منتخب نظمیں

ہر شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب وہ کتا بس اڈے کے پرا…

ہر شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب وہ کتا بس اڈے کے پرانے لوہے کے گیٹ کے پاس آ کر بیٹھ جاتا تھا۔

سفید بالوں پر مٹی کی تہہ جمی رہتی، دائیں کان کا سرا کٹا ہوا تھا اور گردن میں پڑا ہوا چمڑے کا پرانا پٹہ اب اتنا ڈھیلا ہو چکا تھا کہ کبھی کبھی چلتے ہوئے زمین سے گھسٹنے لگتا۔

بسیں آتی جاتیں۔

لاہور سے آنے والی بس، اسلام آباد سے آنے والی بس، مری والی، ٹیکسلا والی۔

وہ ہر بس کے رکنے پر فوراً اٹھ کھڑا ہوتا۔

مسافروں کے درمیان گردن آگے بڑھا کر دیکھتا۔

کبھی کوئی آدمی بھورے شلوار قمیص میں اترتا تو وہ دو قدم آگے بڑھتا، پھر رک جاتا۔

کبھی کسی بوڑھے کے ہاتھ میں وہی سیاہ چھڑی ہوتی جیسی اس کے مالک کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی، تو کتا اپنی دم ہلانے لگتا۔

مگر ہر بار کوئی اور ہوتا۔

اور ہر بار وہ واپس اسی جگہ آ کر بیٹھ جاتا۔

بس اڈے کے چائے والے رشید نے اسے پہلی دفعہ تقریباً آٹھ سال پہلے دیکھا تھا۔

تب وہ جوان تھا۔

بال گھنے تھے، آنکھوں میں چمک تھی اور جسم میں ایسی پھرتی کہ بس کے ساتھ ساتھ کافی دور تک دوڑ سکتا تھا۔

رشید نے کئی مرتبہ اسے بھگانے کی کوشش کی تھی۔

"چل اوئے! یہاں کیوں پڑا رہتا ہے؟”

کتا دو قدم پیچھے ہٹ جاتا، پھر گیٹ کے باہر جا کر بیٹھ جاتا۔

رشید نے ایک دن غصے میں اس پر چائے کا بچا ہوا پانی پھینکا۔

کتا بھیگ گیا۔

مگر اگلے دن پھر وہیں تھا۔

"بڑا ڈھیٹ ہے،” رشید نے دکان کے پاس بیٹھے ایک رکشہ ڈرائیور سے کہا۔

وہ ہنس کر بولا، "ڈھیٹ نہیں، کسی کا وفادار لگتا ہے۔”

بات آئی گئی ہو گئی۔

پھر رشید نے محسوس کیا کہ کتا صرف شام کو آتا ہے۔

ساڑھے پانچ بجے۔

روز۔

بارش ہو، دھوپ ہو، سردی ہو یا دھند۔

ساڑھے پانچ بجے وہ گیٹ کے پاس آ جاتا۔

پہلے پہل رشید اسے بسکٹ ڈال دیتا۔

پھر روٹی۔

پھر کبھی بچا ہوا گوشت۔

لیکن کتا کھانا ہمیشہ جلدی جلدی کھا کر ختم نہیں کرتا تھا۔

ایک حصہ وہ کھاتا، دوسرا اپنے سامنے رکھ کر بسوں کو دیکھتا رہتا۔

جیسے کسی کے ساتھ بانٹنے کے لیے بچا رہا ہو۔

ایک سرد شام رشید نے اسے اپنے پاس بلا کر کہا:

"آ جا، آج اندر بیٹھ جا۔”

کتا اندر نہیں آیا۔

وہ گیٹ کے پاس ہی بیٹھا رہا۔

"کس کا انتظار ہے تیرا؟”

کتا خاموشی سے سڑک کی طرف دیکھتا رہا۔

رشید نے ہنس کر کہا:

"جس کا انتظار ہے نا، وہ شاید بہت دیر سے آ رہا ہے۔”

اس جملے پر اسے خود بھی معلوم نہیں کیوں دل میں ایک عجیب سا بوجھ محسوس ہوا۔

اگلے دن بس اڈے پر ایک نیا کنڈکٹر آیا۔

اس نے کتے کو دیکھا تو بولا:

"یہ تو وہی کتا ہے جو روز یہاں بیٹھتا ہے۔”

رشید نے کہا:

"کسی کا تھا۔”

"کسی کا تھا؟”

"ہاں۔”

"اب کہاں ہے مالک؟”

رشید نے کندھے اچکائے۔

"پتا نہیں۔”

وہ خاموش ہو گیا۔

کچھ دیر بعد بولا:

"شاید چھوڑ گیا ہو۔”

رشید نے پہلی بار جواب نہیں دیا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بات اتنی سادہ نہیں تھی۔

اس نے کئی سال پہلے ایک مسافر سے سنا تھا کہ اس کتے کا مالک، سلیم نام کا ایک ریٹائرڈ استاد، ایک دن اسی بس اڈے سے شہر گیا تھا۔

