منتخب غزلیں

وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ کہاں میں کہاں یہ …

وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ
…..
معروف معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم وفات
07 February 1978
(پیدائش: 4 اگست، 1899ء- وفات: 7 فروری، 1978ء)
جنگی ترانے
——
’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے،
میریا ڈھول سپاہیا تینوں ربّ دیا رکھاں،
کرنیل نی جرنیل نی،
’میرا سوہنا شہر قصور نی،
یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی‘‘
——
منتخب کلام
——
جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے
درد کے عنواں بدل کر رہ گئے
زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنھیں
دو قدم ہمراہ چل کر رہ گئے
……
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
…..
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
——
دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں
نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو
——
ملتے گئے ہیں موڑ نئے ہر مقام پر
بڑھتی گئی ہے دوریاں منزل جگہ جگہ
…..
میں تحفہ لے کے آیا ہوں تمناؤں کے پھولوں کا
لٹانے کو بہار زندگانی لے کے آیا ہوں
…..
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست
زندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہار
یہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گے
ہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوار
آج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گے
فاصلوں ، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہے
دل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے
کلفت زیست سے انساں پریشاں ہی سہی
زیست آشوب غم مرگ کا طوفاں ہی سہی
مل ہی جاتا ہے سفینوں کو کنارا آخر
زندگی ڈھونڈ ہی لیتی ہے سہارا آخر
اک نہ اک روز شب غم کی سحر ہو گی
زندگی ہے تو مسرت سے بسر بھی ہو گی
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست !
…………….
نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں
کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں
نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں
اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں
الٰہی کیا مری رخصت کا وقت آ پہنچا
یہ چارہ ساز مرے کیوں اداس بیٹھے ہیں
الٰہی کیوں تن مردہ میں جاں نہیں آتی
وہ بے نقاب ہیں تربت کے پاس بیٹھے ہیں
……
غم نصیبوں کو کسی نے پکارا ہو گا
اس بھری بزم میں کوئی تو ہمارا ہو گا
آج کس یاد سے چمکی تری چشم پر نم
جانے یہ کس کے مقدر کا ستارا ہو گا
جانے اب حسن لٹاۓ گا کہاں دولت درد
جانے اب کس کو غم عشق کا یارا ہو گا
ترے چھپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں
تو جہاں ہو گا وہین ذکر ہمارا ہو گا
یوں جدائی تو گوارہ تھی یہ معلوم نہ تھا
تجھ سے یوں مل کے بچھڑنا بھی گوارہ ہو گا
چھوڑ کر آۓ تھے جب شہر تمنا ہم لوگ
مدتوں راہ گزاروں نے پکارا ہو گا
ایک طوفاں میں قریب آ گئی اپنی منزل
ہم سمجھتے تھے بہت دور کنارا ہو گا
مسکراتا ہے تو اک آہ نکل جاتی ہے
یہ تبسمؔ بھی کوئی درد کا مارا ہو گا
——
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی
یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی
اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی
اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی
ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیاکیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی
چرکے وہ دیے دل کو محرومئ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی
جلووں کے تمنائی جلووں کو ترستے ہیں
تسکین کو روئیں گےجلووں کے تمنائی
یکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی
اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی
افسونِ تمنا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باک کچھ عشق میں زیبائی
وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی
آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی
سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی
یہ بزمِ محبت ہے اس بزمِ محبت میں
دیوانے بھی شیدائی فرزانے بھی شیدائی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی
اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہء خلوت میں یہ دشت پنہائی
ان مد بھر آنکھوں میں کیا سحر تبسم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
……………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/