منتخب غزلیں

ٰیوں زمانے میں مرا جسم بکھر جائے گا مرے انجام سے …

ٰیوں زمانے میں مرا جسم بکھر جائے گا
مرے انجام سے ہر پھول نکھر جائے گا

جام خالی ہے، صراحی سے لہو بہتا ہے
آج کی رات وہ مہتاب کدھر جائے گا

سیلِ گریہ مری آنکھوں سے یہ کہہ جاتا ہے
بستیاں روئیں تو دریا بھی اتر جائے گا

تو کوئی ابرِ گہر بار سمندر کے لیے
دل کے صحرا سے جو چپ چاپ گزر جائے گا

آج یہ زلفِ پریشاں ہے زمانے کے لیے
کل یہی دور کسی طور سنور جائے گا

تیری ہر بات پہ مر جاتا ہوں مرتا بھی نہیں
کہ مری موت میں انساں کوئی مر جائے گا

اشک موتی سے بکھر جائیں گے راہوں میں جہاں
سُوئے منزل بھی مرا دیدۂ تر جائے گا

میں مکیں ہوں نہ مکاں شہرِ محبت کا ظفر
دل مسافر نہ کسی غیر کے گھر جائے گا

(احمد ظفر)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/