پچپن سال تم نے مجھے کبھی اکیلا رہنے ہی نہیں دیا……
اب اگر چند دن اکیلا رہ بھی گیا…
تو شکایت کیسی؟”🥹💔
امی کبھی ابو کے بغیر چائے نہیں پیتی تھیں۔
یہ کوئی اصول نہیں تھا، بس عادت تھی۔
پھپھو اور چاچی اکثر کہتیں، "باجی! چائے ٹھنڈی ہو جائے گی۔”
وہ ہنس کر جواب دیتیں، "گرم تو دوبارہ ہو سکتی ہے… مگر ساتھ بیٹھ کر پینے کا وقت دوبارہ نہیں آتا۔”
ہمیں لگتا تھا، یہ بھی ان کی سینکڑوں عجیب عادتوں میں سے ایک عادت ہے۔
بچپن میں کسی نے محبت کو سمجھا بھی کہاں ہوتا ہے؟
ہم اسے صرف روزمرہ سمجھتے رہے۔۔۔۔۔
ابو محکمۂ آبپاشی میں کلرک تھے۔
سادہ آدمی۔
استری شدہ سفید شلوار قمیض، جیب میں سستا سا قلم، پرانا بٹوا اور سائیکل۔
امی کا جہان اس سے بھی چھوٹا تھا۔
دو کمرے۔
ایک صحن۔
چولہا۔
تسبیح۔
اور صحن کے کونے میں لگا وہ امرود کا درخت جسے دونوں نے شادی کے پہلے سال اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔
ہر بہار اس پر پھل آتے۔
ہر خزاں اس کے پتے جھڑتے۔
مگر دونوں کبھی یہ طے نہ کر سکے کہ اسے زیادہ کس نے سنبھالا تھا۔
—
ابو کبھی "میں تم سے محبت کرتا ہوں” نہیں کہتے تھے۔
وہ صبح فجر کے بعد خاموشی سے آٹا گوندھ دیتے تاکہ امی کی کلائیاں کم دکھیں۔
امی کبھی "آپ میری دنیا ہیں” نہیں کہتیں۔
وہ رات کو ان کے جوتے دروازے کی طرف سیدھے کر دیتیں تاکہ صبح جلدی میں ٹھوکر نہ لگے۔
محبت شاید انہی چھوٹے چھوٹے کاموں کے درمیان کہیں رہتی تھی…
جہاں الفاظ کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
—
وقت بھی عجیب درزی ہے۔
خاموشی سے انسان کے دنوں پر بڑھاپا سی دیتا ہے۔
پتا ہی نہیں چلتا۔
ایک دن امی کی انگلیوں میں لرزش شروع ہوئی۔
پھر سانس پھولنے لگا۔
پھر ہسپتالوں کے چکر۔
پھر رپورٹس۔
پھر وہ جملہ…
جسے ڈاکٹر ہمیشہ دھیمی آواز میں کہتے ہیں۔
"اب علاج نہیں… صرف آسانی دے سکتے ہیں۔”
—
گھر اچانک بہت خاموش ہو گیا۔
گھڑی پہلے بھی چلتی تھی۔
اب اس کی ٹک ٹک سنائی دینے لگی۔
—
امی کو کھڑکی کے پاس والا بستر پسند تھا۔
وہیں سے امرود کا درخت دکھائی دیتا تھا۔
ابو ہر صبح اس کے سوکھے پتے چنتے۔
حالانکہ درخت کو اب ان پتوں سے کوئی شکایت نہیں تھی۔
شاید انہیں خود سے تھی۔
—
وہ امی کے بال بناتے۔
دوائی وقت پر دیتے۔
کبھی قرآن کی تلاوت کرتے۔
کبھی پرانی ڈائری سے کوئی شعر پڑھتے۔
کبھی دونوں صرف درخت کو دیکھتے رہتے۔
خاموش۔
بہت خاموش۔
اتنی کہ لگتا، خاموشی بھی تھک کر ان کے پاس بیٹھ گئی ہے۔
—
ایک شام میں ہسپتال گیا۔
ابو امی کے تکیے کا غلاف بدل رہے تھے۔
بڑی احتیاط سے۔
جیسے کپڑا نہیں، وقت سیدھا کر رہے ہوں۔
امی نے دھیرے سے ان کا ہاتھ پکڑا۔
ہونٹ خشک تھے۔
آواز ٹوٹ رہی تھی۔
"معاف کرنا…”
ابو جھک گئے۔
"کس بات پہ؟”
"میں تمہیں… اکیلا چھوڑ رہی ہوں…”
ابو نے چند لمحے ان کی طرف دیکھا۔
پھر بہت آہستگی سے بولے،
"پچپن سال تم نے مجھے کبھی اکیلا رہنے ہی نہیں دیا…
اب اگر چند دن اکیلا رہ بھی گیا…
تو شکایت کیسی؟”
امی کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
مگر ان کی انگلیاں دیر تک ابو کی انگلیوں میں پھنسی رہیں۔
—
تین دن بعد امرود کے درخت سے ایک پکا ہوا پھل خود بخود زمین پر گر گیا۔
اسی دوپہر امی بھی چلی گئیں۔
—
تعزیت ختم ہونے لگی۔
لوگ رخصت ہو رہے تھے۔
کوئی کہہ رہا تھا،
"اللہ صبر دے۔”
کوئی کہہ رہا تھا،
"بڑی نیک خاتون تھیں۔”
ابو سب کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے۔
پھر اچانک اٹھے۔
صحن میں گئے۔
درخت کے نیچے رک گئے۔
سب لوگ بھی خاموش ہو گئے۔
انہوں نے درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا اور بولے،
"لوگ مجھ سے پوچھتے تھے…
اتنی لمبی شادی کا راز کیا ہے؟”
وہ مسکرائے۔
"کوئی راز نہیں تھا۔”
"ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو بدلنے کی کوشش نہیں کی…”
"ہم نے صرف ہر صبح ایک دوسرے کو دوبارہ قبول کیا۔”
ہوا سے چند سوکھے پتے زمین پر گرے۔
انہوں نے ایک پتہ اٹھایا۔
ہتھیلی پر رکھا۔
"محبت بڑے وعدوں سے نہیں چلتی…”
"یہ تو اس بات سے چلتی ہے کہ جب دوسرے کے ہاتھ کانپنے لگیں…
تو تم اس کے لیے چائے کا کپ پکڑ سکو۔”
وہ خاموش ہوئے۔
پھر گھر کی طرف دیکھا۔
وہ گھر جو اب بھی وہی تھا۔
صرف ایک آواز کم ہو گئی تھی۔
"اگر زندگی مجھے دوبارہ ملے…”
ان کی نظریں کھڑکی کے پاس خالی چارپائی پر جم گئیں۔
"…تو میں پھر اسی عورت کے ساتھ ایک عام سی زندگی مانگوں گا۔”
—
اس شام میں نے پہلی بار محسوس کیا…
محبت دراصل غیر معمولی لوگوں کا نصیب نہیں ہوتی۔
وہ تو دو عام انسانوں کے درمیان جنم لیتی ہے…
جو ایک دوسرے کے لیے ہر عام دن کو چھوڑنے کے بجائے، دوبارہ چُن لیتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے…
کچھ گھر اپنے مکینوں کے مرنے کے بعد بھی آباد رہتے ہیں۔
افسانہ: دو کپ ایک ساتھ
©️ انتخاب سخن
#husbandandwifelife #relationshipgoals #urduadab
