عالمی ادب

افسانہ۔۔۔۔۔۔ خزانہ (براہوئی ادب سے۔۔۔) تحریر: غمخ…

افسانہ۔۔۔۔۔۔ خزانہ
(براہوئی ادب سے۔۔۔)

تحریر: غمخوار حیات
ترجمہ: رخشان بلوچ

اُن کا اپنا ایک ٹولہ تھا جو ایک طویل عرصے سے خزانہ ڈھونڈرہے تھے، یہ اور بات ہے کہ ابھی تک ان میں سے کسی کو کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا تھا۔۔۔۔ اسی لیئے وہ سب ادھار پے دن گزار رہے تھے۔

آج پھر ان بد بختوں کو معلوم نہیں، کس نے ایک خزانے کا پتہ دیا تھا، وہ بھی ماشکیل کے پرانے "گَبرو” کے قبرستان میں۔۔۔
یہ اُدھر ہی جارہے تھے، دن میں تو کام نہیں کر سکتے تھے کیونکہ خزانہ ڈھونڈنا بھی ہمارے لوگوں کے ہاں چوری کے برابر ہے۔
وہ بھی بڑی شرمساری سے یہ کام کررہے تھے۔۔۔

وہ ہر وقت بغیر خزانے کے ناکام واپس گھر کو لوٹ آتے تھے اور انہیں جو بھی پوچھتا کہ احوال دو اس بار کیا ہوا؟ پھر ان کا وہی ایک ہی جواب ہوتا تھا؛ "بس کیا کہیں، وہی بد نیتی”۔ روانہ ہونے سے پہلے ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ کوئی بھی اپنا نیت کھوٹ نہیں رکھے گا، بد نیتی نہیں کرے گا کیونکہ بدنیتی سے خزانہ واپس زمین میں چلا جاتا ہے۔۔۔۔ اس بارے میں وہ بے شمار کہانیاں سناتے ہیں، کہ کس طرح جب وہ خیصار کے "پیہن ڈغاری” گئے، کس طرح انہوں نے ایک مٹکا دیکھا،اور کس طرح اچانک مٹکا واپس زمین میں غائب ہوگیا۔ اور کیسے چلتن میں انہوں نے ایک غار دیکھا، ادھر بھی غار دیکھتے ہی دیکھتے دھڑام سے ذمین بوس ہوگیا۔

آج وہ بہت خوش تھے، کیونکہ اب کے بار مُلّا بھی انکے ساتھ ہو لیا تھا، انہوں نے ایک گائے ذبح کرنےکی بھی نیت باندھی تھی لیکن نیستی کی وجہ سے وہ ایک بکری اٹھ کر اسی پر اکتفا کر بیٹھے۔ کہنے لگے کہ اس بار زیادہ محنت نہیں کرنی پڑیگی کیونکہ خزانہ ایک پرانے قبر کے اندر ہی مدفن ہے، وہ قبر ہمارا راہ بلد دکھائے گا اور کچھ دوست منٹوں میں ہی اس قبر کھود کر خزانہ نکال دینگے، انشاء اللہ اس بار خزانہ پکا ہے، سننے میں ہے کہ یہاں سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے خزانہ نکالا ہے۔

ان میں سے ایک نے چلتے چلتے راہ بلد کو پکارا، ” ابا کیسے جان پاؤ گے کہ قبر کونسی ہے، وہاں تو ہزاروں قبریں موجود ہیں، ہم اس سے پہلے بھی ماشکیل کے اس قبرستان کے گنبدوں میں گئے ہیں، جہاں بہت سی انسانی کھوپڑیاں رکھی ہوئی ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی نقشہ، یا کوئی اسم وغیرہ موجود ہے”۔ راہ بلد اسکی طرف دیکھتے ہوئے قدرے خفگی سے بولنے لگا "پہلی بات یہ کہ تمہارے دوستوں کیساتھ میں پہلے سے ہی اقرار ہوچکا ہوں، کہ تیسرا حصہ میرا ہوگا، دوسری بات یہ کہ وہاں ایک قبر ہے، جس کے سرہانے پر کجھور کا ایک درخت ہے اور پورے قبرستان میں صرف اسی ایک قبر کے سرہانے پر کجھور کا درخت ہے، اسی کجھور کے درخت کے پاس میں کھڑا ہونگا، میرے سائے کا سر قبلے کی جانب جس قبر پر پہنچ جائے گا اسی قبر میں خزانہ ہے”۔ اس پر ان میں سے ایک نے راہ بلد سے دریافت کیا کہ "پھر کیا ہمیں اس بار دن میں جانا پڑےگا؟” راہ بلد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا "جی ہاں سورج طلوع ہونے سے پہلے ہمیں اس قبر تک پہنچنا ہے۔” اس پر سب نے حامی بھری اور سفر جاری رکھا۔

