ابو… آپ کے بچپن کے دوست کہاں ہیں؟” اس کی عادت …
اس کی عادت تھی کہ جب بھی کوئی رشتہ ٹوٹتا، وہ ایک کام ضرور کرتا۔
فون کھولتا…
کانٹیکٹس میں جاتا…
نام کے ساتھ لگا ہوا دل ❤️ مٹا دیتا۔
بس اتنا سا۔
اس کے نزدیک دوستی ختم کرنے کی یہی رسم تھی۔
کوئی شور نہیں، کوئی لڑائی نہیں، صرف ایک دل مٹ جاتا تھا۔
پھر وہ خود سے کہتا،
"ایک اور نقاب گر گیا۔”
اور زندگی آگے بڑھ جاتی۔
—
پہلا دل یونیورسٹی کے زمانے میں مٹا تھا۔
وجہ؟ ایک دوست اس کی شادی میں نہیں آ سکا تھا۔
"جس کے پاس وقت نہ ہو، اس کے پاس میری دوستی کا حق بھی نہیں۔”
اس نے فیصلہ سنایا اور دل مٹا دیا۔
دوسرا دل اس وقت مٹا جب ایک دوست نے کاروبار میں اس کی رائے سے اختلاف کیا۔
تیسرا اس دن جب کسی نے اس کی کال واپس نہ کی۔
چوتھا…
پانچواں…
دسویں دل تک پہنچتے پہنچتے اسے وجہیں یاد رہنا بند ہو گئیں۔
صرف اتنا یاد تھا کہ ہر بار قصور دوسرے کا تھا۔
—
لوگ اسے سمجھاتے۔
"ہر اختلاف بے وفائی نہیں ہوتا۔”
وہ ہنس دیتا۔
"تم لوگ لوگوں کو نہیں جانتے۔ میں پہچان لیتا ہوں۔”
اسے اپنے فیصلوں پر فخر تھا۔
وہ خود کو بہت باریک بین سمجھتا تھا۔
اسے یقین تھا کہ وہ منافق لوگوں کو فوراً پہچان لیتا ہے۔
اس نے کبھی یہ نہیں سوچا…
کہ شاید وہ انسان نہیں، صرف ان کی غلطیاں پہچانتا ہے۔
—
اس کی بیٹی دس برس کی ہوئی تو اس نے ایک عجیب سوال پوچھا۔
"ابو… آپ کے بچپن کے دوست کہاں ہیں؟”
اس نے پانی پیتے ہوئے کہا،
"سب بدل گئے۔”
"اور کالج والے؟”
"وہ بھی۔”
"دفتر والے؟”
"سب مطلبی تھے۔”
"پڑوسی؟”
"ان پر تو بات ہی نہ کرو۔”
بچی کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی،
"ابو… کیا دنیا میں اچھے دوست بنتے ہی نہیں؟”
وہ پہلی بار جواب دیتے ہوئے رکا۔
—
اس رات وہ سو نہ سکا۔
اسے یاد آیا…
ہر قصے میں ایک چیز مشترک تھی۔
وہ خود۔
باقی سب لوگ بدلتے رہے تھے۔
—
مہینوں بعد وہ ایک اسپتال گیا۔
پرانا دوست کینسر کے آخری مرحلے میں تھا۔
دونوں نے پندرہ سال بات نہیں کی تھی۔
وجہ؟
اب اسے خود بھی یاد نہیں تھی۔
کمرے میں داخل ہوا تو دوست نے کمزور مسکراہٹ سے کہا،
"دیکھ… آخر تُو آ ہی گیا۔”
وہ حیران رہ گیا۔
نہ شکوہ۔
نہ حساب۔
نہ پرانی بات۔
صرف ایک جملہ…
جیسے پندرہ سال درمیان سے کاٹ کر پھینک دیے گئے ہوں۔
اس نے کانپتی آواز میں پوچھا،
"تم نے مجھے معاف کر دیا تھا؟”
دوست نے آنکھیں بند کیے بند کیے کہا،
"معاف؟”
ہلکا سا مسکرایا۔
"میں تو ناراض ہی کب تھا…”
—
واپسی پر اس نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی۔
برسوں بعد پہلی بار اسے محسوس ہوا…
شاید جن لوگوں کو وہ سزا دیتا رہا، انہیں کبھی معلوم ہی نہیں ہوا کہ ان سے جرم کیا سرزد ہوا تھا۔
سزائیں ہمیشہ اس نے سنائیں…
قید ہمیشہ خود کاٹی۔
—
گھر پہنچ کر اس نے فون کھولا۔
کانٹیکٹس میں گیا۔
ان ناموں کو دیکھنے لگا جن کے ساتھ کبھی دل بنا کرتا تھا۔
بہت سے نمبر بند ہو چکے تھے۔
کئی لوگ دوسرے شہروں میں جا بسے تھے۔
دو ناموں کے آگے لکھا تھا:
"مرحوم”
وہ دیر تک اسکرین کو دیکھتا رہا۔
اچانک اسے احساس ہوا…
زندگی میں کچھ لوگ اس لیے نہیں کھوتے کہ وہ برے ہوتے ہیں۔
بلکہ اس لیے کھو دیتے ہیں…
کیونکہ ہم ہمیشہ معافی کو کل پر ٹالتے رہتے ہیں۔
—
صبح اس نے ایک پرانے نمبر پر کال ملائی۔
جواب آیا،
"یہ نمبر مستقل طور پر بند ہے۔”
اس نے دوسرا نمبر ملایا۔
"صاحب، وہ تو دو سال پہلے انتقال کر گئے تھے۔”
تیسرا۔
"انہوں نے بیرونِ ملک جا کر نمبر بدل لیا ہے۔”
چوتھا…
پانچواں…
ہر کال گویا وقت کے بند دروازے پر دستک تھی۔
کوئی دروازہ نہ کھلا۔
—
شام ڈھلے اس نے اپنی کانٹیکٹس لسٹ دوبارہ کھولی۔
اب اس میں صرف ایک نام رہ گیا تھا…
اپنا۔
وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر پہلی بار اس نے اپنے ہی نام کے ساتھ لگا ہوا دل مٹا دیا۔
اس لمحے اسے سمجھ آیا…
اس کی پوری زندگی میں ایک ہی انسان تھا جسے معاف ہونا چاہیے تھا۔
اور وہ ہر بار دوسروں کے کٹہرے میں کھڑا رہا۔
اس رات فون خاموش نہیں تھا۔
خاموش صرف وہ آدمی تھا…
جسے آخرکار اپنے سارے بچھڑے ہوئے دوست ایک ہی آئینے میں نظر آ گئے تھے۔
افسانہ: آخری نام
©️ انتخاب سخن
#friendship