منتخب نظمیں

“امّی، نرسنگ ہوم میں بیڈ مل گیا ہے۔ جمعہ تک یہ کا…

💥 “امّی، نرسنگ ہوم میں بیڈ مل گیا ہے۔ جمعہ تک یہ کاغذ سائن کر دیں اور گھر خالی کر دیں۔” 💔🥹

صبح کے ساڑھے آٹھ بجے میرے بیٹے نے میرا سوٹ کیس دروازے کے پاس رکھ دیا۔

پھر چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے اس نے ایسے کہا جیسے بجلی کا بل بتا رہا ہو۔

میں نے کپ دونوں ہاتھوں میں تھاما۔

چائے اب بھی گرم تھی۔

“پہلے اُس آدمی سے پوچھ لو جو اس گھر کا مالک ہے۔”

فراز ہنس پڑا۔

“کون سا آدمی؟”

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

جنوری کی دھند ابھی پوری طرح نہیں اٹھی تھی۔ گلی میں دودھ والے کی موٹر سائیکل کا شور دور جا رہا تھا۔

“وہی جس نے یہ گھر بنایا تھا۔”

فراز نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔

“ابو؟ امّی، ابو کو مرے تین سال ہو گئے ہیں۔”

“مجھے معلوم ہے۔”

“تو پھر؟”

میں نے چائے کی ایک چھوٹی سی چسکی لی۔

“بس پوچھ لینا۔”

اس نے مجھے چند لمحے دیکھا، پھر سر جھٹک کر ہنس دیا۔

“آپ واقعی بوڑھی ہو گئی ہیں۔”

میں نے جواب نہیں دیا۔

اس گھر میں کچھ جملے ایسے تھے جن کا جواب دینے سے گھر کی دیواریں بھی شرمندہ ہو جاتی تھیں۔

میرے شوہر سلیم نے یہ مکان 1982 میں بنایا تھا۔

راولپنڈی کے ایک پرانے محلے میں، جہاں تب سڑکیں اتنی چوڑی نہیں تھیں اور گھروں کے دروازے ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوا کرتے تھے۔

سلیم سرکاری محکمے میں کلرک تھے۔

تنخواہ زیادہ نہیں تھی، مگر حساب کتاب ایسا رکھتے تھے جیسے ہر روپیہ ان کے سامنے نام لکھوا کر آتا ہو۔

ہر اینٹ لگتے وقت وہ مجھ سے کہتے،

“نسرین، یاد رکھنا، گھر اینٹوں سے نہیں بنتا۔”

میں پوچھتی، “پھر کس سے بنتا ہے؟”

وہ مسکرا کر کہتے،

“جس کے پاس بیٹھنے کی جگہ نہ ہو، اس کے لیے چھت بھی محبت ہوتی ہے۔”

ان کی ایک عادت تھی۔

وہ گھر کی بڑی پیتل کی چابی ہمیشہ اپنی واسکٹ کی جیب میں رکھتے تھے۔

اتنی بڑی چابی کہ کپڑے کے اوپر سے بھی اس کا ابھار دکھائی دیتا۔

جب رات کو دفتر سے واپس آتے تو دروازہ کھولنے سے پہلے چند لمحے باہر کھڑے رہتے۔

جیسے اپنے ہی گھر کو سلام کر رہے ہوں۔

سلیم کو مرے تین سال ہو گئے تھے۔

لیکن وہ چابی آج بھی میرے پاس تھی۔

سلیم کے انتقال کے تیسرے دن فراز اور اس کی بیوی صائمہ ایک ٹرک لے کر آ گئے۔

“آپ اکیلی کیسے رہیں گی، امّی؟”

فراز نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔

اس کا ہاتھ گرم تھا۔

میں نے اس وقت یہی سمجھا تھا کہ بیٹا باپ کے جانے کے بعد ماں کو سہارا دے رہا ہے۔

اسی شام میری سلائی مشین میرے کمرے سے نکال کر چھوٹے والے کمرے میں پہنچا دی گئی۔

اگلے دن میری الماری۔

پھر پلنگ۔

پھر کتابیں۔

ایک ہفتے بعد میرا کمرہ “مہمانوں کے لیے” بن گیا۔

اور میں برآمدے کے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں ایک تہہ ہونے والے پلنگ پر آ گئی۔

