منتخب غزلیں

نشہ مے سے جواں بنتے ہیں پیری میں ریاضؔ وقت ہے توبہ…

نشہ مے سے جواں بنتے ہیں پیری میں ریاضؔ
وقت ہے توبہ کریں،اب قبر کا ساماں کریں!

نامور شاعر ریاض خیر آبادی ” شاعر خمریات” کی برسی
(پیدائش: 1855ء – وفات: 28 جولائی 1934ء)
——
منتخب کلام
——
دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں
رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں
——
مہندی لگائے بیٹھے ہیں کچھ اس ادا سے وہ
مٹھی میں ان کی دے دے کوئی دل نکال کے
——
غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے
کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے
——
مے خانے میں مزار ہمارا اگر بنا
دنیا یہی کہے گی کہ جنت میں گھر بنا
——
دھوکے سے پلا دی تھی اسے بھی کوئی دو گھونٹ
پہلے سے بہت نرم ہے واعظ کی زباں اب
——
ڈراتا ہے ہمیں محشر سے تو واعظ ارے جا بھی
یہ ہنگامے تو ہم نے روز کوئے یار میں دیکھے
——
ہم جانتے ہیں لطف تقاضائے مے فروش
وہ نقد میں کہاں جو مزا ہے ادھار میں
——
دنیا کی خواہشوں سے ہمیشہ رہا اداس
پر آدمی ریاضؔ عجب دل لگی کا تھا
——
وہ گلیاں یاد آتی ہیں جوانی جن میں کھوئی ہے
بڑی حسرت سے لب پر ذکر گورکھپور آتا ہے
——
یہ وقت وہ ہے کہ خم سبو پر پی لیں
پا جائیں تو جھک کے حوضِ کوثر پی لیں
خم کی تیری خیر!کہہ دے اے پیر مغاں
روزہ رکھا ہے سانس بھر کر پی لیں
——
صوم میں لوٹتے ہیں روز تلاوت کے مزے
بڑھ کے نعمت سے ہیں اللہ کی رحمت ے مزے
وقت افطار پہنچ جاتے ہیں مسجد میں ریاضؔ
گھر میں اللہ کے آ جاتے ہیں دعوت کے مزے
——
رند ناکام کو کچھ نشہ سا ہو جاتا ہے
ہاں یونہی نام کو کچھ نشہ سا ہو جاتا ہے
صدقے اس لذت افطار،پسِ توبہ بھی
بے پیۓ شام کو کچھ نشہ سا ہو جاتا ہے
——
مے نور خدا ہوتی دل عرش خدا ہوتا
تھوڑی سی جو پی لیتے کیا جانیے کیا ہوتا
ہم جا کے جو بھولے سے مسجد میں اذاں کہتے
بے دست برہمن بھی نا قوس بجا ہوتا
دن ہے یہ قیامت کا ہم ہجر کے مارے ہیں
افسانہ ہمارا بھی تھوڑا سا سنا ہوتا
خلوت گہہ دل میں تم چپکے سے جو آ جاتے
پردے میں سویدا کے کیا جانیے کیا ہوتا
لطت آتے اسیری میں اے کاش قفس اپنا
پھولوں سے لدا ہوتا پھولوں سے بھرا ہوتا
اچھا تھا مرے مالک یوں میری گذر جاتی
درگاہ تری ہوتی یہ دست دعا ہوتا
رحمت سے ریاضؔ اس کے تھے ساتھ دو فرشتے
اک حور جو بڑھ جاتی تو اور مزا ہوتا
——
وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا
کس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا
ایسے بھی ہیں دنیا میں جنہیں غم نہیں ہوتا
اک غم ہے ہمارا جو کبھی کم نہیں ہوتا
تم جا کے چمن میں گل و بلبل کو تو دیکھو
کیا لطف تہہ چادر شبنم نہیں ہوتا
کیا سرمہ بھری آنکھوں سے آنسو نہیں گرتے
کیا مہندی لگے ہاتھوں سے ماتم نہیں ہوتا
اڑتی تھی وہ شے آتی تھی جنت کی ہوائیں
اب رندوں کا جھگمٹ سر بزم نہیں ہوتا
یہ جان کے کیوں روۓ گا کوئی سر تربت
سبزے سے جدا قطرہء شبنم نہیں ہوتا
یہ شان گداۓ در مے خانہ ہے ساقی
