چلو آنکھیں پڑھیں … بس مہینہ بھر میں رمضان شروع ہونے والا ہے روزے کا سارا دن ع…
بس مہینہ بھر میں رمضان شروع ہونے والا ہے روزے کا سارا دن عبادت میں گزاریں تلاوت کریں نوافل پڑھیں مگر میری درخواست ہے کہ نوافل اور نمازوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی پڑھیں اور صرف ایک بار افطار سے ٹھیک ایک گھنٹہ قبل بازار میں دودھ دہی کی دکان پر پہنچ جائیں جہاں رش سے بہت دور ایک شرمسار سا بوڑھا بار بار جیب میں ہاتھ ڈال کر دس دس کے بوسیدہ نوٹ اکٹھے کرتا ہوا رش ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے بس آپ کی نگاہوں نے اس کا تعاقب کرنا ہے رش کے ختم ہوتے ہی وہ بوڑھا بہت ہی خجالت بھرے انداز میں دہی والے سے تیس روپے کا دہی لینے آئے گا بس آپ نے کرنا یہ ہے کہ اسے پورا ایک کلو دہی دلوا کر اس کے پیسے ادا کر دینے ہیں اور یوں جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک کا ٹکٹ آپ نے اپنی جیب میں ڈال لینا ہے پھر اسکے بعد یہاں سے ٹھیک اگلی دکان جو ایک سبزی فروش کی ہے اس پر پہنچ جانا ہے جہاں …
ایک میلا دوپٹہ پہنے خاتون ساٹھ روپے دے کر دکاندار سے کہے گی کہ اس میں کچھ بھی پکانے کےلیے دے دیں دکاندار اسے حقارت بھری نگاہ سے دیکھے گا اور جلدی جلدی اسکے پلو میں چند مرچیں ایک پیاز ایک ٹماٹر اور دو گلے سڑے آلو ڈال کر اسے تھما دے گا بس یہاں آپ نے کرنا یہ ہے کہ اسے ہفتے بھر کی تازہ سبزی خرید کر اس کے پیسے ادا کر دینے ہیں اور یوں یہاں سے نکلتے وقت جنت کے دوسرے دروازے کا ٹکٹ بھی دروغے سے لینا نہیں بھولنا ہے …
اسی دوران ساتھ والی دودھ دہی کی دکان پر اپ کو ایک بار پھر پلٹنا ہے کہ وہاں ابھی ابھی ایک بچہ پہنچا ہے جسے اس کے باپ نے خود شرمندگی سے بچنے کےلیے بھیجا ہے اس کے ہاتھ میں سکوں کی صورت جوڑے ہوئے پچیس روپے ہیں اور یہ ان روپوں سے دودھ لینے آیا ہے تاکہ گھر میں افطار کے بعد ایک قہوہ نما چائے کا دیگچہ بھر سکے آپ نے اس بچے کو ضرورت بھر دودھ دلوا کر گھر روانہ کر دینا ہے اور اب آخری کام "احمد افتخار قیصرانی” یہ ہے کہ …
ان دکانوں کے بالکل سامنے کھمبے کے نیچے بیٹھا ہوا پٹھان موچی افطار سے ٹھیک 15 منٹ پہلے ہاتھ جھاڑتے ہوئے ایک سموسہ اور چند پکوڑے لینے کےلیے اٹھے گا بس آپ نے اس بےیارومددگار پردیسی کو روک کر ایک شام کی افطاری کا سامان اسے تھما دینا ہے یہ تمام کرنے کے بعد اب آپ جلدی گھر پہنچیں کہ …
افطاری کا وقت آن پہنچا ہے اور جنت کے آٹھوں دروازوں کے ٹکٹ بھی آپ کی جیب میں ہیں افطار کریں نماز پڑھیں اور جب جس دروازے سے چاہیں جنت میں داخل ہو جائیں …
تحریر:احمد افتخار قیصرانی
Source



Enshlla