صائمہ نے ایک دن پردے بدلتے ہوئے کہا،

“امی، یہ والا کمرہ ویسے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کو دھوپ مل جائے گی۔”

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

کھڑکی کے سامنے دیوار تھی۔

دھوپ صرف دوپہر کو پانچ منٹ کے لیے فرش پر آتی تھی۔

میں نے کچھ نہیں کہا۔

عید پر صائمہ نے ڈرائنگ روم میں نئے کشن رکھے اور ہنس کر کہا،

“اب تو ہمارا گھر کتنا پیارا لگتا ہے۔”

میں نے لفظ “ہمارا” سنا۔

اور پہلی دفعہ مجھے محسوس ہوا کہ شاید سلیم کی بڑی پیتل کی چابی کچھ زیادہ بھاری ہو گئی ہے۔

فراز ہر مہینے میری پنشن میں سے پندرہ ہزار روپے لے جاتا تھا۔

“گھر کے خرچے ہیں، امّی۔”

پہلے میں خود نکال کر دیتی تھی۔

پھر وہ خود اے ٹی ایم کارڈ رکھنے لگا۔

ایک دن میں نے پوچھا،

“بیٹا، اتنے پیسے کیوں چاہیے ہوتے ہیں؟”

اس نے جوتے کے تسمے باندھتے ہوئے کہا،

“آپ کو کھانا مل رہا ہے، بجلی چل رہی ہے، دوا آ رہی ہے۔ مفت میں تو نہیں ہوتا نا سب کچھ۔”

میں نے سر ہلا دیا۔

“ہاں۔”

وہ چلا گیا۔

میں دیر تک اپنی سلائی مشین کے پاس بیٹھی رہی۔

مشین پر دھول کی ایک باریک تہہ جم گئی تھی۔

میں نے انگلی سے اس پر ایک لکیر کھینچی۔

پھر وہ لکیر مٹا دی۔

مارچ کی ایک رات میری آنکھ کھلی تو کچن سے آواز آ رہی تھی۔

فراز فون پر تھا۔

“دیکھو، مکان کم از کم پانچ کروڑ کا ہے۔”

میں سیدھی لیٹی رہی۔

“امی کو بس کہیں رکھنا ہے۔ دو چار مہینے کا خرچہ دے دیں گے۔ پھر گھر صاف کر کے بیچ دیں گے۔”

کچھ دیر خاموشی رہی۔

پھر فراز ہنسا۔

وہ ہنسی میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔

“ابا کے نام تھا، اب ہمارے ہی کام آئے گا نا۔”

میرے ہاتھ چادر کے اوپر مٹھی بن گئے۔

اس رات مجھے سلیم کی وہ پیتل کی چابی یاد آئی۔

صبح فجر کے بعد میں نے الماری کھولی۔

چابی وہیں تھی۔

پرانے رومال میں لپٹی ہوئی۔

میں نے اسے ہاتھ میں لیا تو دھات سرد تھی۔

بالکل سلیم کی انگلیوں جیسی۔

اسی دن میں نے فراز سے کہا،

“بیٹا، دوپہر کو ذرا میرے ساتھ چلنا ہے۔”

“کہاں؟”

“بس ایک جگہ۔”

“مجھے آفس جانا ہے۔”

“اکیلی چلی جاؤں گی۔”

وہ موبائل دیکھتے ہوئے بولا،

“ٹھیک ہے۔”

میں اکیلی نکل گئی۔

محلے کی گلی سے رکشہ لیا۔

راولپنڈی کچہری کے قریب ایک چھوٹے سے دفتر میں بیٹھی تو وکیل نے عینک کے اوپر سے مجھے دیکھا۔

“آپ نے فیصلہ کر لیا ہے؟”

میں نے پیتل کی چابی میز پر رکھ دی۔

“فیصلہ نہیں کیا۔ بس دیر بہت کر دی ہے۔”

