ذرا رک کر سوچیں… اللہ تعالیٰ کسی انسان کی intelligence کی تعریف کم کرتے ہیں، مگ…

اللہ تعالیٰ کسی انسان کی intelligence کی تعریف کم کرتے ہیں، مگر دل کی کیفیت کی تعریف بار بار کرتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں اللہ نے دو مرتبہ یہ بتایا کہ:
وہ ایک نرم دل انسان تھے
اِن٘ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
“بے شک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والے، نرم دل اور بردبار تھے۔”
(ھود: 75)
ایک اور مقام پر ان کی نرم دلی کا ذکر یوں آتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے درد رکھنے والے، دعائیں کرنے والے، اور محبت سے بھرپور انسان تھے۔
(التوبہ
جب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آتا ہے، میرے ذہن میں سب سے پہلے ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو حیرت انگیز طور پر ذہین بھی تھی، نرم دل بھی، اور بے حد متجسس بھی۔
ایک ایسی شخصیت جس کے اندر محبت تھی، سوال تھے، غور و فکر تھا، اور سب سے بڑھ کر سچ کی بے چین تلاش تھی۔
قرآنِ مجید نے حضرت ابراہیمؑ کی شخصیت کو صرف ایک نبی کے طور پر بیان نہیں کیا، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر پیش کیا ہے جس کا دل غیر معمولی طور پر زندہ تھا
(ھود:
اور حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں اللہ نے دو مرتبہ یہ بتایا کہ:
وہ ایک نرم دل انسان تھے۔
لیکن اگر آپ قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھیں، تو ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے—
ایک ایسا پہلو جو شاید پہلی نظر میں اتنا واضح محسوس نہ ہو:
تجسس (Curiosity)
اور یہ عام curiosity نہیں تھی…
یہ ایک ایسے انسان کی curiosity تھی جو کائنات کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت تک پہنچنا چاہتا تھا۔
✨ ایک نوجوان جو آسمان کو دیکھ کر سوال کرتا ہے
تصور کریں…
رات کا وقت ہے۔
آسمان خاموش ہے۔
ستارے چمک رہے ہیں۔
اور ایک نوجوان تنہا کھڑا کائنات کو دیکھ رہا ہے۔
لیکن وہ صرف دیکھ نہیں رہا…
وہ سوچ رہا ہے۔
وہ سوال کر رہا ہے۔
وہ حقیقت کی تلاش میں ہے۔
پھر وہ ایک ستارہ دیکھتا ہے۔
اور گویا سوچتا ہے:
“کیا یہ میرا رب ہو سکتا ہے؟”
مگر جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
“میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
(الأنعام: 76)
پھر چاند کو دیکھتا ہے…
اس کی چمک، اس کی خوبصورتی، اس کی عظمت—
مگر وہ بھی غروب ہو جاتا ہے۔
پھر سورج…
وہ سب سے بڑا ہے، سب سے روشن—
لیکن آخرکار وہ بھی ڈوب جاتا ہے۔
اور ابراہیمؑ ایک ایسے نتیجے تک پہنچتے ہیں جو صرف ایک متجسس ذہن نہیں، بلکہ ایک بیدار روح ہی پا سکتی ہے:
جو خود غروب ہو جائے، وہ میرا رب نہیں ہو سکتا۔
یہ صرف ایک مناظرہ نہیں تھا۔
یہ ایک روحانی investigation تھی۔
ایک زندہ دل انسان کی intellectual journey تھی۔
وہ اندھی تقلید نہیں کر رہے تھے۔
وہ truth-seeking کر رہے تھے۔
🌿 حیرت انگیز بات: نبوت کے بعد بھی سوال ختم نہیں ہوتے
یہاں ایک بہت باریک نکتہ ہے۔
عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ جب انسان یقین تک پہنچ جائے، تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔
لیکن حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
نبوت کے بعد بھی ان کا تجسس باقی رہا۔
لیکن اب اس کا رخ بدل چکا تھا۔
پہلے وہ “رب کون ہے؟” تلاش کر رہے تھے۔
اب وہ “اللہ کی قدرت کو اور قریب سے سمجھنا” چاہتے تھے۔
اسی لیے ایک دن وہ دعا کرتے ہیں:
رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ
“اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔”
(البقرۃ: 260)
اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں:
أَوَلَمْ تُؤْمِنْ؟
“کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟”
