ایک سو چودہ دن تک وہ ایک ہی گانا کی فرمائش کرتا …
میرا نام ساحر ہے۔
میں اسلام آباد کے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن، صدائے شہر 98.3، پر رات کی شفٹ کرتا ہوں۔
رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے تک۔
دن کے وقت یہی اسٹیشن ہنستا بولتا رہتا ہے۔ کبھی ٹریفک اپڈیٹ، کبھی سیاست دانوں کے فون، کبھی مارننگ شو میں زبردستی کی ہنسی، کبھی کسی برانڈ کے اشتہار میں خوشی بیچتی ہوئی آوازیں۔
مگر رات کا ریڈیو الگ ہوتا ہے۔
رات کے ریڈیو پر لوگ گانا سننے نہیں آتے۔
وہ اپنی خاموشی کسی اور کی آواز میں رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے ہلکے ہو جاتے ہیں۔
میری شفٹ میں زیادہ تر وہی لوگ کال کرتے تھے جنہیں نیند نہیں آتی تھی۔
کبھی لاہور سے راولپنڈی آتا ہوا ٹرک ڈرائیور۔
کبھی پمز کے باہر بیٹھا کوئی تیماردار۔
کبھی موٹروے پر ڈیوٹی دیتا کوئی کانسٹیبل۔
کبھی کوئی لڑکا جو محبت میں ناکام نہیں ہوا ہوتا، بس خود سے ہار گیا ہوتا۔
اور کبھی کوئی ایسی عورت جس کی آواز بتاتی تھی کہ گھر میں سب سو چکے ہیں مگر اس کے اندر ابھی تک دن ختم نہیں ہوا۔
میں ان سب کو سن لیتا تھا۔
یہ میرا کام تھا۔
یا شاید وقت کے ساتھ یہ کام سے زیادہ عبادت جیسی کوئی چیز بن گیا تھا۔
لیکن یہ بات مجھے بہت دیر بعد سمجھ آئی۔
پہلی بار وہ کال سردیوں کی ایک رات آئی۔
گھڑی پر ایک بج کر پندرہ منٹ ہو رہے تھے۔
اسٹوڈیو کی کھڑکی کے باہر مارگلہ کی طرف سے دھند اتر رہی تھی۔ کمرے میں صرف مانیٹر کی نیلی روشنی تھی، ایک چائے کا کپ تھا جس کی سطح پر دودھ کی پتلی سی جھلی جم چکی تھی، اور میں تھا۔
فون کی لائن چمکی۔
میں نے معمول کے لہجے میں کہا:
“صدائے شہر 98.3، رات کا ہمسفر، ساحر بول رہا ہوں۔ کون اور کہاں سے؟”
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ایک بوڑھی، تھکی ہوئی آواز آئی۔
“بیٹا… ایک گانا لگا دیں۔”
میں نے مسکرا کر کہا:
“جی ضرور، کون سا؟”
آواز نے آہستہ سے کہا:
“آج جانے کی ضد نہ کرو۔”
میں نے پوچھا:
“کس کی آواز میں؟”
وہ خاموش رہا، جیسے سوال سمجھنے میں وقت لگ رہا ہو۔
پھر بولا:
“وہی… پرانی والی۔ لمبی والی۔”
میں سمجھ گیا۔
یہ گانا رات کے سامعین میں ویسے ہی چلتا تھا جیسے سردی میں لکڑی کی آگ۔ کسی نے کبھی بتایا نہیں، مگر سب جانتے تھے کہ یہ گانا دل کی کس جگہ جا کر بیٹھتا ہے۔
میں نے وہ گانا لگا دیا۔
تقریباً آٹھ منٹ تک اسٹوڈیو میں آواز پھیلی رہی۔
میں نے سوچا، کوئی بزرگ آدمی ہو گا۔ پرانی یاد میں گانا سننا چاہتا ہو گا۔ ایسی کالیں آتی رہتی تھیں۔
اگلی رات پھر اسی وقت فون آیا۔
ایک بج کر پندرہ منٹ۔
وہی نمبر۔
وہی خاموشی۔
وہی بوڑھی آواز۔
“بیٹا… آج جانے کی ضد نہ کرو لگا دیں۔”
میں ہنسا۔
“چچا، کل ہی تو لگایا تھا۔ آج کوئی اور سن لیں؟”
