عالمی ادب

السلام علیکم :۔ باپ اور بیٹے ایوان ترگیینف مترجم :۔ انور عظیم عشرتی گھر کی م…

السلام علیکم :۔

باپ اور بیٹے

ایوان ترگیینف
مترجم :۔ انور عظیم

عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے

کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

اکبر الہ آبادی کا یہ شعر اس کتاب کی مکمل ترجمانی کرتے دیکھائی دیتا ہے۔ ایوان ترگینف نے جس زمانے میں اپنا خوبصورت اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا یہ شاہکار ناول لکھا ٹھیک اُسی زمانہ میں لوگ جہالت کی چادر میں منہ چھپاۓ اعلیٰ تعیلم کی جعلی ڈگریاں گلے میں پھندوں کی صورت میں لٹکاۓ نہلسٹ کا نعرہ لگاتے گلی کوچوں میں مٹر گشت کرتے پاۓ جاتے تھے۔ نہلزم پہ غور کریں تو معلوم پڑتا ہے صدیوں پہلے رائج شدہ نہلزم کا فیشن موجودہ دور میں بھی عروج کی بلندیوں کو چھوتا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔ خدا اور صفاتِ خدا سے انکاری یہ لوگ صرف سائنسی حقائق کو تسلیم کرتے ہیں۔

نہلسٹ سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی اور بدی میں فرق کیے بغیر ہر طرح کی آزادی کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ نہلزم منکرِ خدا ہیں۔
زیرِ تبصرہ ناول “باپ اور بیٹے” نہلزم کی اسی حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ جس میں دو بیٹے “بازاروف اور ارکادی” ہیں۔ دونوں خدا اور خلقِ خدا سے انکاری ہیں۔ دوسری طرف دونوں کے باپ ہیں جو مالکِ خدا صفاتِ خدا اور خلقِ خدا کی پیروی کرتے اور دین داری کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ “باپ اور بیٹے” ایک قسم کی سماجی، مذہبی اور نظریاتی اختلاف پہ اُس خلا کی کہانی ہے جو جدت پسندوں و حقیقت پسندوں کے درمیان پیدا ہو گیا تھا۔

بازاروف میرے دل کا ٹکرا ہے…… جس پر میں نے اپنا سارا فن، سارا رنگ لنڈھا دیا ہے۔ (ترگینف)

اس کتاب کو دنیا کی سو عظیم کتابوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اور کتاب کو پڑھے جانے کی واحد وجہ بھی یہی تھی۔ مگر بعد مطالعہ ماننا پڑے گا کتاب اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ کتاب 1862ء میں روس کے مشہور جریدے “روسی پیغامبر “ میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اُس دور کی نوجوان نسل کے خیالات اور رجحانات کی مکمل تشریح کرتی ہے۔ ان رجحانات کو نہلزم کے نام سے متعارف کروایا گیا۔ نہلزم (انکاریت) پہ لکھی جانے والی جامع یہ کتاب کافی معلوماتی تھی۔

تبصرے کا اختتام نہلزم پہ کی جانے والی وضاحت پہ کرنا چاہوں گی۔

“ایک انکاریت پسند وہ شخص ہے جو کسی عقیدے کے آگے سر نہیں جھکاتا، کسی حکم و فرمان کا تابع نہیں، جو کسی اصول کو اعتقاد تصور نہیں کرتا چاہے اس عقیدے میں کتنا ہی احترام کیوں نہ ہو۔ فی الحیقیت پسند سائنس کی روح ہےجو ہر چیز کو تشکیک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، وہ حقائق کی روشنی میں ہر چیز کو دیکھتا ہے اور جو چیز اس کے امتحان پہ پوری نہیں اترتی، اسے مسترد کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے انکاریت اکثر اوقات ایک روح منفی بن جاتا ہے۔”

دعاۓ و سلامتی اقصیٰ سرفراز

اہم نوٹ :۔ بک کارنر کی ویب سائٹ پہ یہ کتاب رعایتی قمیت پہ دستیاب ہے🫶🏻
فائدہ اُٹھائیے🥳


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3807336689496836

Related Articles

3 Comments

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/