منتخب نظمیں

شہر میں ان دنوں بارش کم اور انٹرویو زیادہ برس رہے …

شہر میں ان دنوں بارش کم اور انٹرویو زیادہ برس رہے تھے۔

ہر موبائل اسکرین پر ایک ہی چہرہ تھا۔ ایک ہی جملہ تھا، جسے اینکر ہر بار ایسے دہراتا جیسے کسی زخمی لفظ سے خون نچوڑ رہا ہو۔

"تو آپ کہنا چاہتی ہیں کہ آپ کو… حقِ زوجیت نہیں ملا؟”

وہ خاموشی سے سر ہلاتی۔

اینکر کی آنکھوں میں خبر نہیں، بھوک چمکتی۔ پھر وہ ایک اور سوال پھینکتا، ایسا سوال جو کسی گھر کے بند کمرے سے زیادہ ریٹنگز کے اسٹوڈیو کے لیے موزوں تھا۔

میں نے ٹی وی بند کر دیا۔

مگر آواز بند نہ ہوئی۔

شام کو محلے کی مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا۔ بارش کے بعد مٹی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میرے برابر میں حاجی بشیر بیٹھے تھے۔ عمر اسی کے قریب، مگر آنکھیں اب بھی حیرت کرنا جانتی تھیں۔

انہوں نے آہستہ سے پوچھا،
"بیٹا… یہ حقِ زوجیت آخر ہوتا کیا ہے؟”

میں نے جواب دینے کے لیے ہونٹ کھولے، مگر الفاظ کہیں اٹک گئے۔

مجھے یاد آیا…

میرے والد ہر رات سونے سے پہلے امی کے پاؤں دباتے تھے۔ کبھی کسی نے اسے حقِ زوجیت نہیں کہا۔

امی ہر مہینے ابا کی تنخواہ سے پہلے آٹے کا ڈبہ دیکھ کر حساب لگاتیں کہ مہینہ کیسے گزرے گا۔ کبھی اسے بھی کسی نے حقِ زوجیت نہیں کہا۔

میرے دادا دادی کی شادی کو پچپن سال ہوئے تھے۔ ان کے سات بچوں میں سے دو بچپن میں ہی دنیا چھوڑ گئے تھے۔ دادی اکثر کہتیں،
"اولاد اللہ کی امانت ہے، نکاح کی شرط نہیں۔”

تب کسی اینکر نے مائیک نہیں بڑھایا تھا۔

اگلے دن وہی خاتون ایک اور چینل پر تھیں۔

اس بار میزبان نے چہرے پر ہمدردی اور آواز میں تجسس سجا رکھا تھا۔

"تو کیا آپ کے شوہر میں مسئلہ تھا؟”

مجھے لگا جیسے وہ سوال نہیں کر رہا، کسی غیر موجود آدمی کے کپڑے سرِ بازار اتار رہا ہے۔

عجیب زمانہ آ گیا تھا۔

اب راز، راز نہیں رہے تھے۔

شرم، شرم نہیں رہی تھی۔

اور دکھ… تفریح بن چکا تھا۔

میں نے قانون کی کتاب نکالی۔

پھر فقہ کی۔

پھر قرآن کا ترجمہ۔

کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ اگر ایک سال میں بچہ نہ ہو تو حقِ زوجیت ناکام ہو جاتا ہے۔

وہاں تو صرف حسنِ معاشرت، احترام، باہمی سکون، محبت، عفت، ذمہ داری اور ایک دوسرے کی عزت کا ذکر تھا۔

اولاد…

وہ ہر جگہ نعمت لکھی تھی۔

حق نہیں۔

نعمت۔

اور نعمت کا فیصلہ انسان نہیں کرتا۔

چند دن بعد وہ خبر پرانی ہو گئی۔

قوم کو نیا تماشا مل گیا۔

نیا اسکینڈل۔

نیا انٹرویو۔

نئی عدالت۔

لیکن میرے ذہن میں حاجی بشیر کا سوال ابھی تک زندہ تھا۔

"حقِ زوجیت آخر ہوتا کیا ہے؟”

میں نے اس روز اپنی ڈائری میں صرف ایک جملہ لکھا۔

"جس معاشرے میں ازدواجی زندگی کے سب سے مقدس لمحے بھی ریٹنگ اور ویوز کی کرنسی بن جائیں، وہاں مسئلہ کسی ایک میاں بیوی کا نہیں رہتا؛ وہاں نکاح نہیں، ہماری اجتماعی حیا بانجھ ہو چکی ہوتی ہے۔”

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/