وہ خاموش ہو گیا۔

اس دن مکان فروخت ہو گیا۔

کاغذات مکمل ہوئے۔

رجسٹری ہوئی۔

رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔

اور اسی دن ایک دوسرا معاہدہ بھی ہوا۔

میں نے نئے مالک سے کہا تھا،

“مجھے مرنے تک اس گھر میں رہنے دیں۔”

وہ شخص ایک ریٹائرڈ بینکر تھا۔

اس نے کچھ دیر میری طرف دیکھا۔

“آپ یہاں رہیں گی۔ کرایہ؟”

“سال کا ایک روپیہ۔”

وہ ہنس پڑا۔

“ایک روپیہ؟”

“سلیم نے یہ گھر بناتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ جس دن مجھے اپنے ہی گھر میں رہنے کے لیے کرایہ دینا پڑا، اُس دن گھر نہیں رہے گا۔”

وہ آدمی خاموش ہو گیا۔

پھر اس نے کاغذ پر دستخط کر دیے۔

میں نے بھی کر دیے۔

لیکن ایک بات میں نے کسی کو نہیں بتائی۔

نئے مالک نے چھ ماہ بعد وہ گھر میری پوتی حنا کو بیچنے پر رضامندی بھی دے دی تھی۔

حنا۔

فراز کی پہلی بیوی کی بیٹی۔

جسے صائمہ نے کبھی گھر کی دہلیز کے اندر نہیں آنے دیا تھا۔

فراز نے اپنی دوسری شادی کے بعد بیٹی کو فون کرنا تقریباً بند کر دیا تھا۔

حنا نے کبھی شکایت نہیں کی۔

ہر عید پر ایک کارڈ آتا۔

“دادی، اللہ آپ کو لمبی عمر دے۔”

ہر سال ایک ہی خط۔

لیکن میری الماری کے ایک خانے میں وہ سب کارڈ محفوظ تھے۔

فراز کو معلوم نہیں تھا کہ حنا نے اپنی ماں کی چھوڑی ہوئی کچھ بچت، اپنی ملازمت کی رقم اور بینک فنانسنگ ملا کر وہ مکان خرید لیا تھا۔

وہ چھ ماہ سے مالک تھی۔

اور فراز کو خبر نہیں تھی۔

کیونکہ میں چاہتی تھی کہ وہ کچھ وقت تک اسی گھر میں رہ کر وہ سب منصوبے بنائے جو اسے کبھی پورے نہیں کرنے تھے۔

اس دوران صائمہ نے دیواروں کے رنگ منتخب کیے۔

“بیج اچھا رہے گا۔ آج کل خریدار یہی پسند کرتے ہیں۔”

فراز نے ایک پراپرٹی ڈیلر کو گھر دکھایا۔

وہ آدمی ڈرائنگ روم میں کھڑا ہو کر بولا،

“مکان اچھا ہے، بس بزرگ خاتون کا مسئلہ ہے۔”

فراز ہنسا۔

“وہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔”

میں کچن میں چائے بنا رہی تھی۔

تین کپ رکھے۔

چوتھا کپ بھی۔

پھر چوتھا اٹھا لیا۔

پراپرٹی ڈیلر نے جاتے ہوئے کہا،

“آنٹی، آپ کی چائے اچھی تھی۔”

میں نے مسکرا کر کہا،

“بیٹا، گھر بھی کبھی اچھا تھا۔”

وہ شاید سمجھا نہیں۔

پچھلے ہفتے فراز نے میرے کمرے میں آ کر ایک فائل رکھی۔

“نرسنگ ہوم اچھا ہے۔ پنڈی سے باہر نہیں۔ ڈاکٹر بھی ہیں۔”

میں نے پوچھا،

“تم نے دیکھا ہے؟”

“ہاں۔”

“میرے لیے؟”

“آپ کے لیے ہی تو۔”

پھر اس نے سوٹ کیس دروازے کے پاس رکھ دیا۔

اسی دن سے وہ ہر صبح ایک ہی بات دہراتا۔

“جمعہ کو گاڑی آ جائے گی۔”