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے دوست کو پکار کر کہا؛ "اڑے! حوال دو، سنا ہے کہ تمہارے ہمسایوں نے پرسوں رات چور "شپادو” کو پکڑا ہے؟”
اس پر دوست نےبھنویں چڑھاکر جواب دیتے ہوئے کہا، ” ہاں یار شپادو آخرکار پکڑا گیا، پورے محلے کو اس نامراد نے ذلیل کیا تھا، سارے بچے، عورتیں خوف میں پڑ گئے تھے اس کی وجہ سے، رات کو سوتے نہیں تھے، ہم سب گھاٹ (چوکیداری) دینے پر مجبور تھے، آخر کار پرسوں رات کو وہ پکڑا گیا”۔ اسکی بات کاٹتے ہوئے، دوست نے برجستگی سے دوبارہ دریافت کی، ” پھر کیا اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا؟”

"نہیں یار، میر نے کہا کہ اسے میں سزا دونگا! اس نے کہا کہ پولیس کے حوالے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، دو دن بعد چھوٹ جائے گا، وہ رشوت لاکر دے دیگا یا پھر کہیں سے بڑی سفارش لے آئے گا، چوروں کو بھی بڑی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔”
"تو پھر دے دیا اسے میر کے ہاتھ میں؟” اسکے دوست نے دوبارہ دریافت کی، جس پر اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا "ہاں، پھر پتہ نہیں میر نے کیا کیا اس بدبخت کا”۔

شپادو کی کہانی جلد ہی ختم ہوگئی، وہ بھی ماشکیل پہنچ گئے، انہوں نے گاڈی سے اپنا سامان نہیں اتارا، ان کے کماش نے کہا یاروں یہاں سوتے ہیں قبرستان نزدیک ہے، صبح سویرے نماز کے بعد وہاں جائینگے ۔تو انہوں حامی بھرتے ہوئے وہیں پر ڈیرہ ڈال دیا اور سو گئے، فجر کے آذان کے وقت مُلّا نے انہیں جگایا، نماز پڑھ کر وہ سب روانہ ہوگئے، وہ آہستہ آہستہ قبرستان کی طرف چل رہے تھے، اب راہ بلد آگے تھا اور ملا نے اپنا دَم و درود پڑھنا شروع کردیا۔ راہ بلد کو جلد ہی وہ قبر نظر آگیا، وہ اس کامیابی پر انکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولنے لگا، ” یہ ہے وہ قبر۔” حقیقت میں پورے قبرستان میں صرف اسی ایک قبر کے سرہانے پر کجھور کا درخت تھا، وہ پرانا اور بڑے عمر کا کجھور کا درخت تھا، جو ابھی تک پھل دے رہا تھا۔ درخت جس قبر کے سرہانے لگی تھی، وہ قبر بھی بہت پرانا تھا۔ یہاں بہت کم قبروں پر کتبے لگے دِکھائی دے رہے تھے۔

