وہ گولی جو پاکستان بننے تک نہیں رکی کچھ کہانیاں ل…
کچھ کہانیاں لکھی نہیں جاتیں…
خون سے لکھی جاتی ہیں۔
اور کچھ آزادیوں کا جشن نہیں منایا جاتا…
انہیں اپنے مردوں کی قبروں، ماؤں کے آنسوؤں اور بچوں کے زخموں کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
یہ میری ماں کی کہانی ہے۔
اگست 1947 میں وہ صرف نو برس کی تھیں۔
نو برس…
وہ عمر جس میں ایک بچی کو گڑیا سے کھیلنا چاہیے، ماں کی گود میں سو جانا چاہیے، باپ کی انگلی پکڑ کر بازار جانا چاہیے۔
مگر میری ماں نے اُس عمر میں…
موت دیکھی۔
روپڑ ریلوے اسٹیشن پر اُن کے خاندان کے تقریباً چالیس افراد قتل کر دیے گئے۔
چالیس…
یہ صرف ایک عدد نہیں تھا۔
چالیس چہرے تھے۔
چالیس آوازیں تھیں۔
چالیس گھر تھے۔
چالیس زندگیاں تھیں۔
اور اُن سب کے بیچ ایک نو سالہ بچی تھی، جس کی آنکھوں کے سامنے اُس کا خاندان بکھر گیا۔
اُس نے اپنی ماں کو کھو دیا۔
اپنا باپ کھو دیا۔
اپنا گھر کھو دیا۔
اپنا بچپن کھو دیا۔
لیکن اُس کے پاس رونے کی مہلت بھی نہیں تھی۔
کیونکہ اُس کی بانہوں میں اُس کا صرف تین ماہ کا بھائی تھا۔
وہ بچی بھاگی…
اپنے بھائی کو سینے سے لگائے۔
پیچھے جلتے ہوئے گھر تھے۔
آگ تھی۔
چیخیں تھیں۔
لاشیں تھیں۔
اور آگے…
صرف نامعلوم راستہ۔
وہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مزار، سرہند شریف پہنچ گئی۔
شاید اُسے لگا تھا کہ خدا کے گھر میں کوئی اسے نہیں مارے گا۔
شاید اُسے لگا تھا کہ اب وہ محفوظ ہے۔
مگر نفرت نے وہاں بھی دستک دے دی۔
مزار پر حملہ ہوا۔
اور میری ماں پھر بھاگی۔
وہی نو سالہ بچی…
وہی تین ماہ کا بچہ…
اور وہی بے رحم زمانہ۔
پھر اچانک ایک گولی چلی۔
گولی اُس کے سر میں پیوست ہو گئی۔
وہ گری۔
مگر اُس نے اپنے بھائی کو نہیں چھوڑا۔
سوچیے…
ایک نو سال کی بچی…
خود لہولہان…
سر میں گولی…
اور پھر بھی اپنی بانہوں میں تین ماہ کے بھائی کو ایسے پکڑے ہوئے جیسے پوری دنیا اُس سے چھین لی گئی ہو، مگر یہ ایک بچہ نہیں چھیننے دے گی۔
تب ایک سکھ عورت آگے بڑھی۔
اُس نے میری ماں کو اپنے وجود کی ڈھال بنا لیا۔
لوگوں کے سامنے کہا:
"یہ میری بیٹی ہے۔”
شاید اُس دن خدا نے نفرت کے بیچ انسانیت کا آخری چراغ اسی عورت کے ہاتھ میں رکھا تھا۔
میری ماں کو ہسپتال لے جایا گیا۔
علاج ہوا۔
زخم شاید بھر گیا…
مگر گولی نہ نکالی جا سکی۔
وہ گولی اُن کے دماغ میں رہ گئی۔
ایک دن کے لیے نہیں۔
ایک سال کے لیے نہیں۔
ساری زندگی۔
وہ پاکستان پہنچ گئیں۔
لاہور کے مہاجر کیمپ میں۔
پھر ایک ماہ بعد اپنی ماں کو تلاش کر لیا۔
مگر جب ماں مل گئی…
تب تک اُن کا باپ جا چکا تھا۔
چالیس رشتے دار جا چکے تھے۔
گھر جا چکا تھا۔
بچپن جا چکا تھا۔
اور سر میں پیوست وہ گولی…
