منتخب نظمیں
دنیا کے نامور لکھاری کرٹ وونیگٹ (Kurt Vonnegut) نے…
دنیا کے نامور لکھاری کرٹ وونیگٹ (Kurt Vonnegut) نے ایک بار اپنی زندگی کا ایک بظاہر معمولی مگر معنی خیز قصہ سنایا۔ ایک صبح وہ گھر سے نکلنے لگے تو اہلیہ نے پوچھا، "کہاں جا رہے ہو؟” وونیگٹ نے جواب دیا، "بس مارکیٹ تک جا رہا ہوں، ایک لفافہ خریدنا ہے۔”
اہلیہ مسکرائیں اور ایک مشورہ دیا جو آج کے دور کے ہر ‘دانشور’ کا مشورہ ہو سکتا ہے۔ وہ بولیں، "تم اتنے بڑے آدمی ہو، اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟ انٹرنیٹ کھولو، سو لفافوں کا آرڈر دو، ڈلیوری والا گھر دے جائے گا، انہیں الماری میں رکھو اور سکون سے بیٹھو۔”
وونیگٹ لکھتا ہے کہ میں نے یہ بات سنی، مگر ان سنی کر دی۔ میں نے جوتے پہنے اور گھر سے باہر نکل گیا۔ کیوں؟ کیا میرے پاس پیسے نہیں تھے؟ یا میں ٹیکنالوجی سے نابلد تھا؟ نہیں۔ اصل وجہ وہ ‘لفافہ’ نہیں تھا، اصل وجہ وہ ‘سفر’ تھا جو اس ایک لفافے کی خریداری کے بہانے طے ہونا تھا۔
وہ لکھتا ہے کہ جب میں گلی میں نکلا تو مجھے زندگی ملی۔ میں نے سڑک پار کرتے ہوئے ایک خوبصورت بچے کو دیکھا اور اس کی معصومیت پر مسکرایا۔ میں تھوڑا آگے بڑھا تو فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی سائرن بجاتی گزری، میں نے رک کر اسے ‘تھمبز اپ’ کیا اور ان گمنام ہیروز کی ہمت کو داد دی۔ راستے میں ایک خاتون اپنے کتے کو ٹہلا رہی تھیں، میں رکا، ان سے کتے کی نسل پوچھی، دو باتیں کیں اور آگے بڑھ گیا۔
دوستو! اس چھوٹی سی بات میں کائنات کا سب سے بڑا سبق چھپا ہے۔ ہم اس زمین پر صرف ‘پروڈکٹیو’ ہونے، بل جمع کرانے یا الماریاں بھرنے نہیں آئے۔ ہم یہاں ‘آوارہ گردی’ کرنے آئے ہیں۔ ہم یہاں مٹی کی خوشبو سونگھنے، لوگوں سے ہاتھ ملانے اور بلاوجہ مسکرانے آئے ہیں۔
وونیگٹ ایک کمال کی بات کرتا ہے، وہ کہتا ہے: **”ہم رقص کرنے والے جانور ہیں” (Dancing Animals)۔** قدرت نے ہمیں حرکت کے لیے بنایا ہے۔ ہمارے بدن کی مٹی رقص چاہتی ہے، اسے چلنا پھرنا اور دوسروں سے ملنا پسند ہے۔ مگر افسوس! یہ کمپیوٹر، یہ انٹرنیٹ اور یہ ٹیکنالوجی ہمیں اس رقص سے محروم کر رہی ہے۔ یہ ہمیں کمروں میں بند کر رہی ہے۔ یہ ہمیں ‘لفافہ’ تو گھر پر دے دیتی ہے، مگر وہ ‘مسکراہٹ’ چھین لیتی ہے جو اس لفافے کو لاتے ہوئے کسی اجنبی سے ملنی تھی۔
آج کا انسان ‘اسکرین’ کا قیدی بن چکا ہے۔ کمپیوٹر بنانے والوں کو اس سے غرض نہیں کہ آپ کی روح پیاسی ہے، انہیں صرف اس سے مطلب ہے کہ آپ کا وقت کیسے ‘سیو’ (Save) کیا جائے۔ مگر یاد رکھیے، جو وقت زندگی جینے میں صرف نہ ہو، وہ وقت بچا کر آپ کیا کریں گے؟
وونیگٹ کہتا ہے، "اٹھو! ذرا حرکت کرو، باہر نکلو، یا کم از کم جہاں بیٹھے ہو وہیں تھوڑا سا رقص ہی کر لو۔” کیونکہ اگر تم نے حرکت چھوڑ دی، اگر تم نے بلاوجہ کی آوارہ گردی اور لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا، تو تم انسان نہیں رہو گے، تم بھی ایک ‘سافٹ ویئر’ بن جاؤ گے جو صرف کمانڈز پر چلتا ہے۔
