عالمی ادب

جس ناول کا تبصرہ آج میں اپنے ساتھ لائی ہوں وہ ناول میرا پہلے بھی پڑھا ہوا ہے ل…

جس ناول کا تبصرہ آج میں اپنے ساتھ لائی ہوں وہ ناول میرا پہلے بھی پڑھا ہوا ہے لیکن کل رات نیند نہ آنے کی وجہ سے میں نے ایک بار پھر اس کو پڑھا اور اس بار بھی ایک ہی نشست میں اس کو ختم کیا تو سوچا تبصرہ بھی ہو جائے اس پر ۔۔
میری اس ناول کے بارے میں جو رائے ہے وہ خاصی دلچسپ ہے وجہ یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے اس ناول کو کوئی شعور والا انسان سمجھ سکتا ہے شعور والا انسان کون ہوتا ہے؟؟ میری نظر میں شعور والا انسان وہ ہوتا ہے جس سے آپ دنیا کے ہر ٹاپک پر بات کر سکیں اور آپ کو پتہ ہو وہ ہمیں غلط راہ نہیں دے گا میری نظر میں سمجھدار انسان اور شعور والے انسان میں بھی فرق ہوتا ہے ایک شعور والا انسان ہی اس کہانی کا اصل مقصد سمجھ سکتا ہے کیونکہ ایک شعور والا انسان حقیقتوں سے منہ نہیں موڑتا یہ زندگی ہے یہ زندگی بہت عجیب ہے اس کی حقیقتیں بھی بہت عجیب ہیں کچھ حقیقتیں بہت بے باک سی ہوتی ہیں اور بے باک حقیقتوں کا سامنا صرف شعور والا انسان کرتا ہے ۔۔
گیارہ منٹ
از پاؤلو کوہلو

ایک ایسا ناول ہے جو ایک خواتین کی جنسی زندگی سے مطلق ہے۔
جس میں مرد و عورت کی جنسی زندگی کے بارے میں بہت ہی عمدہ معلومات دی گئی ہے۔ میری نظر میں کہانی کا اصل مقصد اصل پیغام یا سبق جو دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے روح کا اصل ساتھی نہ ملے تو زندگی میں کوئی بھی چیز خوشی نہیں دے سکتی بھلے وہ پیسہ ہو یا فیم یا زندگی میں ہر طرح کی آسائش ہو روح کا ساتھی نہیں تو کوئی چیز اصل سکون نہیں دے سکتی بس وقتی خوشی دے سکتی ہے ۔۔
اس ناول کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے یہ ناول آپ کو بور بھی نہیں کرے گا ۔۔ ناول کی کہانی شروع ہوتی ہے ایک لڑکی ماریہ کی کہانی سے اور کہانی شروع سے آخر تک ہی دلچسپ ہے۔۔

ناول کے کچھ اقتسابات شیئر کر رہی ہوں۔

🙃 انسان پانی کے بغیر ایک ہفتہ ، خوراک کے بنا دو ہفتے ، گھر کے بنا کئی سال گزار سکتا ہے لیکن تنہائی کے ساتھ قطعی زندہ نہیں رہ سکتا۔
🙃 میں جان چکی ہوں کہ وہ کیا وجہ ہے کہ ایک مرد کسی عورت کے لیے پیسے خرچ کرتا ہے وہ خوش رہنا چاہتا ہے

🙃 ہم سب اپنے احساسات کے خودذمہ دار ہیں اور ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں اس کے لیے کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے ۔۔

🙃 یہ آزادی کا حقیقی احساس ہے کہ دنیا کی ہر اہم چیز آپ کے پاس ہو لیکن وہ آپکی ملکیت نہ ہو ۔

🙃 وقت انسان کو نہیں بدلتا ، نہ ہی علم ، ایک واحد چیز جو کسی کے ذہن کو بدل سکتی ہے وہ "محبت” ہے.

🙃“ہم جس چیز کو پسند کرتے ہیں، اس کے خواب دیکھ سکتے ہیں، لیکن زندگی مشکل، سنگدل اور اداس ہے۔ ”

🙃 یہ آزادی کا حقیقی احساس ہے کہ دنیا کی ہر اہم چیز آپ کے پاس ہو لیکن آپ کی ملکیت نہ ہو۔۔

🙃 خواہش وہ نہیں جو آپ دیکھتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو آپ سوچتے ہیں۔۔

🙃 اگر تکالیف کی بے خوفی سے مقابلہ کیا جائے تو
یہ آزادی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔۔
ہاں ایک اور بات کہانی تھوڑی نہیں خاصی بے باک ہے جس وجہ سے یہ کتاب ہم کسی کو تحفے میں نہیں دے سکتے بھائی بہن ابو جیسے رشتوں کو تو بلکل بھی نہیں ۔۔ 😝
اس بات کا اندازہ آپ اس لائنز سے لگا لیں ۔۔

🙃🙃
جنسی عضو کی ایستادگی سے کسی مرد کی مردانگی ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کی مردانگی تب ثابت ہوتی ہے جب وہ عورت کو بھی لذت مہیا کر سکے۔۔

کس کس نے یہ ناول پڑھا ہے اور کیا رائے ہے آپ کی اس ناول کے بارے میں ۔۔؟؟



بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3827356757494829

Related Articles

35 Comments

  1. مجھے صرف الکیمسٹ پسند ایا ہے اس کا۔۔۔۔۔موٹی ویشنل اور کار کنان قضا وقدر کی حضرت انسان کی کومٹ منٹ سے ہم اہنگی کے ٹھوس حقائق