میں ہر بار چائے پیتی رہی۔

اور پیتل کی چابی اپنی جیب میں رکھتی رہی۔

جمعہ آ گیا۔

صائمہ نے سفید پلیٹ میں بسکٹ رکھے۔

وہی پلیٹ جو میری ماں نے مجھے شادی کے وقت دی تھی۔

فراز نے نیا استری کیا ہوا کُرتا پہنا۔

میز پر کاغذ رکھا تھا۔

“یہ آخری بار کہہ رہا ہوں، امّی۔ سائن کر دیں۔”

میں نے قلم کو دیکھا۔

پھر اس کی طرف۔

“پہلے اُس آدمی سے پوچھ لو جو اس گھر کا مالک ہے۔”

صائمہ نے کپ زور سے میز پر رکھا۔

“امی! آپ کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی؟ ابو مر چکے ہیں!”

میں نے بہت آہستہ کہا،

“مجھے معلوم ہے۔”

“تو پھر یہ پاگل پن کیوں؟”

میں نے جواب نہیں دیا۔

دروازے کی گھنٹی بجی۔

فراز فوراً اٹھا۔

“ریئل اسٹیٹ والا ہوگا۔”

اس نے دروازہ کھولا۔

باہر حنا کھڑی تھی۔

نیلے رنگ کا سادہ سا سوٹ۔

ہاتھ میں نیلا فولڈر۔

اور دوسری مٹھی میں چابیوں کا گچھا۔

فراز کے چہرے سے جیسے خون پیچھے ہٹ گیا۔

حنا نے اسے دیکھا۔

“السلام علیکم، ابو۔”

فراز کے ہونٹ ہلے مگر آواز نہیں نکلی۔

صائمہ اٹھ کر دروازے تک آئی۔

“یہ یہاں کیوں آئی ہے؟”

حنا نے میری طرف دیکھا۔

پھر مسکرائی۔

“دادی نے بلایا تھا۔”

فراز نے اچانک اس کے ہاتھ سے فولڈر چھین لیا۔

“یہ کیا ہے؟”

حنا نے اس کی کلائی پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔

بس بولی،

“کھول کر دیکھ لیں۔”

فراز نے کاغذات نکالے۔

ایک صفحہ۔

پھر دوسرا۔

پھر آخری صفحہ۔

اس کی انگلیاں رک گئیں۔

“یہ…”

حنا نے آہستہ سے کہا،

“نام پڑھیں، ابو۔”

فراز نے کاغذ کو آنکھوں کے قریب کیا۔

“حنا سلیم…”

اس کے بعد کمرے میں ایسی خاموشی اتری جس میں باہر سے گزرتی موٹر سائیکل بھی بہت دور لگنے لگی۔

صائمہ نے کاغذ جھپٹ لیا۔

اس نے نام پڑھا۔

پھر مجھے دیکھا۔

“آپ نے…؟”

میں نے سر نہیں اٹھایا۔

فراز نے میری طرف قدم بڑھایا۔

“آپ نے گھر بیچ دیا تھا؟”

“چھ ماہ پہلے۔”

“اور ہمیں بتایا نہیں؟”

میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں تھا کہ گھر کس کا ہے۔”

وہ پیچھے ہٹ گیا۔

جیسے میں نے اسے دھکا دیا ہو۔

حنا نے میز پر دوسری فائل رکھ دی۔

“اور یہ بھی ہے۔”

فراز نے فائل کھولی۔

اس کے اندر میرے رہائش کے حقوق والا معاہدہ تھا۔

وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔

پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔

“تو آپ نے ہمیں چھ ماہ تک…”

میں نے اس کی بات کاٹ دی۔

“میں نے تمہیں کچھ نہیں کیا، فراز۔”

میں نے میز کے نیچے پڑی اپنی چپل سیدھی کی۔

“میں نے صرف تمہیں وہی وقت دیا جو تم مجھے دینے والے تھے۔”

صائمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

لیکن وہ میرے لیے نہیں تھے۔

وہ شاید اس گھر کے لیے تھے۔

اس گھر کے لیے جسے وہ چھ ماہ سے اپنے خوابوں میں رنگ رہی تھی۔

حنا نے چابیوں کا گچھا میز پر رکھا۔

ایک چابی الگ تھی۔

بڑی۔

پیتل کی۔

فراز کی نظریں اس پر جم گئیں۔

“یہ کیا ہے؟”

میں نے جیب سے اپنی پرانی چابی نکالی۔

دونوں چابیاں ایک جیسی تھیں۔

حنا نے اسے دیکھ کر کہا،

“دادی نے مجھے گھر کے ساتھ یہ بھی دیا تھا۔”

فراز نے مجھے دیکھا۔

“یہ ابو کی چابی ہے۔”

“ہاں۔”

“آپ نے مجھے کیوں نہیں دی؟”

میں نے بہت دیر بعد جواب دیا۔

“کیونکہ تم دروازہ کھولنے نہیں آئے تھے، بیٹا۔”

وہ خاموش رہا۔

“تم صرف یہ دیکھنے آئے تھے کہ اندر کیا کیا رکھا ہے۔”

دوپہر تک فراز اور صائمہ اپنا سامان باندھنے لگے۔

نرسنگ ہوم کی گاڑی نہیں آئی۔

نہ کوئی ریئل اسٹیٹ والا۔

نہ کوئی پولیس۔

صرف دو خاموش مزدور آئے جنہیں حنا نے بلایا تھا۔

انہوں نے فراز کا نیا صوفہ اٹھایا۔

پھر ٹی وی۔

پھر وہ میز جس پر صائمہ نے کبھی “ہمارا گھر” لکھ کر خریداری کی فہرست بنائی تھی۔

میں دروازے کے پاس کھڑی رہی۔

حنا میرے قریب آئی۔

“دادی، آپ ٹھیک ہیں؟”

میں نے سر ہلایا۔

“ہاں۔”

پھر میں نے اسے پیتل کی پرانی چابی دے دی۔

اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔

“یہ آپ رکھیں۔”

“نہیں۔”

میں نے اس کی انگلیاں چابی کے گرد بند کر دیں۔

“اب تمہیں گھر کی ضرورت ہے۔ مجھے صرف یہ یقین چاہیے کہ جب کبھی تمہیں لگے کہ یہ گھر تمہارا ہے… تو تمہیں یاد رہے کہ تم بھی کبھی کسی کے گھر کی بچی تھیں۔”

حنا کی آنکھیں بھر آئیں۔

اس نے کچھ کہنا چاہا۔

میں نے روک دیا۔

“بس چابی سنبھال کر رکھنا۔”

شام کو گھر خالی ہو گیا۔

صحن میں وہی نیم کا درخت تھا۔

دیوار پر سلیم کی لگائی ہوئی گھڑی اب بھی چل رہی تھی۔

ٹک۔

ٹک۔

ٹک۔

حنا نے میرے لیے چائے بنائی۔

ہم دونوں برآمدے میں بیٹھ گئے۔

کافی دیر تک کوئی کچھ نہیں بولا۔

پھر اس نے پوچھا،

“دادی، آپ نے ابو کو معاف کر دیا؟”

میں نے کپ میں چائے دیکھی۔

اوپر ایک پتلا سا جھاگ کا دائرہ بنا ہوا تھا۔

“پتہ نہیں۔”

“پھر؟”

میں نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔

“کچھ رشتے معافی سے نہیں بچتے، حنا۔”

وہ خاموش رہی۔

میں نے پیتل کی چابی کی طرف دیکھا جو اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

“وہ صرف یہ سیکھتے ہیں کہ اگلی بار دروازہ کس کے لیے کھولنا ہے۔”

حنا نے چابی مٹھی میں بند کر لی۔

اور اس رات پہلی بار، سلیم کے بنائے ہوئے اس گھر کا دروازہ میرے پیچھے نہیں، میرے سامنے بند ہوا۔

اندر جانے کے لیے نہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ اب اندر آنے والا کون ہے۔

افسانہ: چابی
©️ انتخاب سخن

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/