"امی… فراک پہن کر گھومنے سے دائرہ واقعی اتنا بڑا…
اس نے یہ سوال ایسے کیا جیسے سات سال کے بچے پوچھتے ہیں؛ بے داغ حیرت کے ساتھ۔
مریم نے آلو چھیلتے ہوئے ہاتھ روک دیے۔ چھری کی دھار پر چپکا ہوا باریک سا چھلکا دیر تک ہلتا رہا۔ اس نے پلٹ کر بیٹے کو دیکھا۔ عمار دونوں ہاتھ پھیلا کر کمرے میں خود ہی گھوم رہا تھا، جیسے ہوا میں کسی ان دیکھی فراک کا گھیر پہلے ہی موجود ہو۔
"کس نے بتایا؟”
"مدرسے کے سامنے جو دکان ہے نا… وہاں گلابی والی لٹکی ہوئی ہے۔ ایک بچی پہن کر گھومی تھی۔ اس کا دائرہ پورے کمرے جتنا ہو گیا تھا۔”
اس نے دونوں ہاتھوں سے ایک بہت بڑا گول بنا کر دکھایا۔
اس رات مریم نے بات ہنس کر ٹال دی۔
لیکن سوال کہیں نہیں گیا۔
ہر جمعے بازار جاتے، عمار اسی دکان کے سامنے رک جاتا۔ شیشے کے اندر لٹکی ہوئی گلابی فراک کو دیکھتا، پھر اپنی گردن ذرا ٹیڑھی کر کے پوچھتا، "امی… اگر میں اسے پہنوں تو کیا یہ بھی ایسے ہی گھومے گی؟”
دکان دار پہلے مسکراتا تھا، پھر پہچاننے لگا۔ اب وہ ان کے رکنے سے پہلے ہی نظریں دوسری طرف کر لیتا۔
گھر میں اس سوال کی آواز دیواروں تک پہنچ گئی۔
نانا نے چائے کا کپ زور سے رکھ دیا۔
"لڑکے لڑکے ہوتے ہیں، لڑکیاں لڑکیاں۔ ایسی باتیں زبان پر بھی اچھی نہیں لگتیں۔”
نانی نے زیرِ لب استغفار پڑھا اور عمار کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولیں، "بیٹا، ہم تمہیں اچھی سی شرٹ لے دیں گے۔ نیلی۔”
عمار نے سر ہلا دیا۔
"مجھے نیلا پسند نہیں۔”
"پھر کون سا؟”
"گلابی۔”
یہ صرف ایک رنگ تھا۔
لیکن گھر میں وہ ایک مقدمہ بن گیا۔
اگلے کئی دن مریم نے جان بوجھ کر بازار کا راستہ بدل دیا۔
مگر بچے راستے نہیں بھولتے، صرف بڑے بھولنے کی اداکاری کرتے ہیں۔
ایک دوپہر اسکول سے واپس آ کر عمار نے بستہ رکھا اور خاموشی سے کھڑکی کے پاس جا بیٹھا۔ اس نے پہلی بار فراک کا ذکر نہیں کیا۔
اسی خاموشی نے مریم کو بے چین کر دیا۔
رات کو وہ پانی رکھنے اس کے کمرے میں گئی تو دیکھا، عمار اپنی رنگوں کی کاپی پر صرف گلابی پنسل سے گول گول دائرے بنا رہا تھا۔
کوئی آدمی نہیں۔
کوئی لڑکی نہیں۔
صرف دائرے۔
"یہ کیا بنا رہے ہو؟”
عمار نے بغیر سر اٹھائے کہا، "ہوا۔”
"ہوا تو نظر نہیں آتی۔”
"جب کوئی گھومتا ہے نا… تب نظر آتی ہے۔”
مریم دیر تک کچھ نہ بول سکی۔
چند دن بعد اسکول میں سالانہ تقریب کی ریہرسل تھی۔
عمار اداس لوٹا۔
کھانا چھیڑتا رہا، پھر اچانک بولا، "امی… مجھے ڈانس سے نکال دیا۔”
"کیوں؟”
"سر نے کہا لڑکوں کا الگ آئٹم ہے۔”
"پھر؟”
"میں نے کہا مجھے وہ والا گھومنے والا کرنا ہے…”
وہ خاموش ہو گیا۔
کافی دیر بعد بولا،
"امی… مجھے فراک نہیں چاہیے۔”
یہ سن کر مریم کے دل کو سکون نہیں ملا۔
کیونکہ بعض خواہشیں ختم نہیں ہوتیں، صرف بولنا چھوڑ دیتی ہیں۔
اس رات اس نے الماری کھولی۔
سب سے نچلی تہہ میں ایک پرانا ڈبہ رکھا تھا۔
