عالمی ادب

یوم پیدائش خدا کی بستی ۔ جانگلوس ۔ چار دیواری ۔ ک…

یوم پیدائش
خدا کی بستی ۔ جانگلوس ۔ چار دیواری ۔ کمین گاہ ۔ جیسے ناولوں کے خالق

شوکت صدیقی
جناب شکیل عادل زادہ کی یادگار و نایاب تحریر

20 مارچ 1923 لکھنؤ
18 دسمبر 2006 کراچی

شوکت صدیقی ، لکھنؤ کے متوسط گھرمیں پیدائش ۔ ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن پاک اور حفظ کے لئے مشہور درس گاہ مدرسئہ فرقانیہ میں داخلہ ۔۔۔ 1946 ایم اے ۔۔۔ ماسٹر جگت نرائن سکسینہ سے اردو فارسی کا کسبِ فیض ۔۔۔ اردو کی قدیم داستانوں کا مطالعہ ۔ شاعری سے ادبی سفر کا آغاز ۔۔۔ ترقی پسند تحریک سے عملی وابستگی ۔۔ 1950 میں کراچی ہجرت ۔۔ صحافت ذریعۂ معاش ۔ انگریزی اخبارات میں سب ایڈیٹر ۔ پاکستان اسٹینڈرڈ ، ٹائمز آف کراچی ، مارننگ نیوز سے وابستگی ۔ روزنامہ ” انجام ” اور "مساوات ” کے چیف ایڈیٹر ۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے دورے ۔۔۔۔

ادیبوں اور شاعروں کے ہجوم میں کوئی کیوں چار سو محبوب و محترم ہوجاتا ہے ؟ ایک سچ پر سب ہی متفق ہیں کہ کوئی تخلیقی معرکہ آرائی ، فکر و خیال کی قدرت و ندرت ، بیان و اظہار کی جرات و جودت ہی کسی تخلیق کا مقام و مرتبت طے کرتی ہے ۔۔۔ ساٹھ سال کے تخلیقی سفر میں شوکت صدیقی نے بے حساب کہانیاں لکھیں ، کچھ محفوظ رہ گئیں ، کچھ گردشِ دوراں کی نظر ہوگئیں ۔۔ بر صغیر پاک و ہند میں قلم کاری کا مشغلہ شوقیہ ہو تو کسی حد تک راس آجاتا ہے ، ورنہ بڑی آزمائش ہے ۔۔۔۔ شوکت صدیقی نے زندگی کے کچھ زیادہ ہی تیور جھیلے ہیں ۔۔ انہوں نے بہت اندھیرے دیکھے ہیں ، بڑی آندھیاں گزاری ہیں ۔۔۔ قلم سے ان کا کوئی عہد تھا جو وہ عشق زاد فرہاد نا مراد اور لیلیٰ نفس ، قیس صحرا نورد کی طرح نبھاتے رہے ۔۔۔ یہ اسی ثابت قدمی ، اولوالعزمی کا صلہ ہے کہ اردو کے چند معدودے چند سر کردہ ، سر بلند فسانہ نگاروں میں ان کا نام بھی شامل ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ ایک حقیقت نگار قلم کار ہیں ۔۔۔ حقیقت نگاری کے لئے چشمِ بینا اور دل پرسوز چاہئے اور ایک حوصلہ ، سچ گوئی کا حوصلہ ۔۔ ان کا لہجہ بڑا دھیما بڑا نرم ہے ۔۔ ہمارے اردگرد کی سفاکیاں اور نیرنگیاں بہت نرم اور دھیمے لہجے میں ، تمام تر شدت و تاثر سے بیان کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے ۔۔

ان کے پڑھنے والوں کو بڑی حیرت ہوتی ہے ۔ یہ شوکت صدیقی نے زندگی کے کیا کیا طور دیکھے ہیں ؟ قبرستانوں میں کفن چوروں کے ساتھ شب بسری کے بغیر کفن چوری کی روداد اتنی جزئیات سے کون تخلیق کرسکتا ہے اور اینٹوں کے بھٹوں سے وابستہ جفا کشوں کے صبح و شام کا بیان ان کے مصائب میں شریک ہوئے بغیر کس طرح ممکن ہے ؟

