منتخب غزلیں
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمای…

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
——
میر تقی میر کا یوم پیدائش
(پیدائش: 28 مئی 1723ء— وفات: 20 ستمبر 1810ء)
——
منتخب کلام
——
ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کریں
چاہیے اہل ِ سخن میر کو استاد کریں
——
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میر کی استادی کا
——
گر دیکھو تم طرز ِ کلام اس کی نظر کر
اے اہل ِ سخن میر کو استاد کرو گے
——
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
——
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنیے گا
کہتے کسی کو سنیے گا تو دیر تلک سر دُھنیے گا
——
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
——
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
——
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
——
جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز
تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا
——
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
——
ہر ورق ہر صفحہ میں ایک شعر شورانگیز ہے
عرصہٴ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا
——
جہاں سے دیکھیے ایک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
——
جی میں آتا ہے کچھ اور بھی موزوں کیجئے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
——
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میر جی بھی کمال رکھتے ہیں
——
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
——
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
——
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
——
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
——
میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
——
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
——
ہم طور ِ عشق سے واقف نہیں ہیں لیکن
سینے میں جیسے دل کو کوئی ملا کرے ہے
——
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
——
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
——
پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
——
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
——
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
——
نمود کرکے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا
کہے تو میر اک بلبلا تھا پانی کا
——
جس سر کو ہے یاں آج غرور تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نو حہ گری کا
——
روشن ہے اس طرح دل ِ ویراں میں داغ
ایک اُجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ
——
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لوہو (لہو) آتا ہے جب نہیں آتا
——
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
…
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جوتجھ بن نہ جینے کوکہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو، یاں سے لہو میں نہا کر چلے
پرستش کی یاں تک ٰکہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے
گئی عمر در بندِ فکرِ غزل
سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
——
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
پڑے ایسے اسباب پایان کار
کہ ناچار یوں جی جلا کر چلے
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں
چمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے
نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
——
میر تقی میر کا یوم پیدائش
(پیدائش: 28 مئی 1723ء— وفات: 20 ستمبر 1810ء)
——
منتخب کلام
——
ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کریں
چاہیے اہل ِ سخن میر کو استاد کریں
——
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میر کی استادی کا
——
گر دیکھو تم طرز ِ کلام اس کی نظر کر
اے اہل ِ سخن میر کو استاد کرو گے
——
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
——
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنیے گا
کہتے کسی کو سنیے گا تو دیر تلک سر دُھنیے گا
——
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
——
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
——
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
——
جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز
تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا
——
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
——
ہر ورق ہر صفحہ میں ایک شعر شورانگیز ہے
عرصہٴ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا
——
جہاں سے دیکھیے ایک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
——
جی میں آتا ہے کچھ اور بھی موزوں کیجئے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
——
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میر جی بھی کمال رکھتے ہیں
——
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
——
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
——
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
——
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
——
میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
——
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
——
ہم طور ِ عشق سے واقف نہیں ہیں لیکن
سینے میں جیسے دل کو کوئی ملا کرے ہے
——
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
——
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
——
پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
——
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
——
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
——
نمود کرکے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا
کہے تو میر اک بلبلا تھا پانی کا
——
جس سر کو ہے یاں آج غرور تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نو حہ گری کا
——
روشن ہے اس طرح دل ِ ویراں میں داغ
ایک اُجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ
——
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لوہو (لہو) آتا ہے جب نہیں آتا
——
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
…
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جوتجھ بن نہ جینے کوکہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو، یاں سے لہو میں نہا کر چلے
پرستش کی یاں تک ٰکہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے
گئی عمر در بندِ فکرِ غزل
سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
——
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
پڑے ایسے اسباب پایان کار
کہ ناچار یوں جی جلا کر چلے
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں
چمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے
نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے



