منتخب غزلیں

دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا کانٹوں میں ایک…

دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
باقی، ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھ
صحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا
——
باقی صدیقی کا یوم پیدائش
(20ستمبر1905ء – 8 جنوری 1972ء)
ان کااصل نام محمد افضل تھا
——
منتخب کلام
——
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
——
کون اب دادِ سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
——
یہ دوپہر، یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقی
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
——
دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
——
یہی جہاں تھا یہی گردشِ جہاں تھی کبھی
تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی
——
موت اپنی نہ زندگی اپنی
کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ
——
اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقی
زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم
——
اب تو وہ جی سکتا ہے
جس کا دل ہو پتھر کا
——
آئی وہ شاہ کی سواری
آؤ ہم تالیاں بجائیں
——
وفا کا زخم ہے گہرا تو کوئی بات نہیں
لگاؤ بھی تو ہمیں ان سے انتہا کا تھا
——
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موجِ دریا پر دیا جلتا رہا
——
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور نقاد نظیر صدیقی کا یوم پیدائش
——
زمانہ گم ، زمیں گم ، آسماں گم
خیالِ دوست میں سارا جہاں گم
تغیر آشنا ہے سطحِ دریا
کبھی کشتی کبھی موجِ رواں گم
نظر اٹھی ہی تھی سوئے زمانہ
ہوا اتنے میں تیرا آستاں گم
——
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
ایک دیوار اُٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
——
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خودفریبی سی خودفریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسمِ گُل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقی
بستیوں سے شرار آنے لگے
——
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دیے
رات بھر بستر مرا جلتا رہا
ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوۓ
دل ہمارا پھولتا پھلتا رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موج دریا پر دیا جلتا رہا
اک نظر تنکا بنی کچھ اس طرح
دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا
یہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھنا
کون دل کی راکھ پر چلتا رہا
——
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ہر ساۓ کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھولوں پہ نہ جا
دیکھ سروں پر چلتے ہل
دنیا برف کا تودا ہے
جتنا جل سکتا ہے جل
غم کی نہیں آواز کوئی
کاغذ کالے کرتا چل
بن کے لکیریں ابھرے ہیں
ماتھے پر راہوں کے بل
میں نے تیرا ساتھ دیا
میرے منہ پر کالک مل
آس کے پھول کھلے باقؔی
دل سے گزرا پھر بادل
——
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا رہا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیک گیا ہوں
سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا
سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں
جاۓ گا جہاں تو مری آواز سنے گا
میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں
ایک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں
تو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں
چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ
ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں
منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ
اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/