمام عمر قفس میں گزار دی ہم نے
خبر نہیں کہ نشیمن کی زندگی کیا ہے
—
انورؔ مرے کام آئی قیامت میں ندامت
رحمت کا تقاضا مرا ہر اشکِ رواں تھا
—
مایوس نہ ہو بے رخیٔ چشمِ جہاں سے
شائستۂ احساس کوئی کام کیے جا
—
میں ہوں انورؔ ان کی ذاتِ پاک کا ادنیٰ غلام
ہے سرِ اقدس پہ جن کے رحمتِ یزداں کا تاج
—