دوسری طرف خاموشی رہی۔
پھر وہی درخواست۔
“بس وہی لگا دیں۔”
میں نے گانا لگا دیا۔
تیسری رات بھی وہی ہوا۔
چوتھی رات بھی۔
پانچویں رات بھی۔
پہلے ہفتے تک میں نے اسے ایک معصوم سی ضد سمجھا۔
دوسرے ہفتے میں مجھے کوفت ہونے لگی۔
ریڈیو میں ایک اصول تھا کہ رات کے شو میں ایک ہی گانا مسلسل نہیں دہرایا جائے گا۔ سامعین بدلتے رہتے ہیں، ذوق بدلتا رہتا ہے، اور اوپر سے منیجر کو شکایت کا بہت شوق تھا۔
جب چودھویں رات وہی کال آئی تو میں نے ذرا سخت لہجے میں کہا:
“چچا، یہ ریڈیو اسٹیشن ہے، آپ کا ذاتی ٹیپ ریکارڈر نہیں۔ ہر رات ایک ہی گانا نہیں چل سکتا۔ کوئی اور فرمائش کر لیں۔”
دوسری طرف صرف سانس کی آواز آئی۔
پھر بزرگ نے بہت آہستہ سے کہا:
“آج جانے کی ضد نہ کرو…”
میں نے کہا:
“میں سمجھ گیا، مگر آج نہیں ہو سکتا۔”
فون کٹ گیا۔
میں نے کندھے اچکائے اور اگلا گانا لگا دیا۔
لیکن اگلی رات وہ پھر آئے۔
اسی وقت۔
ایک بج کر پندرہ منٹ۔
کبھی ایک منٹ آگے نہیں۔
کبھی ایک منٹ پیچھے نہیں۔
دفتر میں بات پھیل گئی۔
دن کی شفٹ والے آر جے حارث نے میرا مذاق بنانا شروع کر دیا۔
“لو جی، ساحر صاحب کے عاشقِ قدیم کا آج کون سا دن ہے؟”
پروڈیوسر ندا نے ایک کاغذ پر تاریخیں لکھنی شروع کر دیں۔
“دیکھتے ہیں چچا کب ہار مانتے ہیں۔”
کسی نے کہا:
“شاید کوئی پاگل ہے۔”
کسی نے کہا:
“شاید تنہا ہے۔”
کسی نے کہا:
“بلاک کر دو نمبر۔”
میں ہر رات خود سے یہی کہتا تھا کہ آج نہیں چلاؤں گا۔
مگر جب وہ آواز لائن پر آتی، میرے اندر کچھ نرم پڑ جاتا۔
وہ فرمائش نہیں کرتا تھا۔
وہ جیسے دروازہ کھٹکھٹاتا تھا۔
اور میں ہر رات سوچتا تھا، شاید آج آخری بار ہو۔
مگر آخری بار آتی ہی نہیں تھی۔
سینتالیسویں رات میں نے ہمت کر کے پوچھ لیا۔
“چچا، سچ بتائیں، اس گانے کا قصہ کیا ہے؟ آپ ہر رات یہی کیوں سنتے ہیں؟”
دوسری طرف بہت لمبی خاموشی ہوئی۔
اتنی لمبی کہ مجھے لگا لائن کٹ گئی ہے۔
پھر آواز آئی:
“قصہ…؟”
میں نے نرمی سے کہا:
“جی۔ کوئی یاد ہے؟ کوئی خاص بات؟”
وہ کچھ دیر سانس لیتے رہے۔
پھر بولے:
“بس لگا دیں بیٹا۔ پلیز۔”
اس “پلیز” میں ایسی تھکن تھی کہ میں شرمندہ ہو گیا۔
میں نے گانا لگا دیا۔
اس رات پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ شاید یہ ضد نہیں ہے۔
شاید کسی کی آخری بچی ہوئی ڈوری ہے۔
بیاسی ویں دن منیجر نے مجھے دفتر میں بلا لیا۔
صبح کے ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ میں پوری رات جاگ کر چائے کے سہارے بیٹھا تھا۔ اس نے عینک اتاری، میز پر رکھی اور کہا:
“ساحر، یہ روز ایک ہی گانا کیا قصہ ہے؟”
میں نے لاپرواہی سے کہا:
“ایک بزرگ سامع ہیں۔ رات کو کال کرتے ہیں۔”
اس نے فائل بند کی۔
