اب جب کوئی لڑکی مجھ سے محبت کی بات کرتی ہے تو میں…
شادی سے پہلے آفاق مجھے ایک نہایت باوقار آدمی لگا تھا۔ کم بولتا تھا، آہستہ مسکراتا تھا، اور بات کرتے ہوئے آنکھوں میں ایسی نرمی بھر لیتا تھا کہ آدمی اپنی شکایت بھی بھول جائے۔ دو برس کی رفاقت میں مجھے اس کی خاموشی شرافت معلوم ہوئی۔ نکاح کے بعد پتا چلا، بعض خاموشیاں کردار کی گہرائی نہیں ہوتیں، جرم کی الماری ہوتی ہیں۔
ہمارا گھر چھوٹا تھا، مگر میں نے اس میں ایک پوری دنیا بسا رکھی تھی۔ باورچی خانے کی کھڑکی میں دھوپ آتی تو میں سوچتی، ایک دن اسی تار پر کسی بچے کی ننھی قمیص سوکھے گی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے کونے پر میں نے ایک چھوٹا سا نیلا کھلونا بھی رکھ چھوڑا تھا۔ آفاق اسے دیکھتا تو مسکرا کر نگاہ پھیر لیتا۔
جب بھی میں بچے کی بات کرتی، وہ کسی فائل، کسی فون کال، کسی نئے پراجیکٹ کے پیچھے چھپ جاتا۔
“ابھی نہیں، ثنا۔ کاروبار ذرا سنبھل جائے۔”
“میری تنخواہ اچھی ہے، میں ساتھ دے سکتی ہوں۔”
اس کے چہرے پر فوراً مردانہ غیرت کا نقاب آ جاتا۔
“مجھے بیوی کے پیسوں پر گھر نہیں چلانا۔”
میں چپ ہو جاتی۔ ہمارے ہاں عورت کو یہی تو سکھایا جاتا ہے کہ گھر بچانا ہو تو اپنی آواز کو تہہ کر کے صندوق میں رکھ دو۔
انہی دنوں وہ صبا کو گھر لایا۔
“میری کزن ہے، بہنوں جیسی۔”
صبا نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا۔ اس کے ہاتھ نرم تھے اور لہجہ اتنا میٹھا کہ آدمی کو اپنی تنہائی پر شرم آنے لگے۔
“بھابھی، آفاق بھائی آپ کا بہت ذکر کرتے ہیں۔”
وہ آنے لگی۔ کبھی میرے ساتھ بازار، کبھی میرے کمرے میں چائے، کبھی میرے دکھوں پر لمبی آہیں۔ میں نے اسے گھر کی عورت سمجھ کر اپنے دل کی چابی دے دی۔ آفاق کی بے رخی، بچے کی خواہش، اپنی گھبراہٹ، سب کچھ اس کے سامنے رکھ دیا۔
وہ ہر بار میری ہتھیلی سہلا کر کہتی، “بھابھی، مردوں پر دباؤ ہوتا ہے۔ وقت دیں۔”
پھر ایک صبح ٹیسٹ پر دو سرخ لکیریں ابھریں۔
میں دیر تک انہیں دیکھتی رہی۔ وہ لکیریں نہیں تھیں، میرے اندر پہلی بار زندگی نے اپنا نام لکھا تھا۔ شام کو آفاق آیا تو میں نے رپورٹ اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔
اس نے کاغذ پڑھا، پھر میری طرف نہیں دیکھا۔
“یہ بچہ ابھی نہیں ہو سکتا۔”
مجھے لگا کمرے کی چھت نیچے آ گئی ہے۔
“آفاق، یہ ہمارا بچہ ہے۔”
“میں نے کہا نا، ابھی نہیں۔”
اس رات وہ شوہر نہیں، فیصلہ سنانے والا آدمی تھا۔ میں روتی رہی، وہ دلائل دیتا رہا۔ صبا آئی تو اس نے بھی میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بھابھی، ضد نہ کریں۔ اللہ پھر دے دے گا۔”
میں نے اس دن جانا، کچھ جملے تسلی نہیں ہوتے، قتل سے پہلے پڑھا جانے والا آخری فقرہ ہوتے ہیں۔
میں ہار گئی۔
کلینک چھوٹا سا تھا۔ دیواروں پر نمی تھی۔ کمرے میں دوا، خون اور سستی خوشبو کی ملی جلی بو تھی۔ جب آنکھ کھلی تو امی میرے سرہانے بیٹھی تھیں۔ آفاق نہیں تھا۔
ڈاکٹر نے آہستہ کہا، “جان بچ گئی ہے، مگر بچہ دانی نہیں بچ سکی۔”
مجھے لگا میرے اندر ایک کمرہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے، جس میں اب کبھی کوئی ننھی آہٹ نہیں اترے گی۔
تین دن بعد گھر آئی تو الماری کھلی پڑی تھی۔ زیور غائب، کاغذات غائب، گاڑی غائب، بینک کی فائلیں غائب، آفاق غائب۔
صبا کا نمبر بند تھا۔
میں نے آفاق کے گھر والوں کو فون کیا۔ سب نے ایک ہی جملہ الگ الگ آوازوں میں دہرایا۔
“ہمیں کچھ نہیں معلوم۔”
مگر جھوٹ کی بھی اپنی بو ہوتی ہے۔ وہ جملوں سے پہلے سانس میں آ جاتی ہے۔
