منتخب غزلیں

لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہ آنکھوں میں کوئ…

لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہ
آنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں دیتا
….
پرکاش فکری کا یومِ پیدائش
12 اگست 1931
…..
پرکاش فکری قلمی نام ، اصل نام ظہیر الحق۔ پرکاش فکری کی ولادت انبالہ میں ہوئی ۔
منتخب کلام

مردہ پڑے تھے لوگ گھروں کی پناہ میں
دریا وفور غیظ سے بپھرا تھا چار سو
…..
یوں تو اپنوں سا کچھ نہیں اس میں
پھر بھی غیروں سے وہ الگ سا ہے
….
جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں
اب کے برس بہار کے آثار بھی نہیں
پیڑوں پہ اب بھی چھائی ہیں ٹھنڈی اداسیاں
امکان جشنِ رنگ کا اس بار بھی نہیں
دریا کے التفات سے اتنا ہی بس ہوا
تشنہ نہیں ہیں ہونٹ تو سرشار بھی نہیں
راہوں کے پیچ و خم بھی اسے دیکھنے کا شوق
چلنے کو تیز دھوپ میں تیار بھی نہیں
بچھڑے ہوؤں کی یاد نبھاتے ہیں جان کر
ورنہ کسی کو بھولنا دشوار بھی نہیں
جتنا ستم شعار ہے یہ دل یہ اپنا دل
اتنے ستم شعار تو اغیار بھی نہیں
اہلِ ہنر کے باب میں اس کا بھی ذکر ہو
فکری کو ایسی بات پہ اصرار بھی نہیں
….
شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے
پاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہے
جاڑے کی اس دھوپ نے دیکھو کیسا جادو پھیر دیا
بے حد سبز درختوں کا بھی رنگ سنہرا لگتا ہے
بھیڑیں اجلی جھاگ کے جیسی سبزہ ایک سمندر سا
دور کھڑا وہ پربت نیلا خواب میں کھویا لگتا ہے
جس نے سب کی میل کثافت دھوئی اپنے ہاتھوں سے
دریا کتنا اجلا ہے وہ، شیشیے جیسا لگتا ہے
اندر باہر ایک خموشی، ایک جلن بے چینی سی
کس کو ہم بتلائیں آخر یہ سب کیسا لگتا ہے
شام لہکتے جذبوں والی فکری کب کی راکھ ہوئی
چاند رو پہلی کرنوں والا درد کا مارا لگتا ہے
….
وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں
وہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیں
سوال بن کے سلگتے ہیں رات بھر تارے
” کہاں ہے نیند ہماری ” وہ بس یہی پوچھیں
بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سے
سنیں جو اس کی تو شاید نہ پھر کبھی لوٹیں
پھسلتی جاتی ہے ہاتھوں سے ریت لمحوں کی
کہاں ہے بس میں ہمارے کہ ہم اسے روکیں
حقیقتوں کا بدلنا تو خواب ہے فکری
مگر یہ خواب ہے ایسا کہ سب جسے دیکھیں
………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/