امریکی ریاست اوکلاہوما میں 1930 کے نئے اقتصادی حقائق سے برسرپیکار مزارعوں کی کہا…

زمین کے مالکان زمین پر آتے ۔ یا اکثر ان کے نمائندے آجاتے ۔ وہ بند کاروں میں آتے اور انگلیوں سے زمین کی سختی محسوس کرتے ۔ کبھی وہ بڑی مشینوں سے زمین کھود کر مٹی کے نمونے کا معائنہ کرتے ۔مزارع اپنے تپتے احاطوں سے ان بند کاروں کو کھیتوں کے ساتھ بھاگتے تشویش سے دیکھتے ۔ بالآخر مالکان کے آدمی احاطوں تک آتے اور کار کے اندر بیٹھے ہوئے کھڑکی سے باہر بات کرتے ۔ وہ ہاری مرد کچھ دیر کار کے پاس کھڑے رہتے، پھرا کڑوں بیٹھ جاتے اور کوئی ڈنڈی اٹھا کر خاک پر نقوش ابھارنے لگتے ۔ کھلے دروازوں میں عورتیں کھڑی دیکھتی رہتیں اور ان کے پیچھے بچے ، مکئ کے سروں جیسے بچے، چوڑی آنکھیں، ایک ننگے پاؤں پر دوسراننگا پاؤں سوار اور پاؤں کی متحرک انگلیاں ۔ عورتیں اور بچے آدمیوں کو 6 مالکان کے افراد سے بات کرتے دیکھتے ۔ وہ خود خاموش تھے ۔
مالکان کے کچھ کارندے مہربان تھے کیوں کہ انھیں اپنے کام سے نفرت تھی۔ اور کچھ غصے میں رہتے تھے کیوں کہ انہیں بے رحم ہونا برا لگتا تھا، اور کچھ بہت سرد مزاج کیوں کہ انہوں نے بہت پہلے ہی یہ معلوم کر لیا تھا کہ کوئی اس وقت تک مالک نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ سرد مزاج نہ ہو ۔ وہ سب خود اپنی ذات سے بڑی کسی شے سے وابستہ تھے ۔ کچھ اس حساب کتاب سے نفرت کرتے جو ان کا کام تھا۔ کچھ خوف زدہ تھے اور کچھ اس حساب کتاب کی پوجا کرتے کہ یہ انہیں فکر اور احساسات سے ماوراء رکھتا۔ اگر یہ زمین کسی بینک یا مالیاتی ادارے کی ملکیت ہوتی تو وہ کارندے کہتے ، وہ بینک ۔۔۔ یا وہ کمپنی ۔۔۔۔ اس ضرورت میں ہے ۔۔۔۔ چاہتا ہے۔۔۔۔مصر ہے لازم ہے ۔۔۔۔۔ یعنی ۔۔۔ ۔ گویا ، جیسے وہ بینک یا کمپنی کوئی آسیب ہو، احساسات اور فکر سے لبریز ، جو خودان پر حاوی ہو گیا ہو۔ وہ خود بینک یا کمپنی کی حرکات کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ وہ آدمی تھے ، غلام تھے، جب کہ بینک مشینی اور ساتھ ہی بیک وقت آقا بھی تھے ۔ مالکان کے کچھ کارندے اس غلامی پر ذرا فخر کرتے کہ وہ ایسے سرد مزاج اور طاقت ور مالکوں کے لیے کام کرتے تھے ۔ مالکان کے کارندے کاروں میں بیٹھے سمجھاتے تمہیں تو معلوم ہی ہے۔ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ زمین غریب ہے۔ تم نے اس پر خاصے عرصے محنت کی ہے ۔ خدا بہتر جانتا ہے ۔ اکڑوں بیٹھے ہاری اثبات میں سر ہلاتے ، سوچتے اور خاک پر لکیریں کھینچتے ، اور ہاں وہ جانتے تھے کہ اگر خاک نہ اڑتی ۔ اگر زمین پر کھاد برقرار رہتی تو شاید حالات اتنے بُرے نہ ہوتے ۔
مالکان کے آدمی اپنے مطلب کی طرف بات کو لے آتے تم جانتے ہی ہو کہ زمین کی زرخیزی کم ہوتی جارہی ہے تم تو واقف ہو کہ کپاس زمین کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ اسے لوٹ لیتی ہے، اس کا سارا خون چوس لیتی ہے ۔ اکڑوں بیٹھے اتفاق کرتے ہیں ، وہ جانتے ہیں، خدا جانتا ہے۔ صرف اگر وہ فصلیں بدل سکتے تو شاید کچھ خون اس میں انڈیل سکتے۔
