منتخب نظمیں

اٹھائیس سال کی شادی کے بعد ایک رات میں نے اپنے شو…

💔 اٹھائیس سال کی شادی کے بعد ایک رات میں نے اپنے شوہر کو دیکھا…
وہ میرے ساتھ رہتا تھا، مگر مجھے لگا ہم کئی سال پہلے ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ ❤️❤️

میرا نام نائلہ ہے۔
عمر چھپن سال۔

اور میری شادی کو اٹھائیس سال ہو چکے ہیں۔
اٹھائیس سال کم نہیں ہوتے۔
اِن برسوں میں بچے پیدا ہوتے ہیں۔
بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔
ماں باپ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
گھر بدل جاتے ہیں۔
چہرے بدل جاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی رشتے بھی بدل جاتے ہیں..

بس لوگ اُنہیں بدلتا ہوا دیکھ نہیں پاتے۔

ہمارے تین بچے ہیں۔

بڑی بیٹی یونیورسٹی کے آخری سالوں میں ہے۔

بیٹا بھی ہاسٹل میں رہتا ہے۔

سب سے چھوٹا ابھی گھر میں ہے، مگر چند مہینوں بعد وہ بھی پڑھائی کیلئے دوسرے شہر چلا جائے گا۔

لوگ کہتے ہیں:

"اب تو آپ دونوں آرام کریں گے۔”
"اب تو زندگی دوبارہ شروع ہوگی۔”
"اب تو بچوں کی ذمہ داری کم ہو گئی۔”

میں مسکرا دیتی ہوں۔

مگر اندر ایک عجیب سا ڈر بیٹھ جاتا ہے۔
کیونکہ مجھے لگتا ہے..

جب بچے چلے جائیں گے تو ہمارے گھر میں صرف دو لوگ رہ جائیں گے۔

میں اور عادل۔

اور شاید ہمارے درمیان کہنے کو کچھ بھی نہیں بچے گا۔

ہماری زندگی بہت معمولی سی ہو چکی ہے۔

صبح ساڑھے چھ بجے الارم بجتا ہے۔

میں اٹھتی ہوں۔
چائے بناتی ہوں۔

کبھی وہ پوچھ لیتا ہے:

"آج سبزی لینی ہے؟”

کبھی میں پوچھ لیتی ہوں:

"بجلی کا بل جمع ہو گیا؟”

پھر وہ اپنے دفتر۔

میں اپنے کام۔

دونوں دن بھر کمپیوٹر اسکرینز میں گم۔

شام کو واپس آتے ہیں۔

دروازہ کھلتا ہے۔

جوتے اترتے ہیں۔

تھکن کمرے میں داخل ہوتی ہے۔

اور پھر وہی سوال:

"کھانے میں کیا ہے؟”

عجیب بات ہے نا؟

دو لوگ اٹھائیس سال ساتھ گزار دیں..

مگر روز شام کو یہ طے کرنے میں آدھا گھنٹہ لگ جائے کہ کھانا کیا کھانا ہے۔

کھانے کی میز پر فون ساتھ ہوتے ہیں۔

ٹی وی چل رہا ہوتا ہے۔

کبھی کوئی ڈرامہ۔

کبھی کوئی خبر۔

کبھی کوئی خاموشی۔

وہ کھاتے کھاتے موبائل دیکھتا ہے۔

میں پلیٹ میں سالن پھیلاتی رہتی ہوں۔

کبھی کوئی بات ہو بھی جائے تو بچوں، قسطوں، ڈاکٹر، بازار یا رشتہ داروں کے بارے میں۔

ایسا نہیں کہ ہم لڑتے ہیں۔

نہ وہ بدتمیز ہے۔

نہ میں ناراض رہتی ہوں۔

نہ گھر میں چیخ و پکار ہے۔

نہ کوئی بڑا دکھ۔

بس ایک عجیب سی بےجان امن ہے۔

ایسا امن جس میں دل کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی۔

کبھی کبھی میں اُسے صوفے پر بیٹھے دیکھتی ہوں۔

آنکھیں آدھی بند۔

ریموٹ ہاتھ میں۔

اور سوچتی ہوں:

"یہ وہی آدمی ہے نا جس کے آنے کی آواز سنتے ہی میں کھڑکی کی طرف بھاگتی تھی؟”

وہی عادل۔

جو کبھی فون پر گھنٹوں بات کرتا تھا۔

جو بارش میں چائے پینے کیلئے مجھے گھر سے نکال لے جاتا تھا۔

جو میری چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنستا تھا۔

جو کہتا تھا:

"نائلہ، تم بات کرتی ہو تو دن اچھا ہو جاتا ہے۔”

اور اب؟

اب ہم پورا دن ایک گھر میں رہ کر بھی کبھی کبھی ایک دوسرے سے صرف تین جملے بولتے ہیں۔

"چابی کہاں ہے؟”

"دودھ ختم ہو گیا۔”

"لائٹ بند کر دینا۔”