کہتے ہیں سادگی میں بڑا اثر ہوتا ہے ۔ شوکت صدیقی کی داستاں گوئی کی سب سے بڑی خوبی ان کا سچ اور بیان کی سادگی ہے ۔ وہ بعض مشکل مقامات اور مرحلوں سے ایسی سادہ روی سے گزر جاتے ہیں کہ بس دیکھا کیجئے ۔ سچ کو ہکلانا آتا بھی نہیں ۔ لگتا ہے کہانی لکھنے سے پہلے سب کچھ ان کے ذہن میں پختہ ، صاف اور سلجھا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ مشاقی سے تانا بانا بنتے ہیں ۔ کہانی کو واقعات کی ضرب تقسیم اور تقدیم و تاخیر کی ضرورت پڑتی ہے اور تانا بانا بنے بغیر کہانی ممکن نہیں ہوتی ۔ وہ زرنگار لفظوں سے عموماً پرہیز کرتے ہیں اور عبارت کے سانچے نہیں بناتے ، کہانی کے سانچے پر ان کی نظر مرکوز رہتی ہے ۔ وہ کہانی کار ہیں ، انشاء پرداز نہیں ۔ اکا دکا جہاں ان کی تحریر میں مرصع کاری اور آرائش و زیبائش ہے وہ اتنی اچھی بھی نہیں لگتی ، تاثر کچھ کم کر دیتی ہے ۔۔

ان کے یہاں رومانس کی بڑی کمی ہے ۔ شائد اس لئے کہ رومانس سے زیادہ بڑی حقیقتوں سے ان کا واسطہ پڑا ہے ۔۔ علامت ، اشاریت ، دقیق ، نکتہ رس بیان اور فلسفیانہ مباحث ، یوں جانئے کہ وہ قائل نہیں ۔۔۔۔۔

وہ کہانی کو کہانی رکھنا چاہتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔ کہانی اول کہانی آخر ۔۔۔۔۔۔۔ کی۔ بنیاد یا اصول پر انہوں نے اظہار کے تجربے بھی کئے ہیں ۔۔۔۔

شہر کراچی کا کوئی معمولی پڑھا لکھا بساطی نجم الدین ہو یا اردو ادب کے مورخ اپنے محترم و مکرم ڈاکٹر جمیل جالبی ہوں ، ان کی کہانی یکساں طور پر خاص و عام میں مقبول ہے ۔۔ کافکا اور بورخیز کے علاوہ نجم الدین سے جمیل جالبی تک رسائی اور پزیرائی ہر تخلیق کار کا خواب ہوتی ہے ۔۔۔۔

وہ بباطن ایک انقلابی آدمی ہیں ، بظاہر بڑے نرم خو ، تن آسان سے ، خمیدہ سر اور راضی بہ رضا ۔۔۔۔ لیکن وہ تحریر کے آدمی ہیں اور ساٹھ سال پر پھیلے ہوئے ان کے نقوش میں کہیں بھی اپنے موقف اور مسلک میں کہیں بھی انحراف نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔

1952 میں شائع ہونے والی ان کی کہانی ” تیسرا آدمی ” کو اردو کی یادگار کہانیوں کے تقریباً ہر مجموعے میں منتخب کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔

ان کے ناول ” خدا کی بستی ” کا شمار اردو کے شاہ کار ناولوں میں ہوتا ہے ۔ دنیا کی 26 زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے اور بے شمار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔۔ پاکستان ٹی وی نے اسے دو بار فلمایا اور کئی بار نشر کیا ہے ۔۔ خدا کی بستی کو پی ٹی وی کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے سلسلہ وار ڈرامے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ جس شام اس کی قسط نشر کی جاتی تھی گلی کوچوں میں سناٹا سا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔

سب رنگ میں شائع ہونے والے ان کے ناول ” جانگلوس ” کی ڈرامائی تشکیل کی بھی پی ٹی وی نے جرات کی تھی ۔ لیکن مزاجِ خسروی پر یہ کلامِ تند و ترش بار ہونا چاہیے تھا ، سو چند قسطوں بعد اسے ناتمام کردیا گیا ۔ لوگ کہتے ہیں جانگلوس کو اس کے اصل متن اور روح کے مطابق فلمانے کی مہم سر کر لی جائے تو ایک بڑا واقعہ ہوگا ، جانے کتنے آئینہ خانے ، شیش محل زد پر آجائیں گے ۔۔۔
بہرحال یہ کیا کم ہے کہ شوکت صدیقی کو کاغذوں پر جانگلوس ایک دستاویزی ناول محفوظ کرنے کا موقع مل گیا اور یہ کیا کم ہے کہ وہ خود بھی محفوظ و مامون ہیں ۔۔۔۔

( واضح رہے کہ شکیل عادل زادہ نے یہ مضمون شوکت صدیقی کی زندگی میں لکھا تھا )


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2143041839259671

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/