عالمی ادب

باب نمبر 17 : ماسٹر نوید اور آدھی چھٹیفرانسیسی ناو…

باب نمبر 17 : ماسٹر نوید اور آدھی چھٹی
فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینی Réné Goscinny کے ناول Petit Nicholas کے ترجمے "ننھّا نصیر" کا ایک باب
ترجمہ : شوکت نواز نیازی
میں میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ ماسٹر نوید یہ کیوں کہتے ہیں کہ انہیں صاف موسم اور کھلا آسمان اچھا نہیں لگتا۔ بات تو ٹھیک ہے، بارش مجھے بھی پسند نہیں۔ لیکن بارش میں مزا تو آتا ہے۔ بارش کے دوران پانی میں پیر مار سکتے ہیں، آسمان کی جانب سر اٹھا کر اور منہ کھول کر بارش کے قطرے نگل سکتے ہیں ۔ گھر کے اندر بھی سب ٹھیک ہوتا ہے، گھر گرم ہوتا ہے اور ہم فرش پر کھلونا ریل گاڑی سے کھیل سکتے ہیں، اماّں دودھ میں چاکلیٹ ڈال کر دیتی ہیں اور کیک بناتی ہیں۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو سکول میں آدھی چھٹی نہیں ہوتی کیونکہ بارش کے دوران ہمیں باہر گراؤنڈ میں کھیلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تبھی تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ماسٹر نوید کو اچھا موسم کیوں پسند نہیں ہے حالانکہ موسم اچھا ہو تو ان کا بھی فائدہ ہے۔ وہ آدھی چھٹی میں ہماری نگرانی کرتے ہیں۔
مثلاً آج موسم بہت اچھا تھا اور آسمان پر دھوپ پھیلی تھی اور ہمیں آدھی چھٹی میں بہت مزا آ یا تھا کیونکہ پچھلے تین دنوں سے لگاتار بارش ہو رہی تھی۔ اور تینوں دن ہم کلاس کے اندر ہی بیٹھے رہے۔ اس لئے آج جب آدھی چھٹی ہوئی تو ہم حسب معمول قطار بنائے گراؤنڈ میں پہنچ گئے۔ ماسٹر نوید نے کہا، "چلو کھیلو !" اور ہم سب ادھر ادھر کھیلنے بھاگنے لگے۔ رفیع بولا، "چور سپاہی کھیلیں ؟" رفیع کے ابّا پولیس میں ہیں۔ ادریس نے جواب دیا، "نہیں، تم ہمیں تنگ کرتے ہو، ہم فٹ بال کھیلیں گے۔" اس پر وہ دونوں لڑنے لگے۔ ادریس بہت طاقتور ہے اور اسے دوستوں کی ناک پر گھونسہ مارنا لگانا اچھا لگتا ہے اور چونکہ رفیع بھی اس کا دوست تھا اس لئے اس نے اس کی ناک پر بھی ایک گھونسہ لگا دیا۔ رفیع اس اچانک حملے کے لئے تیار نہ تھا اور پیٹھ کے بل اپنے پیچھے زمین پر بیٹھے اصغر پر جا گرا جو اپنا جیم والا سینڈوچ کھا رہا تھا۔ سینڈوچ زمین پر گر گیا اور اصغر رونے لگا۔ ماسٹر نوید بھاگتے آئے اور ادریس اور رفیع کو الگ کیا اور انہیں دیوار کی جانب منہ کر کے کھڑا کر دیا۔
اصغر بولا، "اور میرا سینڈوچ ؟ وہ کون واپس کرے گا ؟" ماسٹر نوید بولے، "تمہیں بھی دیوار کے ساتھ کھڑا نہ کر دوں ؟" اصغر بولا، "نہیں سر، شکریہ، بس مجھے اپنا جیم والا سینڈوچ دلا دیں !" ماسٹر نوید کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ ناک کے نتھنے پھلائے زور زور سے سانس لینے لگے۔ وہ جب بھی غصّے میں ہوتے ہیں تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ وہ اصغر کے ساتھ مزید باتیں نہ کر سکے کیونکہ اس دوران مقصود اور جمیل آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ "مجھے میرا بنٹا واپس کرو، تم نے بے ایمانی کی ہے !" مقصود جمیل کی ٹائی کھینچتے ہوئے چیخا جبکہ جمیل اس کے چہرے پر تھپڑ لگانے لگا۔ ماسٹر نوید بولے، "کیا ہو رہا ہے یہاں ؟" ادریس بھی قریب آن کھڑا ہوا اور بولا، "جمیل جب ہارتا ہے تو رونے لگتا ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اس کے چہرے پر ایک تھپڑ لگا سکتا ہوں، سر۔"ماسٹر نوید نے حیرت سے مڑ کر ادریس کی جانب دیکھا، "میں نے تمہیں دیوار کے ساتھ کھڑا نہیں کیا تھا ؟" ادریس بولا، "اوہ، ہاں۔ میں بھول گیا !" یہ کہہ کر ادریس بھاگ کر واپس دیوار کے ساتھ جا کھڑا ہوا۔ اس دوران مقصود کے چہرے کا رنگ نیلا پڑنے لگا کیونکہ جمیل نے ابھی تک اس کی ٹائی کھینچ رکھی تھی۔ ماسٹر نوید نے ان دونوں کو بھی ادریس اور رفیع کے پاس دیوار کی جانب منہ کر کے کھڑا کر دیا۔