مجھے یاد آیا، صبا نے ایک بار اپنے دوپٹے کا پیکٹ میرے گھر منگوایا تھا۔ لفافے پر اس کا پتہ لکھا تھا۔ میں نے وہ پرانا لفافہ دراز سے نکالا، امی کو ساتھ لیا اور اس پتے پر جا پہنچی۔
گلی تنگ تھی۔ دیواروں پر پرانی نمی کے نقش تھے۔ ایک گھر کے باہر نیلے رنگ کا دروازہ تھا، جس پر اندر سے بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے دستک دی۔
ایک عمر رسیدہ عورت نے دروازہ کھولا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
“صبا گھر پر ہے؟” میں نے پوچھا۔
وہ ہکلا گئی۔ “آپ کون؟”
“میں آفاق کی بیوی ہوں۔”
اس کے پیچھے کھڑی لڑکی کے منہ سے بے اختیار نکلا، “کون سی؟”
بس وہی ایک لفظ تھا جس نے میرے اندر بچی ہوئی آخری دیوار بھی گرا دی۔
میں نے دروازے کی چوکھٹ پکڑ لی۔
“کون سی؟”
عورت نے لڑکی کو گھورا، پھر مجھے اندر بٹھانے کی کوشش کی۔ مگر اب بیٹھنے کی گنجائش کہاں تھی؟ زمین ہی تو پاؤں کے نیچے سے سرک چکی تھی۔
پڑوس کی ایک عورت دیوار کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “بی بی، صبا تو آفاق کی بیوی ہے۔ کئی سال ہوئے نکاح کو۔ ایک بیٹا بھی ہے۔ کل رات ہی دونوں سامان لے کر نکلے ہیں۔ کہتے تھے باہر جا رہے ہیں۔”
میرے کانوں میں جیسے کسی نے گرم سیسہ انڈیل دیا۔
صبا کی ماں رونے لگی۔ “بیٹی، ہمیں لگا تمہیں سب معلوم ہو گا۔ آفاق نے کہا تھا دوسری شادی گھر والوں کی رضا سے ہوئی ہے۔”
میں ہنس دی۔ ایسی ہنسی جو حلق سے نہیں، زخم سے نکلتی ہے۔
“رضا؟ میری یا تمہاری؟”
کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔
میں واپس آئی تو میرا گھر پہلے سے زیادہ خالی تھا۔ دیوار پر آفاق کی تصویر لگی تھی۔ میں نے اسے اتارا نہیں، صرف الٹ کر دیوار کی طرف کر دیا۔ بعض چہروں کو پھاڑنے سے بہتر ہے، انہیں ان کی اپنی تاریکی کے حوالے کر دیا جائے۔
لوگوں نے مشورہ دیا، “چپ رہو۔ عورت کی عزت خاموشی میں ہوتی ہے۔”
امی نے پہلی بار میری طرف دیکھا اور کہا، “بیٹی، خاموشی عزت ہوتی تو قبریں سب سے معزز جگہ ہوتیں۔”
اگلے دن میں تھانے گئی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر قدم نہیں۔ پھر وکیل کے دفتر گئی۔ بینک گئی۔ کلینک کا ریکارڈ نکلوایا۔ نکاح نامے کی نقل لی۔ آفاق کے دستخط، میرے اکاؤنٹ سے نکلی رقم، گاڑی کی منتقلی، سب کاغذوں پر آہستہ آہستہ اس کا اصل چہرہ بننے لگا۔
مہینوں بعد عدالت میں میرا بیان لکھا جا رہا تھا۔ سامنے پنکھا چل رہا تھا، مگر میرے ماتھے کا پسینہ خشک نہیں ہو رہا تھا۔
کلرک نے پوچھا، “ملزم سے رشتہ؟”
میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔
شوہر؟ محبوب؟ قاتل؟ چور؟
پھر میں نے صاف آواز میں کہا، “رشتہ نہیں تھا صاحب، فریب تھا۔”
کلرک نے قلم روک کر میری طرف دیکھا۔
میں نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور بیان پر دستخط کر دیے۔
اس دن پہلی بار مجھے لگا، میری کوکھ خالی سہی، مگر میری آواز بانجھ نہیں ہوئی۔
اب جب کوئی لڑکی مجھ سے محبت کی بات کرتی ہے تو میں اسے محبت سے روکتی نہیں۔ محبت کوئی گناہ نہیں۔ مگر میں اس سے بس اتنا کہتی ہوں:
“بیٹی، نکاح سے پہلے صرف اس کی آنکھیں مت دیکھنا، اس کا گھر بھی دیکھنا۔ صرف لہجہ مت سننا، اس کا ماضی بھی پوچھنا۔ صرف محبت کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اندھی نہ چل پڑنا۔ رشتہ دل سے بنتا ہے، مگر دل کو بھی آنکھیں چاہیے ہوتی ہیں۔”
کیونکہ جس نکاح میں آتا پتا نہ ہو، وہاں عورت دلہن بن کر نہیں جاتی۔
اکثر گواہ بن کر لوٹتی ہے۔
#اردو #اردوادب #شادی #marriageadvice