  2. میں نے انگلش اور اردو دونوں میں پڑھا ھے . اس ناول سے اور Adultry سے یوں تاثر ملتا ھے. جیسے پاولو کویلو اپنے ذاتی زندگی میں جنسی محرومیوں کا اچھا حاصا شکار رہا ھے. اپنی لاشعور میں رچے بسے زند دفن خواھشات اور ٹھرکیات کو ان دونوں ناولز میں اس نے پورے دنیا سے پڑھوا دیے.
    باقی ایلیون منٹس ناول کا جو تھیم ھے. یہ بھت فرسودہ تھیم ھے. اس تھیم پہ بھت سارے لوگوں نے اس سے پہلے بھی کام کیا ھے. اور کویلو سے کئ گنا زیادہ بھتر کام کیا ھے. بلکہ اردو میں منٹو نے تو قابل داد کام کیا ھے اس پر.
    رھی بات پلاٹ کی تو پلاٹ بھی بھت زیادہ مصنوعیت سے بھرا ھے. ھاں سسپنس کی لحاظ سے کچھ اچھا ھے. اور کلایمکس عُجلت کی سبب کویلو سے دھندلا گیا ھے.
    سردیوں میں وقت گزاری کیلیے ایویں کچھ اور پڑھنے کو نہ ملے تو جنسی تفریح کیلیے یہ دونوں ناولز پڑھنے میں کویی قباحت نھیں.

  3. ہم عالمی ادب کے اردو تراجم کے انتہائی شکرگزار ہیں کہ اس پلیٹ فارم سے عالمی ادب کے عظیم مصنفین کے ناولوں پر زبان و ادب کے رکھ رکھاؤ کے ساتھ اس قدر جامع، پرمغز اور تفصیلی تبصرے پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ پائلو کوئلہو کے علاوہ دیگر مصنفین مثلاً دوستوفسکی ، موپاساں ،کافکا، لیو ٹالسٹائی، سارتر، گورکی ، شارلٹ برون، چارلس ڈکنز اور ایرک آرتھر وغیرہ کو بھی یہ سعادت عطا کی جائے کہ وہ فاضل تبصرہ نگار کے قلم سے اپنی تخلیقات کی پرکھ کرواسکیں ۔ ایک رات میں ایک ناول ختم کر کے تبصرہ سپرد قلم کرنا ایک کٹھن مرحلہ تو ہے لیکن یوں ہم ایک ماہ میں تیس مختلف ناولوں پر سیر حاصل مواد حاصل کر لیں گے ۔ اس خدمت پر ہم ادارہ ہذا کے پیشگی شکرگزار ہیں ۔ مزید براں ناول کے آخری اقتباس جیسے جملے ہائی لائٹ کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ گروپ کے معیار و ممبران میں یکساں اضافہ ہو سکے ۔

  4. آدھے سے زیادہ مطالعہ کرچکا ہوں۔۔ سماج کے کئی پہلووں پہ روشنی ڈالی گئی ہے ۔
    ترجمہ میں سقم لگتا ضرور ہے ۔

  5. آپ نے جو اقتباس شیئر کئے ہیں سب بہت ہی باکمال ہیں سماج کی حقیقی عکاسی ہیں اور باقی رہی بات کہانی کی بے باکی کی تو جنسی تعلقات پر بات اگر کسی شعوری مقصد کی خاطر ہو تو کوئی قباحت نہیں لیکن اگر مقصد صرف حساس موضوعات پر قلم اٹھا کر سرد راتوں میں گرمی کا احساس دلانا ہے تو پھر ماسوائے بدتہذیبی کے کچھ نہیں ، اب اس پر آپ بہتر بناسکتی ہیں کہ بدتہذیبی ہے یا تہزیب ۔۔۔

  6. یہیں پہ غالبا” کسی نے ذکر کیا تھا اب پرھ رہا ہوں واقعی اچھی کہانی ہے لیکن تحفے میں دینا تو کجا میں کہوں گا ذکر بھی نہ کیا جائے جدید نسل ویسے ہی ان چیزوں میں بہت آگے ہے😄😄
    ابھی مکمل نہی پڑھا
    ابھی تک کے مطالعے میں کچھ چیزوں(masochism وغیرہ) کے علاوہ اچھی چیزیں بھی سامنے ائی ہیں

  7. کہانی تو نہیں پڑھی لیکن رائیٹر کی بہت سی ناول پڑھ چکا ہوں
    اور اپ نے جن الفاظ میں ریویو دیا ہے قابل تعریف ہے خاص کر اپ کا شعور کے بارے میں رائے بہت پسند آیی ۔
    بہت دلچسپ💕

  8. kamaal ! Sochne pe majboor kr dia k kin alfaaz main apki tareef ki jae …
    Itni bari kitab ko itne kam ar khoobsoort alfaaz main dhaal k bayan kia hai apne ..!

    Wese to main kitab parhne ka shok nh rakhta per is page pe aane k bd lgta hai kitaben e hamari asal dost hain…

    Baqi raha tabsara to wo main kitab parhne k bd e apko kch bta skta hn …

    Bht Shukriya.

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/