منتخب غزلیں

خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی August 17, 1944 مج…

خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی
August 17, 1944
مجذوب، خواجہ عزیز الحسن غوری
نام خواجہ عزیز الحسن غوری، تخلص مجذوب۔ تاریخی نام مرغوب احمد۔ ۱۲؍جون ۱۸۸۴ء کو ادرئی ، ضلع جالوں (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ تربیت خالص دینی اور مشرقی طرز پر ہوئی۔ علی گڑھ سے بی اے کیا۔ ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ خواجہ صاحب نے قانون چھوڑ کر پہلے آبکاری میں نوکری کی۔ اس نوکری سے مستعفی ہو کر ڈپٹی کلکٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔
منتخب اشعار
ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا
کہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتا
___
فطرت ہے مست روح ہے مستانہ آج کل
شیشہ ہے قلب ، دیدہ ہے پیمانہ آج کل
___
نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گا
تقاضا لاکھ تو کر اے دلِ شیدا نہ دیکھوں گا
___
جانے تو تمہیں دیں گے نہ اب تابہ سحر ہم
شب ہائے جدائی کے نکالیں گے کسر ہم
___
ہر چیز میں عکسِ رُخِ زیبا نظر آیا
عالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیا
___
پسِ پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں
کوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیں
___
وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانا
یہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جانا
___
نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیں
ہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیں
___
کوئی مزا ، مزا نہیں کوئی خوشی خوشی نہیں
تیرے بغیر زندگی، موت ہے زندگی نہیں
___
دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہے
کیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہے
___
وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوں
بڑا نا سزا ہوں سزا چاہتا ہوں
___
ذرا اے ناصحِ فرزانہ چل کر سن تو دو باتیں
نہ ہوگا پھر بھی تو مجذوبؔ کا دیوانہ دیکھوں گا
___
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا ، اب تو خلوت ہو گئی
___
یہ معانی ، یہ حقائق ، یہ روانی ، یہ اثر
شاعری تیری ہے یا مجذوبؔ یا الہام ہے؟

رہنے دو چپ مجھے نہ سنو ماجرائے دل
میں حال دل کہوں تو ابھی منہ کو آئے دل
سمجھے کون کس سے کہوں راز ہائے دل
دل ہی سے کہہ رہا ہوں ماجرائے دل
کب تک یہ ہائے ہائے جگر ہائے ہائے دل
کر رحم اے خدائے جگر، اے خدائے دل
دو لفظوں ہی میں کہدیا سب ماجرائے دل
خاموش ہوگیا ہے کوئی کہہ کے ہائے دل
آتے نہیں ہیں سننے میں اب نالہائے دل
سنسان کیوں پڑی ہے یہ ماتم سرائے دل
ہوتا ہوں محو لذت دید قضائے دل
باغ و بہار زیست ہیں یہ داغ ہائے دل
اب ہوچکی ہے جرم سے زائد سزائے دل
جانے دو بس معاف بھی کردو خطائے دل
ہر ہر ادا بتوں کی ہے قاتل برائے دل
آخر کوئی بچائے تو کیونکر بچائے دل
اتنا بھی کوئی ہوگا نہ صبر آزمائے دل
سب سے لگائے تم سے نہ کوئی لگائے دل
اک سیل بے پناہ ہے ہر اقتضائے دل
ایسا بھی ہائے کوئی نہ پائے جو پائے دل
مجذوب تو بھی غیر خدا سے لگائے دل
عشق بتاں ہے بندہ حق ناسزائے دل
…..
آئے تھے کہنے حالِ دل بیٹھے ہیں لب سئے ہوئے
نیچی نظر کئے ہوئے اپنا سا منہ لئے ہوئے
چھیڑو نہ ہم کو زاہدو بیٹھے ہیں ہم پئے ہوئے
چاہتے ہو جو لَوٹنا زہد کو تم لئے ہوئے
کیسے گئے تھے شوق سے لینے اس آشنا کو ہم
ویسے کے ویسے آگئے اپنا سا منہ لئے ہوئے
جان سے عزیز کیوں مجھ کو نہ ہوں یہ داغِ دل
ہائے کسی کو کیا خبر کس کے ہیں یہ دئے ہوئے
کہنے کو ہجر ہے مگر دل کی کسی کو کیا خبر
پھرتے ہیں اُس نگار کو پہلو میں ہم لئے ہوئے
ہوگئے زندہ مردہ دل جب یہ سنا کہ وہ آئیں گے
جب یہ سنا نہ آئیں گے مر گئے پھر جئے ہوئے
چاہتے ہیں نہ فاش ہو اُن کو جو مجھ سے ربط ہے
رہتے ہیں سب کے سامنے خود کو جو وہ لئے ہوئے
…………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/