“سامع نہیں، مسئلہ ہیں۔ شکایات آ رہی ہیں۔ ہماری پالیسی ہے، روز ایک ہی ٹریک نہیں چل سکتا۔ اور وہ کال بھی عجیب وقت پر آتی ہے۔ نمبر بلاک کر دو۔”
میں خاموش رہا۔
اس نے سخت لہجے میں کہا:
“یہ جذباتی ہونے کی جگہ نہیں ہے۔ ریڈیو پروفیشنل میڈیم ہے۔”
میں نے سر ہلا دیا۔
“جی، دیکھتا ہوں۔”
لیکن میں نے نمبر بلاک نہیں کیا۔
مجھے نہیں معلوم کیوں۔
شاید اس لیے کہ رات کے ایک بج کر پندرہ منٹ پر انسان پروفیشنل نہیں رہتا۔
وہ تھوڑا سا انسان رہ جاتا ہے۔
اکانوے ویں رات فون آیا تو میں نے کال اٹھاتے ہی کہا:
“چچا، گانا لائن میں لگا ہوا ہے۔ ایک بج کر تیس منٹ پر چلے گا۔”
دوسری طرف خاموشی رہی۔
پھر ایک بہت مدھم آواز آئی:
“شکریہ، بیٹا۔”
یہ وہ پہلی رات تھی جب مجھے لگا کہ میں کوئی گانا نہیں چلا رہا۔
میں کسی کے کمرے میں چراغ رکھ رہا ہوں۔
ایک سو چودھویں رات میں اسٹوڈیو میں معمول سے پہلے آ گیا۔
موسم بدل چکا تھا۔ سردی کم ہو رہی تھی۔ راتوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ سڑکوں پر دیر تک گاڑیاں چلنے لگی تھیں۔
میں نے گھڑی دیکھی۔
ایک بج کر چودہ منٹ۔
میں خود بخود فون لائن کو دیکھنے لگا۔
ایک بج کر پندرہ منٹ ہوئے۔
لائن چمکی۔
میں نے مسکرا کر کال اٹھائی۔
“صدائے شہر 98.3، ساحر بول رہا ہوں۔ چچا، آج بھی وہی؟”
دوسری طرف بوڑھی آواز نہیں تھی۔
ایک عورت تھی۔
نسبتاً جوان۔
لیکن اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی۔
“آپ ساحر ہیں؟”
میں سیدھا بیٹھ گیا۔
“جی۔ آپ کون؟”
اس نے کہا:
“میں حنا بول رہی ہوں۔ یہ کال… اسی گانے کے بارے میں ہے۔ جو ابو روز سنتے تھے۔”
میرے ہاتھ خودبخود میز پر رک گئے۔
میں نے آہستہ سے پوچھا:
“چچا ٹھیک ہیں؟”
دوسری طرف رونے کی دبائی ہوئی آواز آئی۔
“ابو آج صبح انتقال کر گئے۔”
اسٹوڈیو میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔
ایسی خاموشی جسے مائیک بھی سن لیتا ہے۔
میں نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ حلق میں پھنس گئے۔
حنا بولتی رہی۔
“مجھے لگا آپ کو بتا دوں۔ آپ انتظار کرتے ہوں گے شاید۔”
میں نے بہت مشکل سے کہا:
“اللہ مغفرت کرے۔ میں… میں انہیں جانتا بھی نہیں تھا، مگر…”
میری بات ادھوری رہ گئی۔
وہ بولی:
“وہ بھی آپ کو نہیں جانتے تھے۔ مگر آپ کی آواز پہچانتے تھے۔”
میں خاموش ہو گیا۔
حنا نے سانس بھری۔
“ابو کو ڈیمینشیا تھا۔ شروع شروع میں وہ بس چیزیں بھولتے تھے۔ چابی کہاں رکھی، نماز پڑھ لی یا نہیں، دوپہر کا کھانا کھایا یا نہیں۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ بھولنے لگے۔ رشتے بھولنے لگے۔ کبھی مجھے بہن سمجھتے، کبھی اپنی ماں۔ کبھی اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے کہتے، مجھے گھر لے چلو۔”
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ بولتی رہی:
