خدیجہ مستور کا یومِ وفات July 25, 1982 خدیجہ مستو…

July 25, 1982
خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسہ بریلی میں یوسف زئی خاندان میں پیدا ہوئی، متوسط خاندان میں ہوئی ۔ انہوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم لکھنو سے حاصل کی تھی۔ کچھ عرصہ ان کا قیام بمبئی میں بھی رہا بھر تقسیم ملک کے بعد ان کا خاندان لاہور نقل مکانی کرگیا۔
انہوں نے کم عمری میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھی ۔ خدیجہ مستور نے افسانہ نگاری کا آغاز 1942میں کیا ۔ آپ کا پہلا افسانہ ”ضیاء“ تھا۔ آپ کے مختلف افسانے اس دور کے مشہور رسائل ” خیال“،”عالمگیر“ اور ”ساقی“ میں شائع ہوتے تھے۔ ۔خدیجہ مستور ان کے جذباتی اور عمرانی مسائل کی تصویر کشی ان ادوار کے عظیم ناولوں میں کی گئی۔ تقسیم ہند نے بھی لا محالہ افسانوی ادب کا ایک بڑا Corpus تیار کیا۔ جس میں کچھ جذباتی اور وقتی اہمیت کا سامان تھا۔ لیکن چند ناول اور افسانے ادب میں اپنی جگہ بنالے گئے۔اور ممبئی میں قیام کے دوران ان کے فن کو بہت جلا حاصل ہوئی۔ لیکن ان کی اصل تخلیقات لاہور کے قیام کی دین ہیں۔ خدیجہ مستور اور ان کی افسانہ نگار بہن حاجرہ مسرور کو احمد ندیم قاسمی جیسی شخصیت کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ وہ ادبی جریدے ” نقوش” کی مدیر بھی رہی۔احمد ندیم قاسمی نے ان کی مدد کی۔۱۹۵۰ء میں خدیجہ کی شادی مشہور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے بھانجے ظہیر بابر سے ہوئی جو صحافت کے پیشے سے منسلک تھے۔ اس کے بعد تو وہ مسلسل لکھتی رہیں اور ان کی کہانیاں بھارت اور پاکستان کے مقتدر ادبی رسائل میں شائع ہوئیں۔ انہوں نے بہت جلد نمایاں ادبی مقام حاصل کر لیا۔ ان کا افسانہ” محافظ الملک“ بے حد مشہور ہوا جو ایک خاص دور کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’ تلاش گمشدہ ، درد ، کھیل ، بوچھار ، چند روز ‘ کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ،ان کے مشہور افسانوں میں ”کھیل ، بوچھاڑ ، چندر وز اور ، تھکے ہارے اور ٹھنڈا میٹھاپانی “ کے نام شائع شامل ہیں جبکہ ان کے دوناول ”آنگن اور زمین “ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے، ان کا آخری افسانہ "بھروسا” بھی اسی موضوع پر ہے۔
خدیجہ مستورنے لندن میں سن انیس سو بیاسی میں چھبیس جولائی کی درمیانی شب دار فانی کو خیرباد کہہ دیا تھا ۔ان کا جسد خاکی لاہور لاکر قبرستان گورومانگٹ (کبوتر پورہ ) میں پیوند زمین ھوئیں۔
اردو کی خواتین افسانہ نگاروں میں خدیجہ مستور کا نام بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے ناولوں اور افسانوں کی مجموعوں کی تعداد سات ہے۔ مگر ان کا ناول ’ آنگن ایک ایسا ناول ثابت ہوا کہجو ہمیشہ اردو ادب میں زندہ رہے گا بلکہ اس کے خالق کی حیثیت سے خدیجہ مستور کا نام بھی اردو ادب میں زندہ رہے گا۔