اس میں اس کی اپنی بچپن کی چیزیں تھیں۔
سب سے اوپر ایک چھوٹا سا گلابی فراک رکھا تھا۔
اس کی چھوٹی بہن حرا کا۔
حرا آٹھ برس کی عمر میں بخار سے چلی گئی تھی۔
مریم کو اچانک یاد آیا…
وہ دونوں اکثر گھر میں اکیلے ہوتے تو حرا ضد کرتی، "آپ بھی پہن لو نا، پھر دونوں گھومیں گے۔”
اور مریم ہنستے ہوئے فراک سر پر رکھ کر صرف اسے خوش کرنے کے لیے دو چکر لگا دیتی۔
اب برسوں بعد وہی کپڑا اس کی ہتھیلی پر تھا۔
کپڑا بوڑھا ہو چکا تھا۔
یادیں نہیں۔
اگلے دن مریم نے عمار کو اسکول سے چھٹی کروائی۔
کوئی وضاحت نہیں دی۔
صرف اسے شہر کے ایک پرانے پارک میں لے گئی جہاں دوپہر کے وقت لوگ کم ہوتے تھے۔
اس نے بیگ سے وہ گلابی فراک نکالی۔
عمار نے حیرت سے دیکھا۔
"یہ… میرے لیے؟”
"نہیں۔”
وہ مسکرائی۔
"یہ تمہارے سوال کے لیے ہے۔”
عمار نے آہستہ سے فراک پہن لی۔
وہ اس پر پوری نہیں آتی تھی۔
بازو چھوٹے تھے۔
گھٹنوں سے اوپر رہ گئی تھی۔
مگر اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ایک بار گھوما۔
پھر دوسری بار۔
پھر تیسری بار۔
درختوں سے خشک پتے اترے اور اس کے گرد دائرہ بنانے لگے۔
وہ ہنس رہا تھا۔
ویسے نہیں جیسے بچے کھلونے پا کر ہنستے ہیں۔
ویسے…
جیسے کسی سوال کو آخرکار اپنی شکل مل جائے۔
مریم کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔
اچانک اس نے دیکھا، پارک کے دوسرے سرے پر ایک مالی جھاڑو روک کر انہیں دیکھ رہا تھا۔
ایک بوڑھا آدمی اخبار سے نظریں اٹھائے بیٹھا تھا۔
دو لڑکے آہستہ سے ہنسے۔
مریم نے پہلی بار محسوس کیا کہ دنیا کی نظریں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
صرف ماں کا ہاتھ مضبوط یا کمزور ہوتا ہے۔
اس نے آگے بڑھ کر عمار کا ہاتھ تھام لیا۔
"اور گھومو۔”
عمار گھومتا رہا۔
یہ شاید صرف ایک منٹ تھا۔
لیکن کچھ منٹ پورے زمانے جتنے لمبے ہوتے ہیں۔
شام کو گھر لوٹے تو نانا نے فراک دیکھ لی۔
کافی دیر تک گھر میں کوئی آواز نہ آئی۔
پھر انہوں نے آہستہ سے وہ فراک اٹھائی، تہہ کی، اور میز پر رکھ دی۔
ان کی آنکھیں کہیں اور تھیں۔
"یہ… حرا کی ہے؟”
مریم نے سر ہلا دیا۔
بوڑھے آدمی کے چہرے پر پہلی بار غصہ نہیں آیا۔
صرف عمر آ گئی۔
وہ بہت دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔
پھر دھیمی آواز میں بولے،
"جب حرا بیمار تھی… آخری دن بھی یہی پہننے کی ضد کر رہی تھی۔ میں نے کہا تھا، بخار میں نہیں۔”
ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"وہ پھر کبھی نہ پہن سکی۔”
کمرے میں ایسی خاموشی اتری جس میں کسی کی جیت نہیں تھی۔
کسی کی ہار بھی نہیں۔
رات گئے مریم نے دیکھا، نانا نے وہ گلابی فراک دوبارہ تہہ کر کے ڈبے میں نہیں رکھی۔
اسے دھو کر صحن کی رسی پر سکھا دیا تھا۔
صبح ہوا چلی۔
فراک آہستہ آہستہ ہل رہی تھی۔
ایسے…
جیسے کوئی اب بھی اس کا گھیر آزما رہا ہو۔