خیر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ ۔ مالکان کے کارندے اس آسیب کی کارکردگی اور طریقے بیان کرتے ہیں جو ان سے زیادہ طاقتور ہے۔ کوئی آدمی زمین رکھ سکتا ہے، اگر وہ بس اپنی غذا پر گزارا کرے اور مالیہ ادا کرے۔ وہ کر سکتا ہے ۔ ہاں وہ کر سکتا ہے یہاں تک کہ ایک دن اس کی فصل خراب ہو جائے اور اسے بینک سے قرض لینا پڑے۔ لیکن، دیکھو کوئی بینک یا ادارہ ایسا نہیں کرسکتا، کیوں کہ وہ مخلوق سانس کے لیے ہوا استعمال نہیں کرتی اور نہ ہی بچا ہوا گوشت کھاتی ہے۔ وہ تو منافع سے سانس لیتے ہیں اور غذا میں وہ پیسہ کھاتے ہیں۔ اگر یہ انھیں نہ ملے تو وہ ایسے ہی مرجائیں گے جیسے تم بغیر ہوا کے، بغیر پکے ہوئے گوشت کے۔ یہ افسوسناک بات تو ہے لیکن ایسا ہی ہے، بس ایسا ہی ہے۔ اکڑوں بیٹھے افراد سمجھداری سے اپنی نگاہیں اٹھاتے ہیں۔ کیا ہم انتظار نہیں کر سکتے ؟ ممکن ہے کہ آئندہ سال ایک اچھا سال ہو ۔ خدا جانتا ہے کہ کپاس کی اچھی قیمت وصول ہو، کیا وہ کپاس سے بارود نہیں بناتے؟ اور یونیفارم؟
اگر جنگوں کی تعداد مناسب ہو تو کپاس چھت سے جاملے ۔ شاید آئندہ برس ۔ وہ سوالیہ انداز میں دیکھتے ہیں۔ ہم اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ بینک، جس آسیب کو ہر وقت منافع درکار ہے ۔ وہ انتظار نہیں کر سکتا۔ وہ مر جائے گا۔ نہیں، مالیہ چلتا رہتا ہے ۔ جب یہ عِفریت بڑھنا رک جائے تو ہلاک ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک ہی حجم کا نہیں رہ سکتا ۔
نرم انگلیاں کار کی کھڑکی کی منڈیر پر تال دینے لگتی ہیں، اور سخت انگلیاں بے چین نقوش ابھارتی ڈنڈیوں پر گرفت مضبوط کر لیتی ہیں ۔ ہاریوں کے گھروں کے دھوپ سے خستہ دروازوں میں عورتیں آہ بھرتی ہیں۔ یوں پہلو بدلتی ہیں کہ جو پاؤں پہلے نیچے تھا اب او پر آ گیا ہے ۔ انگلیاں متحرک ہیں ۔ کتے مالکان کی کار سونگھتے ہوئے آتے ہیں اور ایک ایک کر کے چاروں ٹائروں کو بھگو کر
چلے جاتے ہیں ۔ مرغیاں سورج سے چمکتی دھول میں بیٹھی اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتی ہیں تا کہ دھول ان کے پروں سے صاف ہو سکے۔ چھوٹے باڑوں میں سور مٹی میں لتھڑی اپنی خوراک کی باقیات کھا رہے ہیں ۔
اکڑوں بیٹھے افراد پھر نیچے دیکھنے لگتے ہیں۔ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ ہم فصل میں اس سے کم حصہ نہیں لے
سکتے ہم پہلے ہی تقریباً فاقہ زدہ ہیں۔ بچے ہر وقت بھوکے رہتے ہیں۔ ہمارے پاس تو اب پھٹے پرانے کپڑے بھی نہیں ۔
اگر اس حمام میں سب ہی ننگے نہ ہوتے تو ہم عبادت کی نشست میں جانے سے بھی شرماتے۔