واپس نہیں آیا۔

راستے میں اسے دل کا دورہ پڑا تھا۔

لاش گھر پہنچ گئی تھی۔

مگر کتا اس دن سے بس اڈے پر آ بیٹھا تھا۔

شاید اسے کسی نے بتایا نہیں تھا کہ انتظار ختم ہو چکا ہے۔

شاید جانور موت کا مطلب نہیں سمجھتے۔

وہ صرف واپسی سمجھتے ہیں۔

اس لیے وہ انتظار کرتا رہا۔

سال گزرتے گئے۔

بس اڈہ بدل گیا۔

پرانا ٹکٹ گھر گرا کر نیا بنا دیا گیا۔

رشید کی دکان پر نئی تختی لگ گئی۔

کئی کنڈکٹر آئے، کئی چلے گئے۔

کچھ لوگ جو روز اسی اڈے سے سفر کرتے تھے، بوڑھے ہو کر دوسروں کے سہارے آنے لگے۔

مگر وہ کتا ویسا ہی رہا۔

بس اب اس کی رفتار کم ہو گئی تھی۔

آنکھوں کے گرد سفید بال پھیل گئے تھے۔

دانت کم رہ گئے تھے۔

اور بس کے رکنے پر اٹھنے میں اسے پہلے سے زیادہ وقت لگتا تھا۔

ایک دن شدید بارش ہوئی۔

شام کے وقت بسیں دیر سے آ رہی تھیں۔

لوگ چھتوں کے نیچے دبکے ہوئے تھے۔

رشید نے دکان بند کرتے ہوئے کتے کو دیکھا۔

وہ حسبِ معمول گیٹ کے پاس بیٹھا تھا۔

رشید نے آواز دی:

"چل، آج گھر چل میرے ساتھ۔”

کتا اٹھا۔

چند قدم رشید کے پیچھے چلا۔

پھر اچانک رک گیا۔

دور سے ایک بس کی روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔

وہ پوری طاقت سے بس کی طرف دیکھنے لگا۔

بس آ کر رکی۔

دروازہ کھلا۔

مسافر اترنے لگے۔

کتا ایک ایک چہرہ دیکھتا رہا۔

پھر ایک آدمی اترا۔

بھورا کُرتا۔

ہاتھ میں چھڑی۔

کتا اچانک آگے بڑھا۔

اس کی دم تیزی سے ہلنے لگی۔

رشید نے سوچا شاید آج…

مگر آدمی کوئی اور تھا۔

کتا چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔

پھر واپس اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔

رشید نے پہلی بار اس کتے کی آنکھوں میں کچھ ایسا دیکھا جسے وہ لفظ نہیں دے سکا۔

مایوسی نہیں۔

شاید تھکن تھی۔

یا شاید وہ عمر جس میں انتظار بھی جسم پر بوجھ بن جاتا ہے۔

اگلی صبح وہ وہاں نہیں تھا۔

رشید نے سوچا، شاید کسی کے ساتھ چلا گیا ہوگا۔

مگر شام کو بھی نہ آیا۔

اگلے دن بھی نہیں۔

تیسرے دن رشید اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے بس اڈے کے پچھلے حصے میں گیا۔

وہ ایک پرانے نیم کے درخت کے نیچے پڑا تھا۔

سانس بہت ہلکی تھی۔

رشید اس کے پاس بیٹھ گیا۔

"اوئے…”

کتے نے آنکھیں کھولیں۔

رشید نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

پرانا چمڑے کا پٹہ اب بھی اس کی گردن میں تھا۔

"اتنے سال انتظار کیا تو نے؟”

کتا کچھ نہیں بولا۔

دور سے ایک بس کے ہارن کی آواز آئی۔

کتے نے بہت آہستہ سے سر اٹھایا۔

اس کی آنکھیں گیٹ کی طرف جم گئیں۔

جیسے آخری بار بھی وہ یہی دیکھنا چاہتا ہو کہ شاید آج…

شاید اسی بس سے…

رشید نے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔

بس آئی۔

رکی۔

دروازہ کھلا۔

لوگ اترے۔

اور پھر بس چلی گئی۔

کتا خاموش تھا۔

اس بار اس نے انتظار نہیں کیا۔

رشید دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔

اس نے سوچا، انسان بھی تو کچھ ایسا ہی ہے۔

کبھی کسی شخص کے لیے۔

کبھی کسی وعدے کے لیے۔

کبھی کسی ایسے دروازے کے لیے جو برسوں سے بند ہو۔

اور کبھی اس رب کے لیے جسے وہ اپنی مصروف زندگی میں بھول جاتا ہے، مگر جس کے دروازے کو وہ بند سمجھ لیتا ہے۔

ہم بہت سی چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ دروازے ایسے ہیں جہاں واپسی کے لیے نہ وقت کی شرط ہے، نہ ماضی کی صفائی کی۔

بس قدم واپس اٹھانا پڑتا ہے۔

سلیم استاد کے گھر والوں نے برسوں پہلے اپنے دروازے پر ایک چھوٹی سی تختی لگائی تھی:

"اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔”

رشید نے وہ جملہ پہلے بھی دیکھا تھا۔

مگر اس کتے کے مرنے کے بعد پہلی بار اسے اس کا مطلب سمجھ آیا۔

وفاداری شاید یہی ہے۔

کہ جسے دل نے اپنا مان لیا، اس سے تعلق صرف اس وقت تک نہ رکھا جائے جب تک جواب ملتا رہے۔

اور شاید ایمان بھی کبھی کبھی ایسا ہی خاموش انتظار ہے۔

آدمی دروازے سے بہت دور چلا جائے، تب بھی واپسی کا راستہ باقی رہتا ہے۔

لوگ بدل جاتے ہیں۔

رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔

دنیا اپنے وعدے بھول جاتی ہے۔

مگر خدا کا دروازہ ایسا نہیں۔

وہاں دیر ہو سکتی ہے۔

واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔

انسان خود کو بہت دور سمجھ سکتا ہے۔

مگر دروازہ بند نہیں ہوتا۔

رشید نے آخری بار کتے کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔

پھر بس اڈے کی طرف دیکھا۔

اگلی بس آنے والی تھی۔

اور اسے اچانک محسوس ہوا کہ شاید زندگی میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

جب ہمیں واپس بلایا جا رہا ہو، تو کیا ہم سن رہے ہیں؟

افسانہ: آخری بس
©️ انتخاب سخن

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/