وہ بھی ساتھ رہ گئی۔
—
آج جب کوئی پوچھتا ہے:
"پاکستان تمہارے لیے کیا ہے؟”
تو ہمارے پاس جواب صرف ایک لفظ نہیں۔
ہمارے پاس ایک پوری نسل کی داستان ہے۔
پاکستان ہمارے لیے وہ زمین ہے جس تک پہنچنے کے لیے ہماری ماؤں نے اپنے بچے سینوں سے باندھے تھے۔
وہ وطن ہے جس کے لیے لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے۔
اپنی زمینیں چھوڑیں۔
اپنے عزیز چھوڑے۔
اپنی قبریں چھوڑیں۔
اور بعض نے تو…
اپنی پوری زندگی چھوڑ دی۔
ہمیں آزادی کی قیمت معلوم ہے۔
کیونکہ ہماری ماں نے آزادی کا مطلب کتاب میں نہیں پڑھا تھا۔
اُس نے اسے اپنی کھوپڑی میں پیوست ایک گولی کے ساتھ پوری زندگی محسوس کیا تھا۔
ہمیں ہجرت کا مطلب معلوم ہے۔
کیونکہ ہماری ماں نے ہجرت کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں کی تھی…
اُس نے نو برس کی عمر میں، ایک شیر خوار بچے کو اٹھا کر کی تھی۔
ہمیں وطن کی قدر معلوم ہے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وطن کھونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کبھی کبھی ایک ملک صرف نقشے پر نہیں بنتا…
لوگوں کے خون سے بنتا ہے۔
اسی لیے ہمارے لیے پاکستان صرف ایک ملک نہیں۔
یہ ہماری ماں کی وہ چیخ ہے جو کبھی زبان پر نہیں آئی۔
یہ اُن چالیس لوگوں کی خاموش قبریں ہیں جنہیں ہم کبھی الوداع بھی نہ کہہ سکے۔
یہ اُس سکھ عورت کی انسانیت ہے جس نے مذہب سے پہلے انسان کو پہچانا۔
یہ اُس تین ماہ کے بچے کی زندگی ہے جسے ایک نو سالہ بچی نے اپنی جان کی قیمت پر بچایا۔
اور یہ اُس گولی کی خاموش گواہی ہے…
جو میری ماں کے سر میں عمر بھر رہی…
مگر جس نے اُن کے دل سے پاکستان کی محبت کبھی نہیں نکالی۔
آج اگر ہمارے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم ہے…
تو اسے صرف کپڑا سمجھ کر مت اٹھائیے۔
اس کے پیچھے کسی کا اجڑا ہوا گھر ہے۔
کسی ماں کی آخری نظر ہے۔
کسی بچے کی چیخ ہے۔
کسی باپ کی لاش ہے۔
کسی بہن کا بچھڑا ہوا بھائی ہے۔
اور شاید…
کسی نو سالہ بچی کے سر میں پیوست وہ گولی بھی ہے، جو ہمیں آج تک بتا رہی ہے کہ آزادی کتنی مہنگی تھی۔
ہم اُن لوگوں کی اولاد ہیں جنہوں نے پاکستان مانگا نہیں تھا…
پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ دے دیا تھا۔
اس لیے ہم آج فخر سے کہتے ہیں:
ہماری شناخت صرف ہجرت نہیں۔
ہماری پہچان صرف ماضی کا زخم نہیں۔
ہم پاکستانی ہیں۔
اور جب تک ہماری رگوں میں اُن قربانیوں کا لہو باقی ہے…
ہم اپنے وطن کی حرمت، آزادی اور عزت کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
پاکستان زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد۔
اور اُن سب کے نام…
جنہوں نے پاکستان دیکھا نہیں…
مگر پاکستان بنا گئے۔