کبھی کبھی رشتے ٹوٹتے نہیں۔

بس روزمرہ کے نیچے دب جاتے ہیں۔

اور لوگ سمجھتے رہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔

کیونکہ کوئی رو نہیں رہا ہوتا۔

کوئی جا نہیں رہا ہوتا۔

کوئی دھوکا نہیں دے رہا ہوتا۔

مگر محبت؟

وہ آہستہ آہستہ کمرے کے کسی کونے میں جا کر بیٹھ جاتی ہے۔

اور انتظار کرتی رہتی ہے کہ کوئی اُس کا نام لے۔

پچھلے ہفتے ایک عجیب واقعہ ہوا۔

چھوٹا بیٹا کمرے میں سامان سمیٹ رہا تھا۔

یونیورسٹی کیلئے جانے کی تیاری کر رہا تھا۔

میں دروازے پر کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔

وہ اپنی کتابیں، کپڑے، جوتے، چارجر، سب الگ الگ رکھ رہا تھا۔

اچانک اُس نے مسکرا کر کہا:

"امی، میرے جانے کے بعد آپ اور ابو بور تو نہیں ہو جائیں گے؟”

میں نے فوراً کہا:

"نہیں تو، ہم کیوں بور ہوں گے؟”

مگر اُس نے شاید میری آنکھیں پڑھ لی تھیں۔

وہ بولا:

"آپ دونوں کبھی باہر چلے جایا کریں۔”

میں ہنس دی۔

"تمہارے ابو کو کہاں فرصت؟”

وہ خاموش ہو گیا۔

پھر بہت آہستہ سے بولا:

"امی، فرصت ملتی نہیں… نکالی جاتی ہے۔”

میں اُس وقت ہنس کر ٹال گئی۔

مگر اُس کا جملہ میرے اندر کہیں رہ گیا۔

اسی رات میں نے عادل کو دیکھا۔

وہ کھانے کے بعد حسبِ معمول صوفے پر لیٹا ہوا تھا۔

ٹی وی چل رہا تھا۔

مگر وہ سو چکا تھا۔

چہرے پر تھکن تھی۔

بالوں میں سفیدی پہلے سے زیادہ تھی۔

ہاتھ کی رگیں اب زیادہ ابھری ہوئی لگتی تھیں۔

میں نے پہلی بار اُسے شوہر نہیں، ایک تھکا ہوا انسان سمجھ کر دیکھا۔

شاید وہ بھی اتنے ہی برسوں سے زندگی چلا رہا تھا جتنے برسوں سے میں چلا رہی تھی۔

شاید وہ بھی کھو گیا تھا۔

شاید اُس نے بھی مجھے کھویا تھا۔

شاید ہم دونوں ایک دوسرے سے دور نہیں گئے تھے

بس بچوں، بلوں، نوکریوں اور ذمہ داریوں کے بیچ راستہ بھول گئے تھے۔

اگلی شام میں نے بہت ہمت کر کے اُس سے کہا:

"عادل، آج کھانا باہر کھا لیتے ہیں؟”

وہ حیران ہوا۔

"کیوں؟”
میں نے کندھے اچکائے۔
"بس ایسے ہی۔”

وہ کچھ لمحے مجھے دیکھتا رہا۔

پھر بولا:
"تھک گیا ہوں۔”

میں نے سر ہلا دیا۔
"ٹھیک ہے۔”

بات ختم ہو گئی۔

مگر اُس رات میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس شادی کو صرف عادت بن کر نہیں رہنے دوں گی۔

اگلے دن میں نے چائے بنائی۔

دو کپ۔
ایک اُس کے سامنے رکھا۔
اور اپنا فون بند کر دیا۔

وہ مجھے دیکھنے لگا۔

"خیریت؟”
میں نے کہا:

"مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”

وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔

"کیا ہوا؟”

میں نے ہنسنے کی کوشش کی مگر آواز کانپ گئی۔

"کچھ نہیں ہوا۔ یہی تو مسئلہ ہے۔”

وہ سمجھا نہیں۔

میں نے آہستہ سے کہا:

"عادل، ہم لڑتے نہیں، مگر بات بھی نہیں کرتے۔”

وہ خاموش ہو گیا۔

میں بولتی گئی:

"ہم ایک گھر میں رہتے ہیں، مگر جیسے دو الگ الگ کمروں کی زندگیاں ہیں۔”

"ہم بچوں کے والدین ہیں۔”

"بلوں کے شریک ہیں۔”

"گھر کے ذمہ دار ہیں۔”

"مگر کیا ہم اب بھی میاں بیوی ہیں؟”

وہ مجھے دیکھتا رہا۔

بہت دیر تک۔

پھر اُس نے نظریں جھکا لیں۔

میں نے پہلی بار اُس کے چہرے پر وہ تھکن دیکھی جو شاید برسوں سے تھی مگر میں نے دیکھی نہیں تھی۔

وہ آہستہ سے بولا:

"مجھے لگا تھا تم خوش ہو۔”

میں نے کہا:

"مجھے بھی یہی لگا تھا کہ تم خوش ہو۔”