تو بالآخر مالکان کے آدمی مطلب پر آتے ہیں۔ اب یہ کرائے کا نظام مزید نہیں چل سکتا۔ ٹریکٹر پر سوار ایک آدمی بارہ یا چودہ خاندانوں جتنا کام کر سکتا ہے۔ اسے تنخواہ دے کر ساری فصل اٹھائی جاسکتی ہے۔ ہم کو یہ کرنا ہی پڑے گا۔ ہم نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن وہ عِفریت بیمار ہے۔ اس عفریت کو کچھ ہو گیا ہے۔
لیکن آپ کپاس کے ساتھ زمین کو بھی ماردیں گے۔ ہمیں معلوم ہے۔ ہمیں زمین کے ختم ہونے سے پہلے کپاس جلد اتارنی ہے ۔ پھر ہم زمین فروخت کر دیں گے۔
مشرق میں بہت سے خاندان اس زمین کا حصہ لینے کو تیار ہیں۔
ہاری خوفزدہ اوپر دیکھتے ہیں۔ لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ ہم کیسے کھائیں گے؟
آپ کو یہ زمین خالی کرنی ہوگی۔ ٹریکٹر احاطوں کو اجاڑ دیں گے۔ تو اب یہ اکڑوں بیٹھے افراد غصے سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دادا نے یہ زمین لی تھی ۔ اس کے لیے انہیں ریڈ انڈین کو مارنا اور بھگانا پڑا تھا۔ اور پاپا یہاں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے جنگلی جھاڑیوں اور سانپوں کو مارا تھا۔ پھر ایک سال بُری فصل ہوئی اور انہیں کچھ رقم ادھار لینی پڑی ۔ اور ہم یہیں پیدا ہوئے تھے ۔ وہاں دروازے کے اندر، ہمارے بچے یہیں پیدا ہوئے تھے اور پاپا کو رقم ادھار لینی پڑی تھی ۔ پھر بینک کا زمین پر قبضہ ہو گیا۔ لیکن ہم نہیں رکے اور جو ہم نے بویا اس کا کچھ حصہ ہمیں مل جاتا۔ یہ ہمیں معلوم ہے، یہ سب لیکن یہ ہم نہیں، یہ جنگ کر رہا ہے۔ ایک بینک کسی آدمی کا نہیں ہوتا ۔ یا کوئی مالک
جس کے پچاس ہزار ایکڑ ہوں وہ آدمی نہیں ہوتا۔ وہ عِفریت ہوتا ہے ۔ یقینا ، ہاریوں نے گریہ کیا۔ لیکن یہ ہماری زمین ہے ۔ ہم نے اسے ناپا اور اس کے حصے کیے ۔ ہم اس پر پیدا ہوئے اور اس پر مارے گئے ، اس پر ہلاک ہوئے۔ اگر یہ بیکار ہے تب بھی ہماری ہے ۔ یہ اس لیے ہماری ہے کہ ہم اس پر پیدا ہوئے ، اس پر کام کیا اور اس پر ہلاک ہوئے۔ ملکیت اس سے بنتی ہے ۔ اعداد وشمار لکھ کر کسی کاغذ کے پرزے سے نہیں۔ ہمیں افسوس ہے۔ لیکن ہم نہیں۔ عفریت ہے۔ بینک کسی آدمی کی طرح نہیں ہے۔
ہاں لیکن بینک بھی آدمیوں سے ہی تو بنا ہے ۔ نہیں ، یہاں تم غلطی پر ہو ۔ بالکل غلط ہو ۔ بینک انسان سے کوئی الگ چیز ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ بینک کا ہر آدمی اس بات سے نفرت کرتا ہے جو بینک کرتا ہے، لیکن پھر بھی بینک ایسے ہی کرتا ہے ۔ بینک آدمی سے سوا کوئی چیز ہے، میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ یہ عفریت ہے۔ آدمی نے اسے بنایا ہے لیکن وہ اسکے قابو میں نہیں۔ ہاری رو دئے، دادا نے ریڈ انڈین ن کو ہلاک کیا تھا۔ پاپا نے زمین کے لیے سانپ مارے تھے۔ ممکن ہے ہم بینک کو مار سکیں ۔ وہ تو انڈین اور سانپوں سے بھی بدتر ہیں ۔ شاید ہمیں اپنی زمین رکھنے کے لیے لڑنا چاہیے ۔ جیسا کہ پاپا اور دادا نے کیا تھا۔