اصغر پھر بولا، "سر، میرا سینڈوچ ؟" وہ سینڈوچ کھا رہا تھا۔ ماسٹر نوید بولے، "تم سینڈوچ کھا تو رہے ہو !" اصغر بول اٹھا، "سر، یہ کیا بات ہوئی بھلا ؟ میں آدھی چھٹی کے لئے چار سینڈوچ لاتا ہوں اور مجھے اپنے چاروں سینڈوچ چاہئیں !" ماسٹر نوید اصغر کو جواب نہ دے پائے کیونکہ اچانک پٹاخ سے ان کے سر پر فٹبال آن لگا۔ وہ اپنا ماتھا تھامے چیخے، "یہ کس نے کیا ؟" آیان بولا، "نصیر نے، سر ! میں نے خود دیکھا ہے۔" آیان کلاس میں سب سے لائق لڑکا ہے اور میڈم کا چہیتا ہے۔ وہ ہمیں اچھا نہیں لگتا، اس کی شکل ایک غلیظ کاکروچ کی طرح ہے، وہ عینک پہنتا ہے اور عینک کی وجہ سے ہم اس کو جب بھی ہمارا جی چاہے گھونسہ نہیں مار سکتے۔ میں چیخا، "غلیظ کاکروچ، اگر تم نے عینک نہ پہن رکھی ہوتی تو میں تمہیں بتاتا !" آیان رونے لگا کہ وہ بہت بدقسمت ہے اور وہ خود کو مار ڈالے گا اور پھر وہ زمین پر لیٹ کر لوٹنے لگا۔ ماسٹر نوید نے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ فٹبال میں نے پھینکا تھا اور میں نے جواب دیا کہ ہاں میں نے ہی فٹبال پھینکا تھا اور یہ کہ میں نے لطیف کا نشانہ لیا تھا اور یہ کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی کیونکہ میں ماسٹر نوید کو نشانہ نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ بولے، "بس اب یہ کھیل بند ! میں تمہارا فٹبال ضبط کر رہا ہوں۔" پھر وہ مجھ سے بولے، "اور تم، چلو دیوار کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ !" میں نے انہیں کہا کہ یہ ناانصافی ہے۔ آیان نے ماسٹر نوید سے آنکھ بچا کر میری جانب زبان نکالی۔ وہ خاصا خوش دکھائی دے رہا تھا اور پھر وہ اپنی کتاب اٹھائے ایک جانب چلا گیا۔ آیان چھٹی کے وقفے کے دوران کھیلتا نہیں ہے، وہ اپنی کتاب پڑھتا رہتا ہے اور اپنا سبق یاد کرتا رہتا ہے۔ آیان بیچارہ پاگل ہے۔
اصغر پھر بولا، "سر، وہ میرے سینڈوچ کا کیا کرنا ہے ؟ میں اپنا تیسرا سینڈوچ کھا رہا ہوں اور آدھی چھٹی بھی ختم ہونے لگی ہے۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ میرا ایک سینڈوچ کم پڑ رہا ہے۔" ماسٹر نوید اسے جواب دینے ہی لگے تھے کہ نہ دے سکے۔ میں ان کے جواب کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ بڑا زبردست جواب ہو گا۔ لیکن وہ اصغر کو جواب نہ دے سکے کیونکہ زمین پر لوٹتے ہوئے آیان نے یکایک منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالنا شروع کر دیا۔ ماسٹر نوید اس کی جانب مڑے اور پوچھا، "اب تمہیں کیا ہوا ؟" آیان بولا، "جعفری نے مجھے دھّکا دیا ہے ! میری عینک ! میں مرنے لگا ہوں !" آیان کی باتیں سن کر مجھے وہ فلم یاد آگئی جس میں ایک آبدوز خراب ہو جاتی ہے اور اس کے اندر لوگ پھنس جاتے ہیں اور آبدوز پانی سے اوپر نہیں آ سکتی اور لوگوں کا سانس رکنے لگتا ہے۔ ادریس بولا، "نہیں، نہیں سر۔ جعفری نے دھّکا نہیں دیا۔ آیان خود ہی گر گیا تھا۔ وہ سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا۔" جعفری بولا، "تم کیوں اپنی ٹانگ اڑا رہے ہو؟ تم سے کسی نے پوچھا ؟ میں نے ہی اسے دھّکا دیا تھا، کر لو جو کرنا ہے ؟" ماسٹر نوید نے چیخ کر ادریس کو واپس دیوار کے ساتھ جا کر کھڑے ہونے کا کہا اور جعفری کو بھی اس کے ساتھ جانے کا کہا۔ پھر انہوں نے روتے ہوئے آیان کو اٹھایا جس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا اور اسے اپنے ساتھ لے کر ڈسپنسری کی جانب چل دئیے۔ ان کے ساتھ ساتھ اصغر بھی چل دیا جو ان سے اپنے جیم والے سینڈوچ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
پھر ہم نے فٹبال کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ کافی مشکل کام تھا کیونکہ گراؤنڈ میں سکول کے بڑے لڑکے پہلے ہی فٹبال کھیل رہے تھے۔ بڑے لڑکوں کے ساتھ صرف ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور ہماری اکثر لڑائی ہو جاتی ہے۔ یوں ایک گراؤنڈ میں دو فٹبالوں کے ساتھ دو ٹیمیں کھیلنے لگیں تو جھگڑا ہونے میں دیر نہ لگی۔ ایک بڑے لڑکے نے رفیع سے کہا، "اس فٹبال کو چھوڑ دو، یہ ہمارا فٹبال ہے !" رفیع چیخا، "یہ جھوٹ ہے !" حالانکہ یہ سچ تھا کہ یہ جھوٹ تھا اور ایک بڑے لڑکے نے چھوٹوں کے فٹبال سے گول کر دیا۔ پھر ایک دوسرے بڑے لڑکے نے رفیع کو ایک تھپڑ جڑ دیا اور رفیع نے اسے ٹھڈاّ مارا۔ بڑے لڑکوں کے ساتھ ہماری جنگ ہمیشہ ایسے ہی ہوتی تھی، وہ ہمیں تھپڑ لگاتے اور ہم انہیں ٹھڈّے مارتے۔ آج ہم نے خوب ٹھڈّے مارے اور سب بڑے چھوٹے لڑکے جنگ میں شریک ہو گئے اور گراؤنڈ میں شورشرابا پھیل گیا۔ لیکن اس شورشرابے کے باوجود ہمیں ماسٹر نوید کی آواز سنائی دی جو آیان اور اصغر کے ساتھ ڈسپنسری سے واپس آئے تھے۔ آیان بولا، "سر دیکھیں، وہ پھر دیوار سے ہٹ گئے ہیں۔" ماسٹر نوید واقعی غصّے میں دکھائی دے رہے تھے اور وہ ہماری جانب بھاگتے آئے۔ لیکن وہ ہمارے پاس پہنچ نہ پائے کیونکہ ان کا پیر اصغر کے جیم والے سینڈوچ پر پڑا اور وہ پھسل کر پیٹھ کے بل گر پڑے۔ اصغر بول اٹھا، "واہ سر، یہ کیا کیا آپ نے ؟ میرے جیم والے سینڈوچ کا کچومر نکال دیا !"
ماسٹر نوید اٹھے اور اپنی پتلون جھاڑنے لگے۔ اس کے ہاتھ پر جیم لگ گیا۔ اس دوران ہم دوبارہ اپنی جنگ میں مصروف ہو گئے۔ ہمیں اس آدھی چھٹی میں بہت مزا آنے لگا۔ لیکن پھر ماسٹر نوید نے اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالی اور انہوں نے گھنٹی بجا دی۔ آدھی چھٹی ختم ہو گئی۔
جب ہم کلاسوں میں جانے کے لئے قطار بنا رہے تھے کہ ماسٹر موچھل آن پہنچے۔ ماسٹر موچھل بھی ایک استاد تھے اور انہیں موچھل اس لئے کہتے تھے کہ وہ ہمیشہ ہمیں کہتے "میری آنکھوں میں دیکھو !" ہم ان کی آنکھوں میں دیکھتے تو ہمیں صرف ان کی مونچھیں ہی دکھائی دیتیں۔ ان کا یہ نام بڑے لڑکوں نے رکھا تھا۔
ماسٹر موچھل نے ماسٹر نوید سے کہا، "ہاں تو ماسٹر نوید، آدھی چھٹی کیسی رہی ؟" ماسٹر نوید نے جواب دیا، "معمول کے مطابق ! اب میں کیا بتاؤں، میں رات کو بارش کی دعا کر کے سویا تھا اور آج صبح جب میں اٹھا تو آسمان صاف تھا۔ میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ آج آدھی چھٹی میں کیا ہو نے والا ہے !"
واقعی، میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ ماسٹر نوید یہ کیوں کہتے ہیں کہ انہیں صاف آسمان اور اچھا موسم پسند نہیں۔
ترجمہ : شوکت نواز نیازی ، 30 اپریل 2020


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2751666778397171

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/