ہم دونوں خاموش ہو گئے۔

پھر نہ جانے کیوں ہم دونوں ایک ساتھ مسکرا دیے۔

کتنی عجیب بات ہے۔

دو لوگ اٹھائیس سال ایک ساتھ گزار دیں…

اور دونوں کو یہی لگتا رہے کہ دوسرا خوش ہے۔

وہ بولا:

"نائلہ، شاید ہم نے بچوں کو بڑا کرتے کرتے اپنی باتیں چھوٹی کر دیں۔”

میری آنکھیں بھر آئیں۔

میں نے کہا:

"مجھے پھر سے تمہیں جاننا ہے۔”

وہ چونکا۔

"اٹھائیس سال بعد؟”

میں نے سر ہلا دیا۔

"ہاں۔ شاید اٹھائیس سال بعد ہی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔”

اُس شام ہم نے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا۔

نہ کوئی فلمی وعدہ۔

نہ کوئی ڈرامائی گلے لگنا۔

بس ایک چھوٹی سی بات طے کی۔

روز رات کھانے کے بعد دس منٹ چائے پئیں گے۔

فون کے بغیر۔

ٹی وی کے بغیر۔

بچوں، بلوں اور بازار کی بات کے بغیر۔

پہلی رات بہت عجیب تھی۔

ہم دونوں کپ ہاتھ میں لیے بیٹھے رہے۔

جیسے نئے لوگ ہوں۔

میں نے پوچھا:

"آج کل تمہیں کس بات کی فکر رہتی ہے؟”

وہ کافی دیر خاموش رہا۔

پھر بولا:

"ریٹائرمنٹ کی۔”

میں حیران ہوئی۔

میں نے کبھی یہ نہیں پوچھا تھا۔

وہ بولا:

"ڈر لگتا ہے کہ جب نوکری نہیں ہوگی تو میں کس کام کا رہ جاؤں گا۔”

میرا دل بھر آیا۔

میں نے پہلی بار دیکھا کہ جس آدمی کو میں صرف لاپرواہ سمجھ رہی تھی…

وہ بھی اپنے اندر خوف اٹھائے پھر رہا تھا۔

اگلی رات اُس نے مجھ سے پوچھا:

"تمہیں کس بات کا ڈر لگتا ہے؟”

میں نے کہا:

"اس بات کا کہ بچے چلے جائیں گے تو ہم دونوں ایک دوسرے کو اجنبی نہ لگنے لگیں۔”

وہ خاموش رہا۔

پھر اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

بہت عرصے بعد۔

بس چند لمحوں کیلئے۔

مگر وہ لمس ایسا تھا جیسے کسی بند کمرے کی کھڑکی کھل گئی ہو۔

پھر آہستہ آہستہ کچھ بدلنے لگا۔

ہم ہفتے میں ایک دن واک پر جانے لگے۔

کبھی چائے۔

کبھی گول گپے۔

کبھی صرف گاڑی میں خاموش ڈرائیو۔

وہ کبھی کبھار دفتر سے واپسی پر میرے لیے گلاب جامن لے آتا۔

میں اُس کیلئے صبح چائے کے ساتھ پرانا گانا لگا دیتی۔

ہم نے ایک دن اپنی پرانی تصویریں نکالیں۔

اور دیر تک ہنستے رہے کہ ہم کبھی اتنے جوان بھی تھے۔

ایک تصویر میں عادل کے بال بہت گھنے تھے۔

میں نے چھیڑا:

"یہ آدمی کہاں گیا؟”

وہ بولا:

"یہی تو تمہارے سامنے بیٹھا ہے، بس بالوں نے استعفیٰ دے دیا۔”

میں اتنی ہنسی کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اور اُس دن مجھے محسوس ہوا…

محبت گئی نہیں تھی۔

بس دھول میں ڈھک گئی تھی۔

کبھی کبھی رشتے کو بچانے کیلئے پہاڑ نہیں اٹھانے پڑتے۔

صرف پردہ ہٹانا پڑتا ہے۔

آج ہمارا سب سے چھوٹا بیٹا بھی جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

گھر جلد ہی خالی ہو جائے گا۔

مگر اب اُس خالی گھر سے مجھے خوف نہیں آتا۔

کیونکہ اب مجھے لگتا ہے کہ شاید ہم دونوں پہلی بار واقعی ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھیں گے۔

بچوں کے بغیر۔

ذمہ داریوں کے شور کے بغیر۔

صرف دو انسان۔

جو کبھی ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔

اور اب دوبارہ یاد کر رہے ہیں کہ کیوں چاہتے تھے۔

شادی ہمیشہ ٹوٹ کر ختم نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی وہ تھک کر خاموش ہو جاتی ہے۔

اور اگر وقت پر کوئی ایک شخص ہمت کر کے کہہ دے:

"مجھے تم سے پھر بات کرنی ہے…”

تو شاید محبت دوبارہ جواب دے دیتی ہے۔ ❤️

©️ انتخابِ سخن

#husbandandwifelife #wifereacts #EmotionalStory #relationshipgoals

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/