افسانے

وہ جو ہم سے بیاں نہیں ہوتے, لفظ اتنے آساں نہیں ہوتے. کوئی سمجھے تو بولتے ہیں مگر…

وہ جو ہم سے بیاں نہیں ہوتے,
لفظ اتنے آساں نہیں ہوتے.
کوئی سمجھے تو بولتے ہیں مگر,
درد اہلِ زباں نہیں ہوتے.
دُشمنی دوستی سے بہتر ہے,
دُشمنی میں گُماں نہیں ہوتے.
ہم سے مِلنا ہے تو پَلٹ جائیں,
بَخُدا ہم یہاں نہیں ہوتے.
فِکر نہ کر،کہ جب تلک ہم ہیں,
غم تیرے بے اماَں نہیں ہوتے.
میرے گھر کے مکِین ہیں سارے,
حادثے بے مکاں نہیں ہوتے.
لوگ لوگوں کی جان لیتے ہیں,
لوگ لوگوں کی جاں نہیں ہوتے.
چھوڑئیے، اب تو مر چُکا وہ شخص,
مُردوں سے بدگُماں نہیں ہوتے.
جانے کیسا آسیب ہے گھر میں,
میرے بچے جواں نہیں ہوتے.
بقصدِ حُرمت صدا نہیں دیتا,
آپ ورنہ کہاں نہیں ہوتے.
عشق گھاٹے کا کاروبار نہیں,
چاہتوں میں زیاں نہیں ہوتے.
غم ہیں خوددار کس قدر میرے,
چہرے سے عیاں نہیں ہوتے.
باتیں دل کی میں دل میں رکھتی ہوں,
کیونکہ دل آتش فشاں نہیں ہوتے.
جن پہ دُنیا تمام ہو جاۓ,
اُن سے آگے جہاں نہیں ہوتے.

ہما احمد


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/