عید پر میرے سسر کچن میں میرے پیچھے آئے اور آہستہ …
میرا نام سارہ ہے۔
عمر اکیاون سال۔
اور میرے سسر، رشید صاحب، اُن مردوں میں سے ہیں جن کے اندر محبت بہت ہوتی ہے، مگر زبان تک آتے آتے تھک جاتی ہے۔
وہ ریٹائرڈ انجینئر تھے۔
چالیس سال مشینوں، نقشوں، پیمائشوں اور مسئلوں کے ساتھ گزارے تھے۔
شاید اسی لیے گفتگو بھی اُن کے نزدیک ایک ناپ تول والی چیز تھی۔
صرف اتنا بولتے جتنا ضروری ہو۔
نہ ایک لفظ کم۔
نہ ایک لفظ زیادہ۔
ہماری شادی کو بیس سال ہو چکے تھے۔
ہر اتوار ہم اُن کے گھر دوپہر کا کھانا کھانے جاتے تھے۔
میں شروع شروع میں بہت کوشش کرتی تھی۔
“ابو، طبیعت کیسی ہے؟”
“ٹھیک۔”
آج سالن کیسا لگا؟”
“اچھا۔”
“بچوں کی پڑھائی دیکھ رہے ہیں؟”
“ہاں۔”
بس۔
گفتگو ختم۔
میں باتونی تھی۔
مجھے خاموشی سے گھبراہٹ ہوتی تھی۔
میں رشتوں کو باتوں سے سینچنے والی عورت تھی۔
اور رشید صاحب رشتوں کو خاموشی سے نبھانے والے آدمی۔
شروع میں مجھے لگتا تھا شاید وہ مجھے پسند نہیں کرتے۔
پھر وقت کے ساتھ سمجھ آئی کہ وہ کسی کو بھی زیادہ لفظ نہیں دیتے۔
نہ اپنی بیٹی کو۔
نہ اپنے بیٹے کو۔
نہ اپنی بیوی کو۔
نہ خود کو۔
مگر اُن کی خاموشی بےمروتی نہیں تھی۔
وہ بس اُن کی زبان تھی۔
کبھی چائے کا کپ خاموشی سے آگے کر دیتے۔
کبھی بچوں کی ٹوٹی ہوئی کار ٹھیک کر دیتے۔
کبھی میرے شوہر کے دفتر جانے سے پہلے اُس کی گاڑی کا ٹائر دیکھ لیتے۔
کبھی سردیوں میں گیزر کا مسئلہ خود آ کر حل کر دیتے۔
اور اگر کبھی میں کوئی نیا پکوان بناتی اور وہ پلیٹ ختم کر دیتے، تو میری ساس آہستہ سے کہتیں:
“بس، سمجھ لو بہت پسند آیا ہے۔”
بیس سال میں میں نے اُن کی خاموشی پڑھنا سیکھ لیا تھا۔
ہلکا سا سر ہلانا یعنی منظوری۔
عینک اتار کر میز پر رکھ دینا یعنی بات اہم ہے۔
چائے کا کپ دوبارہ بھر لینا یعنی آج کھانا اچھا تھا۔
اور اگر وہ بچوں کی بات سن کر ہونٹوں کے کونے سے ذرا سا مسکرا دیں تو سمجھ لو وہ اندر سے بہت خوش ہیں۔
میں نے رشید صاحب کو ہمیشہ ایسے ہی قبول کر لیا تھا۔
کم بولنے والے۔
مگر موجود رہنے والے۔
پھر پچھلی عید آئی۔
گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔
بچے بڑے ہو چکے تھے۔
کچھ کزنز ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہنس رہے تھے۔
مرد باہر برآمدے میں چائے پی رہے تھے۔
خواتین کچن اور کھانے کے درمیان آ جا رہی تھیں۔
اور میں حسبِ معمول پس منظر میں سب سنبھال رہی تھی۔
کسی کو چائے چاہیے تھی۔
کسی کو چمچ۔
کسی بچے کو کولڈ ڈرنک۔
کسی بزرگ کیلئے کم چینی والی چائے۔
میں برسوں سے یہی کرتی آئی تھی۔
خاندانی تقریبات کو چلتا رکھنے والی وہ خاموش محنت، جس کا ذکر عموماً کوئی نہیں کرتا۔
میں کچن میں چائے ڈال رہی تھی کہ پیچھے سے قدموں کی ہلکی سی آواز آئی۔
مڑ کر دیکھا تو رشید صاحب دروازے پر کھڑے تھے۔
میں فوراً سیدھی ہوئی۔
“ابو، کچھ چاہیے؟”
انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
پھر کاؤنٹر کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔
میں نے سمجھا شاید اچھے کپ مانگنے آئے ہیں۔
یا شاید شوگر فری گولیاں۔
مگر وہ کچھ نہیں بولے۔
بس کھڑے رہے۔
ایسے جیسے دل نے فیصلہ کر لیا ہو، زبان ابھی راستہ ڈھونڈ رہی ہو۔
پھر انہوں نے آہستہ سے کہا:
“سارہ، مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے۔”
میرے ہاتھ میں چائے کا چمچ رک گیا۔
بیس سال میں انہوں نے کبھی مجھ سے اس طرح بات شروع نہیں کی تھی۔
میں اُن کی طرف مڑی۔
وہ کاؤنٹر کی سطح کو دیکھ رہے تھے۔
