منتخب غزلیں
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس…

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
——
رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری کا یوم پیدائش
(پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء)
——
منتخب کلام
——
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
——
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
——
تصور میں تجھے ذوق ہم آ غوشی نے بھینچا تھا
بہا ریں کٹ گئی ہیں آ ج تک پہلو مہکتا ہے
..
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں
خیر تم نے تو بے وفائی کی
——
ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
——
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
——
سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ
ہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں
——
میں آج صرف محبت کے غم کروں گا یاد
یہ اور بات کہ تیری بھی یاد آ جاۓ
فريب عہد محبت کی سادگی کی قسم
وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آ جاۓ
——
اک ایک صفت فراق اس کی
دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے
——
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے پیار کریں
——
کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھ سکتا
بلائیں یہ بھی محبت کے سرگئی ہوں گی
——
اب بحر عشق تیر بھی جائیں مگر نہیں
ایسا کوئی کنارہ کہ ساحل کہیں جسے
——
ترا وصال بڑی چیز ہے مگر اے دوست
وصال کو مری دنیاۓ آرزو نہ بنا
——
وہ فسوں پھونکا کہ وحشی بھی مہذب ہو گئے
کر گیا کیا سحر مانا عشق با زیگر نہ تھا
——
اے حسن ساده اتنا سادہ بھی کب ہے اے دل
ہاۓ کھوۓ جا یونہی تو وہ پاۓ جا رہے ہیں
——
مجھ کو فراق یاد ہے پیکر رنگ و بوۓ دوست
پاؤں سے تا جبین ناز ، مہر فشاں و مہ چکاں
——
لہرا لہرا سا اٹھتا ہے رہ رہ کر وہ پیکر ناز
دنیا دنیا ہے ہر ادا عا لم عا لم ہے دو بدن
….
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
—–
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
—–
دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا
ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا
—–
رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خراب گردشِ ایّام تھا
—–
طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا
عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالمِ اسرار تھا
—–
حسن کافر سے کسی کی نہ گئی پیش فراقؔ
شکوہ یاروں کا نہ شکرانۂ اغیار چلا
—–
تری نگاہ کی صبحیں نگاہ کی شامیں
حریمِ راز یہ دنیا جہاں نہ دن ہیں نہ رات
—–
پھر وہی رنگِ تکلّم نگۂ ناز میں ہے
وہی انداز وہی حُسنِ بیاں ہے کہ جو تھا
—–
ہر جنبشِ نگاہ میں صد کیف بے خودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
—–
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا
—–
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ نرگسِ رعنا ترا جواب نہیں
—–
شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو
—–
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
—–
شریک شرم و حیا کچھ ہے بد گمانیٔ حسن
نظر اٹھا یہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے
—–
کوئی پیغامِ محبت لبِ اعجاز تو دے
موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے
—–
مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ
دے فرصتِ حیات نہ جیسے غمِ حیات
……………………
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
——
رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری کا یوم پیدائش
(پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء)
——
منتخب کلام
——
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
——
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
——
تصور میں تجھے ذوق ہم آ غوشی نے بھینچا تھا
بہا ریں کٹ گئی ہیں آ ج تک پہلو مہکتا ہے
..
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں
خیر تم نے تو بے وفائی کی
——
ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
——
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
——
سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ
ہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں
——
میں آج صرف محبت کے غم کروں گا یاد
یہ اور بات کہ تیری بھی یاد آ جاۓ
فريب عہد محبت کی سادگی کی قسم
وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آ جاۓ
——
اک ایک صفت فراق اس کی
دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے
——
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے پیار کریں
——
کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھ سکتا
بلائیں یہ بھی محبت کے سرگئی ہوں گی
——
اب بحر عشق تیر بھی جائیں مگر نہیں
ایسا کوئی کنارہ کہ ساحل کہیں جسے
——
ترا وصال بڑی چیز ہے مگر اے دوست
وصال کو مری دنیاۓ آرزو نہ بنا
——
وہ فسوں پھونکا کہ وحشی بھی مہذب ہو گئے
کر گیا کیا سحر مانا عشق با زیگر نہ تھا
——
اے حسن ساده اتنا سادہ بھی کب ہے اے دل
ہاۓ کھوۓ جا یونہی تو وہ پاۓ جا رہے ہیں
——
مجھ کو فراق یاد ہے پیکر رنگ و بوۓ دوست
پاؤں سے تا جبین ناز ، مہر فشاں و مہ چکاں
——
لہرا لہرا سا اٹھتا ہے رہ رہ کر وہ پیکر ناز
دنیا دنیا ہے ہر ادا عا لم عا لم ہے دو بدن
….
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
—–
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
—–
دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا
ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا
—–
رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خراب گردشِ ایّام تھا
—–
طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا
عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالمِ اسرار تھا
—–
حسن کافر سے کسی کی نہ گئی پیش فراقؔ
شکوہ یاروں کا نہ شکرانۂ اغیار چلا
—–
تری نگاہ کی صبحیں نگاہ کی شامیں
حریمِ راز یہ دنیا جہاں نہ دن ہیں نہ رات
—–
پھر وہی رنگِ تکلّم نگۂ ناز میں ہے
وہی انداز وہی حُسنِ بیاں ہے کہ جو تھا
—–
ہر جنبشِ نگاہ میں صد کیف بے خودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
—–
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا
—–
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ نرگسِ رعنا ترا جواب نہیں
—–
شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو
—–
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
—–
شریک شرم و حیا کچھ ہے بد گمانیٔ حسن
نظر اٹھا یہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے
—–
کوئی پیغامِ محبت لبِ اعجاز تو دے
موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے
—–
مجھ کو تو غم نے فرصتِ غم بھی نہ دی فراقؔ
دے فرصتِ حیات نہ جیسے غمِ حیات
……………………