بھولے سے وہ ہم بزم کی وجم نہیں ہوتا
مایوس اثر اشک عنادل نہیں پھرتے
مانوس اثر گریہء شبنم نہیں ہوتا
کچھ اور ہی ہوتی ہیں بگڑنے کی ادائیں
بننے میں سنورنے میں یہ عالم نہیں ہوتا
تسکین تو ہو جاۓ جو تو پھوٹ کے بہہ جاۓ
یہ تجھ سے بھی دیدہء پرغم نہیں ہوتا
مٹتے ہوۓ دیکھی ہےعجب حسن کی تصویر
اب کوئی مرے مجھ کو ذرا غم نہیں ہوتا
——
کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہو گا
اے میں قربان وفا وعدہء فردا ہو گا
حشر کے روز بھی کیا خون تمنا ہو گا
سامنے آئیں گے یا آج بھی پردا ہو گا
تو بتا دے ہمیں صدقے ترے اے شان کرم
ہم گنہ گار ہیں کیا حشر ہمارا ہو گا
ایسی لے دے ہوئی آ کر کہ الٰہی توبہ
ہم سمجھتے تھے محشر میں تماشا ہو گا
پی کے آیا عرق شرم جبیں پر جو کبھی
چہرے پہ بادہ کشو نور برستا ہو گا
شرم عصیاں سے نہیں اٹھتی ہیں پلکیں اپنی
ہم گنہ گار سے کیا حشر میں پردا ہو گا
کعبہ سنتے ہیں گھر ہے بڑے داتا کا ریاضؔ
زندگی ہے تو فقیروں کا بھی پھیرا ہو گا
——
کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر
شکن رہ جاۓ گی یوں ہی جبیں پر
اڑاۓ پھرتی ہے ان کو جوانی
قدم پڑتا نہیں ان کا زمیں پر
دھری رہ جاۓ گی یوں ہی شب وصل
نہیں لب پر شکن ان کی جبیں پر
مجھے ہے خون کا دعوی مجھے ہے
انہیں پر داور محشر انہیں پر
ریاضؔ اچھے مسلماں آپ بھی ہیں
کہ دل آیا بھی تو کافر حسیں پر
(ریاضؔ صاحب نے ایک شادی ہندو لڑکی کو مسلماں کر کے بھی کی تھی)
——
ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات
جاگیں تمام رات جگائیں تمام رات
ان کی جفائیں یاد دلائیں تمام رات
وہ دن بھی ہو کہ ان کو ستائیں تمام رات
زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے
میکش اسے شراب پلائیں تمام رات
اے قیس بیقرار ہے کچھ کوہ کن کی روح
آتی ہیں بے ستوں سے صدائیں تمام رات
تا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ
برسیں کہاں یہ کالی گھٹائیں تمام رات
خلوت ہے بے حجاب ہیں وہ جل رہی ہے شمع
اچھا ہے اس کو اور جلائیں تمام رات
شب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف
ہوتی رہیں قبول دعائیں تمام رات
دابے رہی پروں سے نشیمن کو رات بھر
کیا کیا چلی ہیں تیز ہوائیں تمام رات
کاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ
ان گیسوؤں کی لی ہیں بلائیں تمام رات
…..
کُل مرقعے ہیں ترے چاکِ گریبانوں کے
شکل معشوق کی، انداز ہیں دیوانوں کے
کعبہ و دیر میں ہوتی ہے پرستش کس کی
مے پرستو! یہ کوئی نام ہیں مے خانوں کے
جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے
پرِ پرواز بنے خود شررِ شمع کبھی
شررِ شمع بنے پر کبھی پروانوں کے​
ذکر کیا اہلِ جنوں کا کہ جب آئی ہے بہار
وہ تو وہ، رنگ بدل دیتے ہیں زندانوں کے​
وسعتِ ذات میں گم، وحدت و کثرت ہے ریاضؔ
جو بیاباں ہیں، وہ ذرّے ہیں بیابانوں کے
………………………
انہیں شراب سے اتنی ہی نفرت تھی جتنی ایک مرد مومن کو ہو سکتی ہے۔
…………………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/