خدارا! اپنی الماریاں لفافوں سے نہ بھریں، اپنی زندگی یادوں اور ملاقاتوں سے بھریں۔ جائیے، ایک لفافہ خریدنے کے بہانے پوری دنیا دیکھ آئیے۔ یہی زندگی ہے۔ باقی سب محض ڈیٹا ہے۔
اہلیہ مسکرائیں اور ایک مشورہ دیا جو آج کے دور کے ہر ‘دانشور’ کا مشورہ ہو سکتا ہے۔ وہ بولیں، "تم اتنے بڑے آدمی ہو، اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟ انٹرنیٹ کھولو، سو لفافوں کا آرڈر دو، ڈلیوری والا گھر دے جائے گا، انہیں الماری میں رکھو اور سکون سے بیٹھو۔”
وونیگٹ لکھتا ہے کہ میں نے یہ بات سنی، مگر ان سنی کر دی۔ میں نے جوتے پہنے اور گھر سے باہر نکل گیا۔ کیوں؟ کیا میرے پاس پیسے نہیں تھے؟ یا میں ٹیکنالوجی سے نابلد تھا؟ نہیں۔ اصل وجہ وہ ‘لفافہ’ نہیں تھا، اصل وجہ وہ ‘سفر’ تھا جو اس ایک لفافے کی خریداری کے بہانے طے ہونا تھا۔
وہ لکھتا ہے کہ جب میں گلی میں نکلا تو مجھے زندگی ملی۔ میں نے سڑک پار کرتے ہوئے ایک خوبصورت بچے کو دیکھا اور اس کی معصومیت پر مسکرایا۔ میں تھوڑا آگے بڑھا تو فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی سائرن بجاتی گزری، میں نے رک کر اسے ‘تھمبز اپ’ کیا اور ان گمنام ہیروز کی ہمت کو داد دی۔ راستے میں ایک خاتون اپنے کتے کو ٹہلا رہی تھیں، میں رکا، ان سے کتے کی نسل پوچھی، دو باتیں کیں اور آگے بڑھ گیا۔
دوستو! اس چھوٹی سی بات میں کائنات کا سب سے بڑا سبق چھپا ہے۔ ہم اس زمین پر صرف ‘پروڈکٹیو’ ہونے، بل جمع کرانے یا الماریاں بھرنے نہیں آئے۔ ہم یہاں ‘آوارہ گردی’ کرنے آئے ہیں۔ ہم یہاں مٹی کی خوشبو سونگھنے، لوگوں سے ہاتھ ملانے اور بلاوجہ مسکرانے آئے ہیں۔
وونیگٹ ایک کمال کی بات کرتا ہے، وہ کہتا ہے: **”ہم رقص کرنے والے جانور ہیں” (Dancing Animals)۔** قدرت نے ہمیں حرکت کے لیے بنایا ہے۔ ہمارے بدن کی مٹی رقص چاہتی ہے، اسے چلنا پھرنا اور دوسروں سے ملنا پسند ہے۔ مگر افسوس! یہ کمپیوٹر، یہ انٹرنیٹ اور یہ ٹیکنالوجی ہمیں اس رقص سے محروم کر رہی ہے۔ یہ ہمیں کمروں میں بند کر رہی ہے۔ یہ ہمیں ‘لفافہ’ تو گھر پر دے دیتی ہے، مگر وہ ‘مسکراہٹ’ چھین لیتی ہے جو اس لفافے کو لاتے ہوئے کسی اجنبی سے ملنی تھی۔
آج کا انسان ‘اسکرین’ کا قیدی بن چکا ہے۔ کمپیوٹر بنانے والوں کو اس سے غرض نہیں کہ آپ کی روح پیاسی ہے، انہیں صرف اس سے مطلب ہے کہ آپ کا وقت کیسے ‘سیو’ (Save) کیا جائے۔ مگر یاد رکھیے، جو وقت زندگی جینے میں صرف نہ ہو، وہ وقت بچا کر آپ کیا کریں گے؟
وونیگٹ کہتا ہے، "اٹھو! ذرا حرکت کرو، باہر نکلو، یا کم از کم جہاں بیٹھے ہو وہیں تھوڑا سا رقص ہی کر لو۔” کیونکہ اگر تم نے حرکت چھوڑ دی، اگر تم نے بلاوجہ کی آوارہ گردی اور لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا، تو تم انسان نہیں رہو گے، تم بھی ایک ‘سافٹ ویئر’ بن جاؤ گے جو صرف کمانڈز پر چلتا ہے۔
خدارا! اپنی الماریاں لفافوں سے نہ بھریں، اپنی زندگی یادوں اور ملاقاتوں سے بھریں۔ جائیے، ایک لفافہ خریدنے کے بہانے پوری دنیا دیکھ آئیے۔ یہی زندگی ہے۔ باقی سب محض ڈیٹا ہے۔