منتخب غزلیں
دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو میں تمہاری …

دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو
میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا
…
امداد امام اثر عظیم آبادی کی پیدائش
Aug 17, 1849
ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں
اجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیں
یہ مطلب ہے کہ محفل میں منائے اور من جائیں
وہ میرے چھیڑنے کو غیر سے بیزار بیٹھے ہیں
خریدار آ رہے ہیں ہر طرف سے نقد جاں لے کر
وہ یوسف بن کے بکنے کو سر بازار بیٹھے ہیں
اچانک لے نہ لوں بوسہ یہ کھٹکا ان کے دل میں ہے
مرے پہلو میں بیٹھے ہیں مگر ہشیار بیٹھے ہیں
تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے
جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں
قیامت ہے ستم مردے پہ بھی ان کو گوارا ہے
مرا لاشہ اٹھانے کے لئے اغیار بیٹھے ہیں
لب بام آ کے دکھلا وہ تماشا طور کا تم بھی
بڑے موقعے سے در پر طالب دیدار بیٹھے ہیں
اثرؔ کیوں کر نہ جانوں اس کے در کو قبلۂ عالم
اسی جانب کئی رخ کافر و دیں دار بیٹھے ہیں
……………………..
میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا
…
امداد امام اثر عظیم آبادی کی پیدائش
Aug 17, 1849
ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں
اجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیں
یہ مطلب ہے کہ محفل میں منائے اور من جائیں
وہ میرے چھیڑنے کو غیر سے بیزار بیٹھے ہیں
خریدار آ رہے ہیں ہر طرف سے نقد جاں لے کر
وہ یوسف بن کے بکنے کو سر بازار بیٹھے ہیں
اچانک لے نہ لوں بوسہ یہ کھٹکا ان کے دل میں ہے
مرے پہلو میں بیٹھے ہیں مگر ہشیار بیٹھے ہیں
تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے
جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں
قیامت ہے ستم مردے پہ بھی ان کو گوارا ہے
مرا لاشہ اٹھانے کے لئے اغیار بیٹھے ہیں
لب بام آ کے دکھلا وہ تماشا طور کا تم بھی
بڑے موقعے سے در پر طالب دیدار بیٹھے ہیں
اثرؔ کیوں کر نہ جانوں اس کے در کو قبلۂ عالم
اسی جانب کئی رخ کافر و دیں دار بیٹھے ہیں
……………………..




