کسی کالج یا یونیورسٹی کے فرصت کے لمحات میں ایک بہت…

کسی کالج یا یونیورسٹی کے فرصت کے لمحات میں ایک بہت اچھے مُوڈ میں گائی گئی فیض کی لازوال نَظم۔ اگر اقبال بانو سنتیں تو شاید اس لڑکی کے ماتھے پر بوسہ دیتیں، گذشتہ دس سالوں کے دوران اس لڑکی کی آواز میں یہ نظم بیس پچیس دفعہ تو ضرور سنی ہوگی اور یقین کیجئے ہر بار پہلے سے زیادہ لطف آیا، آپ بھی لطف اٹھائیے
❞شُعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو❝
دَشتِ تنہائی میں
اے جانِ جہاں لَرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سَراب
دَشتِ تنہائی میں
دُوری کے خس و خاک تلے
کِھل رہے ہیں
تیرے پہلو کے سَمن٫ اور گلاب
اُٹھ رہی ہے ٫ کہیں قُربت سے
تیری سانس کی آنچ
اپنی خُوشبو میں ٫ سُلگتی ہوئی
مَدھم مَدھم
دُور اُفق پار چَمکتی ہوئی
قطرہ قطرہ
گِر رہی ہے
تیری دِلدار نَظر کی شبنم
اِس قدر پیار سے
اے جانِ جہاں رکھا ہے
دِل کے رُخسار پہ اِس وقت
تیری یاد نے ہاتھ
یُوں گماں ہوتا ہے
گرچہ ھے ابھی صُبحِ فِراق
ڈَھل گیا ہجر کا دن
آ بھی گئی وَصل کی رات
دَشتِ تنہائی میں
اے جانِ جہاں لَرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سَراب
(فیض احمّد فیض)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

