عبد الرحمن منیف کا ناول ”مدن الملح“ جسے ندیم اقبال صاحب ”نمک کے گھر“ کے عنوان سے…

ناول کا موضوع عرب دنیا میں تیل کی دریافت اور اسکے نتیجے میں آنے والا معاشی و اقتصادی انقلاب یے۔ قصے کی بنت شاندار ہے۔ عبدالرحمن منیف کہانی کا آغاز وادی العیون (جو کہ صحرا میں آباد ایک نخلستان ہے اور صحرا میں سفر کرنے والے قافلے جہاں پہنچنے کے کس قدر خواہشمند رہتے ہیں) کی امتیازی حیثیت سے شروع کرتے ہیں اور بتدریج وادی کے باسیوں اس کے گرد پھیلے ہوئے وسیع صحرا، یہاں سے گزرتے ہوئے تجارتی قافلے اور ان قافلے والوں کا وادی کے باسیوں کے ساتھ ہونے والا اختلاط۔۔۔۔ اس سبھی کو نہایت خوبصورتی اور رچاو کے ساتھ کہانی کا حصہ بناتے ہیں۔ ہمارے دیہی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کی طرح یہ عرب ہمیں مانوس معلوم پڑتے ہیں; اپنی مذہبی و قباٸلی روایات سے جڑے ہوٸے۔
پھر صحرا کی زندگی کا اپنا سحر ہے اور اپنی تکلیفیں۔ بارش ہو تو ان کے ہاں فراوانی نعمت ہوتی ہے ورنہ بے انتہا غربت۔ غربت اور یکسانیت سے بھرپور وادی کے شب و روز وادی کے جوانوں کو بہتر روزگار کی تلاش میں سفر پر نکلنے کے لٸے مجبور کرتے ہیں۔ سفر پہ جانے والوں کے پسماندگان پیاروں کے کھو جانے کے خوف سے بیقرار رہتے ہیں۔
اور پھر ایک روز اہل عیون پر کھلتا ہے کہ کچھ فرنگی ان کی وادی میں آٸے ہیں۔ یہ اہل فرنگ جن کا رنگ ، نسل ، زبان ، مذہب اور ثقافت ہر شے عربوں سے مختلف ہے اور جو عرب دنیا کے لٸے بالکل نٸے اور غیر مانوس ہیں دراصل یہاں تیل کے دریافت کے سلسلے میں موجود ہیں۔ وادی کے لوگ ان کی آمد سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں لیکن اپنے تٸیں ایک برتر قوم کے شہری ، جو کہ یہاں امیر کے اجازت نامے کیساتھ موجود ہیں اہل عیون کی تشویش کو در خور اعتنا نہیں سمجھتے اور ایک شدید کشمکش کیساتھ ناول کا بیانیہ آگے بڑھتا جاتا ہے۔
ناول میں متعب بن ہذال کا کردار بہت ہی زیادہ متاثر کن اور جاندار ہے۔ ام خوش کا کردار بھی قباٸلی عرب زندگی کا بہترین نماٸندہ کردار ہے۔ خود وادی العیون ایک زندہ و جاندار کردار کی صورت معلوم دیتی ہے۔ سہ ماہی آج نے اپنے حالیہ شایع شدہ رسالے 121 میں اس بڑے کینوس کے ناول کے ابتداٸی دس ابواب شامل کیے ہیں۔ بقیہ ناول کی قرات کے لٸے آج کے اگلے شماروں کا بے چینی سے انتظار رہے گا۔
ندیم صاحب کا کیا ہوا اردو ترجمہ ہمیشہ کی طرح رواں اور عمدہ ہے۔ اس اہم ناول کا اردو ترجمہ اردو زبان و ادب میں ایک گراں قدر اضافے کے طور پہ یاد رکھا جاٸے گا۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3854472331449938




ملح عربی میں بطور کھار اور شور بھی استعمال ہوتا ہے۔ اصل عربی متن یا انگریزی ترجمے سے معلوم ہوگا کی "نمک کے شہر” مناسب اردو عنوان ہے ہا "شوریدہ شہر”؟