یہ سوال بہت گہرا ہے۔
گویا:
“ابراہیم، تم تو یقین والے ہو… پھر یہ سوال کیوں؟”
اور حضرت ابراہیمؑ کا جواب؟
کتنا خوبصورت…
کتنا انسانی…
بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي
“ایمان تو ہے… مگر دل کو اطمینان مل جائے۔”
کیا خوبصورت بات ہے۔
وہ شک نہیں مانگ رہے۔
وہ سکون مانگ رہے ہیں۔
وہ دلیل نہیں مانگ رہے—
وہ دل کا اطمینان مانگ رہے ہیں۔
اور پھر اللہ تعالیٰ ان کے تجسس کو رد نہیں کرتے…
بلکہ پورا کرتے ہیں۔
چار پرندے…
پہاڑ…
اور پھر مردہ جسموں کا زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے واپس آنا۔
کیا یہ صرف ایک معجزہ تھا؟
یا ایک نرم دل، سوال کرنے والی روح کے لیے اللہ کی محبت بھرا جواب؟
🌌 پھر اللہ نے ان کے لیے آسمان کھول دیے
قرآن میں ایک آیت ہے، جو شاید ہم جلدی میں پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں:
وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
“اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (عجائبات) دکھا دیے…”
(الأنعام: 75)
ذرا رکیے۔
صرف ایک لمحے کے لیے سوچیں۔
“ملکوت”
یہ صرف زمین کے مناظر نہیں۔
یہ شاید وہ realm ہے جہاں انسان عام آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
کون سی مخلوقات؟
کون سے راز؟
کون سی نشانیاں؟
کون سی حقیقتیں؟
ایسی کیا چیز دکھائی گئی کہ یقین اس درجہ بڑھا…
کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بھی اللہ کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو گیا؟
یہ blind faith نہیں تھا۔
یہ seen faith تھا۔
✨ اور پھر معراج کی رات…
یہی pattern مجھے معراج میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
سورۃ النجم کہتی ہے:
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
“انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔”
(النجم: 18)
اور اسی realm میں…
اسی بلند مقام پر…
محمد ﷺ کی ملاقات ایک ایسے نبی سے ہوتی ہے جو نشانیوں کے بارے میں ہمیشہ curious رہے:
حضرت ابراہیمؑ
لیکن اب ان کا posture دیکھیے۔
وہ بیت المعمور کے پاس ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے۔
وہی ابراہیمؑ—
جو کبھی ستاروں کو دیکھ کر سوال کرتے تھے…
جو مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھنا چاہتے تھے…
جو یقین کے پیچھے سفر کرتے رہے…
اب سکون سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔
جیسے کسی انسان کا تمام تجسس پورا ہو گیا ہو۔
جیسے دل کہہ رہا ہو:
“اب میں مطمئن ہوں…”
شاید اسی لیے انہوں نے دعا کی تھی:
“لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي”
“تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔”
اور اب…
وہ بڑی بڑی نشانیوں کی دنیا میں سکون سے بیٹھے ہیں۔
🤍 لیکن سب سے خوبصورت چیز ابھی باقی ہے
یہ pattern یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔
کیونکہ اللہ نے ان کے نرم دل ہونے کی تعریف کی تھی۔
اور پھر ساتویں آسمان پر انہیں ایک ایسا مقام دیا…
جو واقعی ایک نرم دل انسان کے ہی لائق تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔
وہ بچے…
جو دنیا میں بہت چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے تھے۔
ذرا تصور کریں۔
ایک نرم دل نبی…
بیت المعمور کے پاس…
بڑی نشانیوں کے درمیان…
اور ان کے اردگرد کھیلتے ہوئے معصوم بچے۔
کیونکہ شاید—
ان معصوم روحوں کے لیے اللہ نے سب سے مناسب دل منتخب کیا:
ابراہیمؑ کا دل۔
وہی دل جو نرم تھا۔
وہی دل جو محبت سے بھرا تھا۔
وہی دل جو سوال کرتا تھا۔
اور وہی دل—
جو آخرکار سکون پا گیا۔
ایک ایسے درخت کے نیچے…
جس کے پتے چراغوں کی طرح چمکتے ہیں۔
اور وہاں ایک نبی ٹیک لگائے بیٹھا ہے—
جیسے کوئی مسافر…
اپنی تمام تلاش مکمل کرنے کے بعد…
آخرکار گھر پہنچ گیا ہو۔ ✨
منتخب
Source


