منتخب غزلیں

کیا کیا دل مضطر کے ارمان مچلتے ہیں تصویر قیامت ہے…

کیا کیا دل مضطر کے ارمان مچلتے ہیں
تصویر قیامت ہے ظالم تری انگڑائی

رام کرشن مضطر کا یومِ پیدائش
August 20, 1927

پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی
ہر زخم ہوا تازہ ہر چوٹ ابھر آئی

پھر یاد کوئی آیا پھر اشک امڈ آئے
پھر عشق نے سینے میں اک آگ سی بھڑکائی

برباد محبت کا عالم ہی عجب دیکھا
سو بار لہو رویا سو بار ہنسی آئی

رہتا ہے خیالوں میں پھرتا ہے نگاہوں میں
اک شاہد رنگیں کا وہ عالم رعنائی

کس رنگ سے گلشن میں وہ جان بہار آیا
آنچل کی ہوا آئی زلفوں کی گھٹا چھائی

پھر صحن گلستاں میں اک موج ہوئی رقصاں
پھر میری نگاہوں میں زنجیر سی لہرائی

اے حسن ترے در کی عظمت ہے نگاہوں میں
کب عشق کو آتے تھے آداب جبیں سائی

کیا کیا دل مضطر کے ارمان مچلتے ہیں
تصویر قیامت ہے ظالم تری انگڑائی

اک روح‌ ترنم نے اک جان تغزل نے
پھر آج نئی دھن میں مضطرؔ کی غزل گائی
..
شب غم کی سحر نہیں ہوتی
داستاں مختصر نہیں ہوتی

جب کسی کی نظر نہیں ہوتی
ہم کو اپنی خبر نہیں ہوتی

بعض اوقات اپنے دل پر بھی
اہل دل کی نظر نہیں ہوتی

ڈگمگاتے نہیں قدم جس جا
وہ تری رہ گزر نہیں ہوتی

جس مسرت میں غم نہ ہو شامل
وہ کبھی معتبر نہیں ہوتی

درد جب خود ہی اپنا درماں ہو
منت چارہ گر نہیں ہوتی

دل مضطرؔ سے جو نکلتی ہے
وہ صدا بے اثر نہیں ہوتی

کیا غضب ہے کہ ملاقات کا امکاں بھی نہیں
اور اب اس کو بھلانا کوئی آساں بھی نہیں

کسے دیکھوں کسے آنکھوں سے لگاؤں اے دل
روئے تاباں بھی نہیں زلف پریشاں بھی نہیں

اور ہیں آج ٹھکانے ترے دیوانوں کے
کوہ و صحرا بھی نہیں دشت و بیاباں بھی نہیں

جانے کیا بات ہے سب اہل جنوں ہیں خاموش
آج وہ سلسلۂ چاک گریباں بھی نہیں

غم پنہاں نظر آتا ہے مجھے دشمن جاں
ہائے یہ درد کہ جس کا کوئی درماں بھی نہیں

کون جانے مرا انجام سحر تک کیا ہو
آج کوئی دل بیمار کا پرساں بھی نہیں

ہائے یہ گھر کہ اب اس میں نہیں بستا کوئی
حیف یہ دل کہ اب اس میں کوئی ارماں بھی نہیں

اف یہ تنہائی یہ وحشت یہ سکوت شب تار
اور شبستاں میں کوئی شمع فروزاں بھی نہیں

ساتھ اس گل کے گیا دل سے گلستاں کا خیال
اب مجھے آرزوئے فصل بہاراں بھی نہیں
……………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/