“امی کو پانچ سال پہلے کینسر لے گیا۔ ابو ان کے بعد جیسے آدھے رہ گئے تھے۔ مگر بیماری نے عجیب ظلم کیا۔ وہ امی کا چہرہ بھول گئے، نام بھول گئے، قبرستان کا راستہ بھول گئے۔ لیکن ایک چیز نہیں بھولی۔”
مجھے جواب معلوم تھا۔
پھر بھی میں نے کچھ نہیں کہا۔
حنا نے کہا:
“یہ گانا۔”
اس کی آواز بھر آئی۔
“ابو کہتے تھے، یہی گانا چل رہا تھا جب انہوں نے امی کو شادی کے لیے پوچھا تھا۔ سنہ بانوے میں۔ راولپنڈی صدر کے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں۔ ابو واپڈا میں کلرک تھے، امی اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ دونوں خاندانوں کو اعتراض تھا کہ لڑکی نوکری کرتی ہے، لڑکا زیادہ کماتا نہیں۔ مگر ابو کہتے تھے، اس رات ریسٹورنٹ میں یہ گانا لگا، اور امی نے چائے کے کپ کے پیچھے منہ چھپا کر بس اتنا کہا تھا، گھر والوں سے بات کر لیں۔”
حنا ہلکا سا ہنسی۔
وہ ہنسی نہیں تھی۔
یاد کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا تھا۔
“ابو کہتے تھے، وہ میری زندگی کا سب سے بڑا ہاں تھا۔”
میں نے میز پر پڑا پین اٹھایا، پھر واپس رکھ دیا۔
حنا نے کہا:
“بیماری کے آخر میں وہ رات کو بہت بے چین ہو جاتے تھے۔ کبھی دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگتے۔ کبھی کہتے، مجھے ناہید کو لینے جانا ہے۔ ناہید میری امی کا نام تھا۔ ہم انہیں سمجھاتے کہ امی نہیں رہیں، وہ رونے لگتے۔ پھر ڈاکٹر نے کہا، ایسی چیزیں ڈھونڈیں جو انہیں سکون دیتی ہوں۔ پرانی تصویریں، خوشبو، آواز، گانا…”
وہ رک گئی۔
“ایک رات اتفاق سے آپ کے شو میں یہ گانا چل گیا۔ ابو بالکل خاموش ہو گئے۔ پورے آٹھ منٹ۔ نہ روئے، نہ اٹھے، نہ گھبرائے۔ بس ریڈیو کے پاس بیٹھے رہے۔ پھر آخر میں مسکرا کر بولے، ناہید چائے ٹھنڈی ہو جائے گی۔”
میرے سینے میں کچھ بھاری سا آ کر بیٹھ گیا۔
حنا نے کہا:
“اگلی رات انہوں نے خود کہا، وہی ریڈیو لگاؤ۔ پھر وہ وقت یاد رکھنے لگے۔ عجیب بات ہے نا؟ انہیں میرا نام یاد نہیں رہتا تھا، مگر ایک بج کر پندرہ منٹ یاد رہتا تھا۔”
میں نے بہت آہستہ سے پوچھا:
“تو کال آپ کرتی تھیں؟”
“جی۔ میں نمبر ملاتی تھی، فون ابو کو دے دیتی تھی۔ کبھی وہ بول لیتے تھے، کبھی صرف سنتے تھے۔ کئی راتوں میں وہ کچھ سمجھتے نہیں تھے، مگر جیسے ہی گانا شروع ہوتا، ان کے چہرے پر وہی پرانی روشنی آ جاتی تھی۔ آٹھ منٹ کے لیے وہ بیمار نہیں رہتے تھے۔ وہ پھر وہی جوان آدمی بن جاتے تھے جو صدر کے ریسٹورنٹ میں ایک لڑکی سے ڈرتے ڈرتے نکاح کا پوچھ رہا تھا۔”
میں نے مائیک سے منہ دور کر لیا۔
مجھے لگا میری سانس سنائی دے جائے گی۔
“آپ نے کئی دفعہ منع بھی کیا،” حنا نے نرمی سے کہا، “مجھے برا نہیں لگا۔ آپ کا بھی کام تھا۔ لیکن آپ نے پھر بھی چلایا۔ حتیٰ کہ جب شاید آپ کو تنگی ہوتی ہو گی۔ مجھے نہیں معلوم آپ کے لیے وہ آٹھ منٹ کیا تھے، مگر ہمارے گھر میں وہ آٹھ منٹ ابو کی زندگی کے آخری روشن کمرے تھے۔”