سورج طلوع ہوتے وقت، ان کا راہ بلد اسی کجھور کے قریب کھڑا ہوگیا اور اس کے سر کا سایہ ایک قبر چھوڑ کر، اُس پار دوسری قبر پر پہنچا۔ یہ دیکھ کر طمانیت بھرے لہجے میں وہ سب کو مخاطب کرتے ہوئے بولنے لگا "اس قبر کو جلدی سے کھودو، ایسا نہ ہو کہ شہر سے کوئی آکر ہمیں دیکھ لے، کیونکہ آپ سب اچھی طرح سے جانتے ہو کہ یہاں نیا قبر کھودنا کوئی خرابی یا عجیب بات نہیں بلکہ ثواب کا کام ہیں لیکن کسی پرانے قبر کو کھودنا، قبر کی بے حرمتی کے زمرے میں آتی ہے، کسی نے دیکھ لیا تو بہت بڑی آفت آجائےگی”۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب یاروں نے بیلچوں کی مدد سے کچھ ہی لمحوں میں اس پرانے قبر کو کھود کر اسکی مٹی اس طریقے سے باہر پھینکنے لگے کہ اگر کوئی آکر انہیں دیکھ بھی لیتا تو وہ یہی سمجھتا کہ ایک نیا قبر کھودا جارہا ہے۔

اس حوالے سے ان کا کماش بہت ڈرامے باز تھا، اور مختلف حیلے جانتا تھا، اس نے پہلے ہی انہیں بتا دیا تھا کہ اگر ہم سے کسی نے پوچھا تو کہینگے کہ ہم راہ گزر ہے ایران سے آرہے ہیں "کچاخ” کا کام کرتے ہیں، ہمارے ایک دوست کو اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ وفات پاگیا، اسے لیجانے کا مناسب انتظام نہیں تھا تو اسے یہاں امانتاً دفنا رہے ہیں۔
کچھ ہی لمحوں میں قبر کی لحد دکھائی دی، ماشکیل میں قبروں کو زیادہ نیچے نہیں لگایا جاتا ہے کیونکہ وہاں پانی کی سطح اونچی ہے، گر تھوڑا گہرا کھود جائے تو زمین سے پانی نکل آتا ہے۔
اسی اثناء میں ملا نے انہیں آواز دی؛ "خبردار لحد کو نہیں کھولنا” وہ سب ایک ساتھ ایسے حیران و خاموش کھڑے ہوگئے جیسے قبروں کے سرہانوں پر لگے ہوئے لمبے پتھر اور ملا کو سراسیمگی سے تکنے لگے۔
ملا نے کہا "او کم بختو، پہلے خیرات و صدقہ تو کرو، وگرنہ جنات چیر پھاڑ کے رکھ دینگے تم سب کو”وہ سب گاڈی میں بندھی ہوئی بکری کی طرف لپکے، وہ تو تقریباً بھول ہی گئے تھے کہ وہ اپنے ساتھ ایک بکری لائے تھے خیرات کے لئے۔ بکری کو اسی قبر کے اندر ملا نے ذبح کیا۔ پھر انہیں لحد کھولنے کی اجازت دی، جب انہوں نے لحد کھولا، تو بلکل حیران ہوگئے، لحد میں خزانہ کیا خاک ہوتا، وہاں تو "چور شپادو” قید تھا۔!!
……………..★…………
مصنف کے متعلق:
جناب "غمخوار حیات” کا تعلق بلوچستان کے شہر نوشکی سے ہے. وہ شعبے کے اعتبار سے استاد ہیں اور ڈگری کالج نوشکی میں بطور براہوئی زبان کے لیکچرار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ادبی حوالے سے ان کا شمار براہوئی ادب کے مشہور شخصیات میں ہوتا ہے. آج کل وہ "اُوتان کلچر اکیڈمی” نامی تنظیم سے وابسطہ ہوکر ادبی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ "راسکوہ ادبی دیوان بلوچستان” میں بھی مختلف عہدوں پر فائض رہ کر، براہوئی ادب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں.
اب تک انکی سات (7) کتابیں شائع ہوچکی ہیں، جن میں سے چار شاعری کی کتابیں اور تین نثری کتابیں ہیں. ان کتابوں میں ایک افسانوں کا مجہوعہ "چہدہ” اور انشائیوں کی کتاب "ٹیمبو” نمایاں ہے۔.
اس کے علاوہ وہ "ہفت روزہ تلار براہوئی” اور "حال احوال” ویب سائیٹ میں بھی مضامیں لکھتے رہتے ہیں.
شکریہ


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2093878707509318

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/