منتخب نظمیں
کبھی کبھی انسان اپنے ماضی کے دروازے کھول کر بیٹھ ج…
کبھی کبھی انسان اپنے ماضی کے دروازے کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔
ایک ایک غلطی یاد آتی ہے، ایک ایک گناہ چہرے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور دل کہتا ہے کہ شاید اب واپسی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
ایک ایک غلطی یاد آتی ہے، ایک ایک گناہ چہرے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور دل کہتا ہے کہ شاید اب واپسی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
مگر ہم ایک بات بھول جاتے ہیں…
وہ رب جس سے ہم آج معافی مانگ رہے ہیں، اسے ہماری وہ غلطیاں ہم سے پہلے ہی معلوم تھیں۔
اس نے ہمیں گرتے ہوئے بھی دیکھا تھا، بہکتے ہوئے بھی، اپنی خواہش کے پیچھے بھاگتے ہوئے بھی۔
پھر بھی اس نے ہمیں چھوڑا نہیں۔
شاید اسی کا نام رحمت ہے کہ تم اپنے ماضی سے شرمندہ ہو کر اس کے دروازے پر آؤ، اور وہ تمہیں تمہاری خطاؤں سے نہیں، اپنی رحمت سے پہچانے۔
اس لیے اپنے گزرے ہوئے کل کو کوستے نہ رہو۔
اگر آج دل میں ندامت ہے، تو سمجھو…
اللہ نے ابھی تمہارے لیے دروازہ بند نہیں کیا۔