میں نے کہا:
“حنا صاحبہ، کاش آپ پہلے بتا دیتیں۔”
وہ بولی:
“کبھی کبھی انسان اپنی مجبوری کی تفصیل نہیں بتا پاتا۔ بس دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہے۔”
میں بالکل خاموش ہو گیا۔
اس نے آخر میں کہا:
“آج وہ نہیں سنیں گے۔ مگر اگر ہو سکے تو ایک بار لگا دیں۔ امی کے لیے۔ ابو کے لیے۔ اور میرے لیے بھی۔ آج گھر بہت خالی ہے۔”
کال کٹ گئی۔
میں نے گھڑی دیکھی۔
ایک بج کر بائیس منٹ۔
میری پلے لسٹ میں اگلا گانا کوئی نیا فلمی گیت تھا۔
میں نے اسے ہٹا دیا۔
اور وہی پرانی ریکارڈنگ لگا دی۔
اس رات میں نے پہلی بار وہ گانا پورا سنا۔
بطور آر جے نہیں۔
بطور انسان۔
اس کے بعد آٹھ منٹ تک میں نے کوئی اعلان نہیں کیا۔ کوئی شو کا نام نہیں لیا۔ کوئی اسپانسر نہیں پڑھا۔ کوئی “آپ سن رہے ہیں” نہیں کہا۔
بس اسٹوڈیو میں بیٹھا رہا۔
مجھے ایسا لگا جیسے راولپنڈی صدر کے کسی پرانے ریسٹورنٹ میں ایک میز اب بھی رکھی ہے۔ اس پر دو چائے کے کپ ہیں۔ ایک لڑکا ہے جو ہمت جمع کر رہا ہے۔ ایک لڑکی ہے جو آنکھیں جھکا کر مسکرا رہی ہے۔ باہر 1992 کی شام ہے۔ اندر ایک گانا چل رہا ہے۔ اور وقت، جو سب کچھ چھین لیتا ہے، آٹھ منٹ کے لیے دروازے پر رک گیا ہے۔
اگلی رات ایک بج کر پندرہ منٹ پر کوئی کال نہیں آئی۔
میں نے خود وہ گانا لگا دیا۔
اس سے اگلی رات بھی۔
پھر تیسری رات بھی۔
چوتھی رات منیجر نے پوچھا:
“یہ دوبارہ شروع ہو گیا؟ اب تو وہ کال بھی نہیں آتی۔”
میں نے کہا:
“اسٹیشن پالیسی ہے۔”
وہ مجھے گھورنے لگا۔
“کون سی پالیسی؟”
میں نے مائیک کی طرف دیکھا۔
“رات کے ایک بج کر پندرہ منٹ پر آٹھ منٹ خاموشی کی پالیسی۔”
وہ کچھ سمجھا نہیں۔
اچھا ہی ہوا۔
کچھ باتیں سمجھانے سے چھوٹی ہو جاتی ہیں۔
پہلے پہل سامعین نے شکایت کی۔
“بھائی روز یہی گانا کیوں؟”
“کچھ نیا بھی چلا لیا کریں۔”
“یہ 98.3 ہے یا پرانی کیسٹ؟”
میں ہر بار ہنس کر کہتا:
“رات کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔”
مگر رفتہ رفتہ عجیب چیز ہونے لگی۔
ایک رات جہلم کے قریب سے ایک ٹرک ڈرائیور کی کال آئی۔
“ساحر بھائی، میں وہ گانا شروع ہوتے ہی گاڑی سائیڈ پر لگا لیتا ہوں۔ چائے پیتا ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کیوں، مگر دل تھوڑا نرم ہو جاتا ہے۔”
ایک رات ایک نرس نے پمز سے میسج کیا:
“ہماری نائٹ ڈیوٹی میں جب یہ گانا لگتا ہے نا، ہم دو منٹ کے لیے وارڈ کی لائٹس کو دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لگتا ہے کوئی ہمارے لیے بھی دعا کر رہا ہے۔”
ایک رات موٹروے پولیس کے ایک افسر نے کہا:
“مجھے گانا پسند نہیں تھا۔ اب بھی شاید نہیں ہے۔ مگر روز ایک ہی وقت پر یہ سن کر لگتا ہے کہ ملک بھر میں کچھ لوگ ایک ہی لمحے سانس لے رہے ہیں۔”
پھر کسی نے سوشل میڈیا پر لکھ دیا:
“صدائے شہر پر رات ایک بج کر پندرہ منٹ کا گانا مت چھوڑنا۔ وجہ معلوم نہیں، مگر دل کو روک لیتا ہے۔”
وجہ واقعی بہت کم لوگوں کو معلوم تھی۔
اور میں نے کبھی بتائی بھی نہیں۔
کیونکہ یہ حنا کے ابو کی امانت تھی۔
ان کا نام رفیق احمد تھا۔
یہ بات بھی مجھے بعد میں حنا کے ایک میسج سے معلوم ہوئی۔
رفیق احمد، سابق کلرک، واپڈا راولپنڈی۔
بیوی: ناہید رفیق، سابقہ پرائمری اسکول ٹیچر۔
شادی: 1992۔
محبت: آٹھ منٹ کی ایک دھن میں محفوظ۔
مرض نے ان سے سب کچھ لے لیا تھا۔
بیٹی کا نام۔
گھر کا نقشہ۔
نمازوں کی ترتیب۔
بیوی کا چہرہ۔
اپنی عمر۔
اپنی جیب میں رکھی ہوئی دوا۔
لیکن ایک گانا نہیں لے سکا۔
کبھی کبھی محبت دماغ میں نہیں رہتی۔
وہ جسم کی کسی گہری تہہ میں رہ جاتی ہے۔
انگلیوں کی کپکپاہٹ میں۔
آنکھوں کے پانی میں۔
کسی مخصوص وقت کی بے چینی میں۔
ریڈیو کی ایک فریکوئنسی میں۔
اور ایک ایسے گانے میں جس کے شروع ہوتے ہی بوڑھا آدمی چند لمحوں کے لیے پھر جوان ہو جاتا ہے۔
اب چھ مہینے گزر چکے ہیں۔
میں آج بھی ہر رات ایک بج کر پندرہ منٹ پر وہ گانا چلاتا ہوں۔
نہ کوئی فرمائش آتی ہے۔
نہ کوئی بوڑھی آواز کہتی ہے، “بیٹا، وہی لگا دیں۔”
لیکن میں پھر بھی لگاتا ہوں۔
کچھ چیزیں پسند کے لیے نہیں ہوتیں۔
ضرورت کے لیے ہوتی ہیں۔
اور کبھی کبھی کسی ایک انسان کی ضرورت، آہستہ آہستہ بہت سے لوگوں کی پناہ بن جاتی ہے۔
میرے لیے اب وہ گانا گانا نہیں رہا۔
وہ ایک چھوٹی سی مجلس ہے۔
جس میں ایک فوت شدہ ماں ہے۔
ایک بھولا ہوا باپ ہے۔
ایک بیٹی ہے جو ہر رات اپنے باپ کو یادداشت کے اندھیرے سے آٹھ منٹ کے لیے واپس بلاتی رہی۔
اور کچھ اجنبی لوگ ہیں جو پاکستان کی سڑکوں، اسپتالوں، چوکیاں، کمروں اور تنہائیوں میں اس وقت اپنے اپنے دکھ کو ذرا سا نیچے رکھ دیتے ہیں۔
رات کے ایک بج کر پندرہ منٹ پر دنیا بہت بڑی نہیں رہتی۔
بس ایک ریڈیو رہ جاتا ہے۔
ایک دھن رہ جاتی ہے۔
اور ایک یقین رہ جاتا ہے کہ انسان مکمل طور پر تب تک نہیں جاتا جب تک کوئی اس کی ایک عادت، ایک وقت، ایک دعا، ایک گانا سنبھالے رکھتا ہے۔
رفیق احمد صاحب کو شاید آخر میں بہت کچھ یاد نہیں تھا۔
مگر انہیں محبت کی آواز یاد تھی۔
اور اب وہ آواز صرف ان کی نہیں رہی۔
وہ ہر اس شخص کی ہے جو رات کے کسی سنسان موڑ پر، کسی خالی کمرے میں، کسی اسپتال کی راہداری میں، کسی ٹرک کے کیبن میں، یا اپنے ہی دل کے اندھیرے میں بیٹھا ایک وجہ ڈھونڈ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی دیر اور ٹھہر جائے۔
آٹھ منٹ۔
ہر رات۔
ایک بج کر پندرہ منٹ۔
یہی میری ڈیوٹی ہے۔
یہی میری خاموش دعا ہے۔
©️ انتخاب سخن
~ Faizaan ~