اب مالکان کے کارندے غصے میں آگئے تم کو چلے جانا چاہیے۔
لیکن یہ ہماری ہے” ہاری چلائے” ہم ۔۔۔۔
نہیں، یہ بینک نامی عفریت کی ملکیت ہے، تمہیں جانا ہوگا۔”
ہم اپنی بندوقیں نکالتے ہیں، جیسا کہ دادا نے کیا تھا جب انڈین آئے تھے، پھر کیا ہوگا۔؟ ٹھیک ہے پہلے شیرف اور پھر فوج ۔ اگر تم نے رکنے کی کوشش کی تو یہ چوری ہوگی ، اگر تم نے رکنے کے لیے قتل کیا تو قاتل ہو گے ۔ وہ عفریت آدمی تو نہیں لیکن وہ آدمیوں سے جو چاہے کام لے سکتا ہے۔
لیکن اگر ہم چلے جائیں تو کہاں جائیں گے ؟ ہمارے پاس تو کوئی پیسہ نہیں۔
ہمیں افسوس ہے، مالکان کے نمائندے بولے۔ بینک پچاس ہزار ایکڑ کا مالک، اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تم ایک ایسی زمین پر رہ رہے ہو جو تمہاری نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ تم لوگ امداد کے سہارے رہ لو؟ کیا تم لوگ مغرب کی سَمت نہیں جاسکتے ، کیلیفورنیا کی طرف ؟ وہاں کام بھی مہیا ہے اور اتنی سردی بھی نہیں پڑتی۔ آپ کسی طرف بھی رخ کر سکتے ہیں۔ نارنگی توڑنے کا کام مل جاتا ہے۔ کوئی نہ کوئی فصل تو ہمیشہ کام کے لیے تیار رہتی ہے۔ تم لوگ وہاں کیوں نہیں جاتے؟ یہ کہہ کر مالکان کے نمائندوں نے کار اسٹارٹ کی اور چلے گئے ۔ کرائے کے ہاری پھر اکڑوں بیٹھ کر ڈنڈی سے زمین پر نقش ابھار کر سوچنے لگے، طے کرنے لگے۔ ان کے دھوپ سے جلے چہرے تاریک تھے اور سورج سے تمتماتی آنکھیں جل رہی تھیں۔ عورتیں محتاط انداز سے دروازوں سے نکل کر اپنے آدمیوں کی سمت بڑھیں، اور بچے عورتوں کے پیچھے سرک گئے محتاط، بھاگ نکلنے کو تیار ۔۔۔۔ بڑے لڑکے اپنے باپوں کے پاس ہی اکڑوں بیٹھے گئے ۔ کیوں کہ وہ اسی طرح مرد بن سکتے تھے ۔ کچھ انتظار کے بعد عورتوں نے پوچھا، وہ کیا چاہ رہا تھا؟ مردوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں درد پنہاں تھا۔” ہمیں جانا ہو گا۔ ایک ٹریکٹر اور سپرنٹینڈنٹ۔ جیسے فیکٹریوں میں ہوتا ہے۔
ہم کہاں جائیں گے ؟ ” عورتوں نے پوچھا۔
ہمیں نہیں معلوم ، ہمیں نہیں معلوم ۔
اور عورتیں خاموشی سے فوراً واپس اپنے گھر لوٹ گئیں، بچوں کو اپنے سامنے ہنکا کر ۔ وہ جانتی تھیں کہ کوئی آدمی جو اتنا دکھی اور حیرت زدہ تھا وہ غصے میں بھی آسکتا ہے، ان لوگوں پر بھی جن سے وہ محبت کرتا ہے ۔ وہ مردوں کو تنہا چھوڑ گئیں
تا کہ وہ خاک پر رستہ تلاش کرسکیں ۔
ناول :
The Grapes of wrath
مصنف : نوبل انعام یافتہ جان اسٹن بک
سنہ اشاعت: 14 اپریل 1939
اردو ترجمہ: اشتعال کی فصل
مترجم : سعید نقوی
پبلشر: سٹی بک پوائنٹ
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3836494733247698




ناول نوبل انعام کا صحیح حقدار ہے کیا زبردست منظر نگاری ہے اس میں۔سرمایہ دارانہ نظام کے مکروہ چہرے سے نقاب اتارنے کی خوب کوششش ہے۔
مجھے اس ناول کا ترجمہ سعید نقوی کے لئے گئے تراجم میں سب سے زیادہ اچھا لگا