شاید میری آنکھوں میں دیکھنا اُن کیلئے آسان نہیں تھا۔
انہوں نے کہا:
“تم اس گھر میں آئیں تو علی خوش رہنے لگا۔”
علی میرے شوہر کا نام ہے۔
میری سانس جیسے رک گئی۔
رشید صاحب نے بات جاری رکھی:
“شروع میں نہیں… مسلسل۔”
“بیس سال سے میں دیکھ رہا ہوں۔”
وہ چند لمحے رکے۔
پھر بولے:
“تم نے میرے بیٹے کو گھر دیا ہے۔”
میری آنکھیں بھر آئیں۔
وہ اب بھی کاؤنٹر کو دیکھ رہے تھے۔
“میں ایسی باتیں آسانی سے نہیں کہہ پاتا۔”
“یہ مجھے بہت پہلے کہہ دینا چاہیے تھا۔”
“بس… آج کہہ رہا ہوں۔”
کچن میں چائے کی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
باہر قہقہے آ رہے تھے۔
پلیٹوں کی آواز، بچوں کی باتیں، عید کی ہلچل…
مگر میرے لیے وہ لمحہ جیسے ٹھہر گیا۔
بیس سال۔
بیس سال تک میں نے اس گھر میں بہو کی طرح کام کیا، بیوی کی طرح نبھایا، ماں کی طرح سنبھالا، اور اکثر عورتوں کی طرح اپنے حصے کی تھکن چھپا لی۔
اور اس خاموش آدمی نے سب دیکھا تھا۔
کچھ کہا نہیں۔
مگر دیکھا سب تھا۔
میں نہیں جانتی تھی کیا کہوں۔
شکریہ؟
ابو؟
آپ نے یہ پہلے کیوں نہیں کہا؟
کچھ بھی کافی نہیں لگ رہا تھا۔
پھر میں نے وہ کام کیا جو میں نے بیس سال میں کبھی نہیں کیا تھا۔
میں نے بے اختیار اپنا سر جھکا دیا۔
"ابو… شکریہ۔”
میرے گلے میں آنسو اٹک گئے تھے۔
رشید صاحب نے پہلی بار میری طرف پوری طرح دیکھا۔
پھر بہت آہستہ سے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ دیا۔
وہ چند لمحے خاموش رہے۔
جیسے برسوں سے دل میں بند الفاظ دعا بن کر اُن کی انگلیوں تک آ گئے ہوں۔
"خوش رہو بیٹا۔”
صرف تین لفظ۔
مگر بعض جملے اپنی لمبائی سے نہیں، اپنے وزن سے پہچانے جاتے ہیں۔
وہ تین لفظ میرے لیے بیس سال کی محنت کا صلہ تھے۔
میں نے اُن کے ہاتھ کو احترام سے تھام لیا۔
اور پہلی بار محسوس کیا کہ بعض دعائیں انسان کو اندر سے بدل دیتی ہیں۔
انہوں نے گلا صاف کیا۔
ہلکا سا سر ہلایا۔
اور اپنے مخصوص انداز میں بولے:
“اچھا۔”
جیسے کوئی ضروری کام مکمل ہو گیا ہو۔
پھر وہ واپس ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔
میں کچن میں کھڑی رہی۔
چائے ٹھنڈی ہونے لگی۔
اور میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ بعض تعریفیں تالیاں نہیں مانگتیں۔
وہ بس دل میں اتر کر انسان کو چپ کرا دیتی ہیں۔
اس کے بعد میں نے چائے بنائی۔
سب کو دی۔
مہمانوں سے مسکرا کر بات کی۔
بچوں کو ڈانٹا۔
کپ سمیٹے۔
مگر اندر کچھ بدل چکا تھا۔
اُس دن کے بعد رشید صاحب پھر زیادہ نہیں بولے۔
وہ اب بھی ویسے ہی ہیں۔
کم الفاظ والے۔
سیدھے۔
خاموش۔
مگر اب جب وہ کھانے کے بعد پلیٹ ذرا سا آگے کر دیتے ہیں، میں اُن کی خاموشی میں وہ چار جملے سن لیتی ہوں۔
اب جب وہ میرے بچوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اندر کتنی باتیں موجود ہیں۔
اور اب جب میں کسی خاموش انسان کو دیکھتی ہوں تو فوراً یہ نہیں سمجھتی کہ اُس کے دل میں کچھ نہیں۔
کبھی کبھی خاموش لوگ سب سے زیادہ دیکھتے ہیں۔
بس بولنے کیلئے انہیں بہت دیر لگتی ہے۔
اور جب وہ بولتے ہیں…
تو اُن کے چند جملے اُن لوگوں کی لمبی تقریروں سے زیادہ عمر پاتے ہیں جو ہر وقت بولتے رہتے ہیں۔
رشید صاحب نے اُس دن مجھے صرف تعریف نہیں دی تھی۔
انہوں نے مجھے یہ یقین دیا تھا کہ میری خاموش محنت کسی نے دیکھی ہے۔
اور ایک عورت کو کبھی کبھی بس یہی کافی ہوتا ہے۔
کہ کوئی کہہ دے:
“میں نے دیکھا ہے۔”
“تم نے نبھایا ہے۔”
“اور اس گھر کی خوشی میں تمہارا حصہ ہے۔” ❤️
©️ انتخاب سخن
#urduadab #fatherinlaw #marriedlife #urdustories
