محلے والوں کی نظر میں وہ ایک "بدتمیز بوڑھا” تھے۔ …
کسی محلے میں منتقل ہونا دراصل گھر بدلنا نہیں ہوتا، آدمیوں کے فیصلوں کے درمیان جا بسنا ہوتا ہے۔
میں اکہتر برس کی تھی جب شوہر کی وفات کے چار سال بعد اپنے بیٹے کے اصرار کے باوجود اس کے ساتھ کینیڈا جانے کے بجائے راولپنڈی کی ایک پرانی، متوسط طبقے کی بستی میں آ بسی۔ چھوٹا سا مکان تھا، مگر اس کے صحن میں آسمان کا ایک ٹکڑا آتا تھا۔ اس عمر میں آدمی کو اتنی ہی جائیداد کافی لگتی ہے جتنی میں شام کی دھوپ بیٹھ سکے۔
سامان ابھی پوری طرح اترا بھی نہ تھا کہ دروازے پر پہلی دستک ہوئی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
تین الگ چہروں نے تقریباً ایک ہی بات کہی۔
"باجی، ساتھ والے گھر والے سے زیادہ واسطہ نہ رکھیے گا۔”
"سلام کا جواب بھی مشکل سے دیتے ہیں۔”
"دل کے بہت سخت ہیں۔”
میں نے سب کی باتیں سنیں، چائے پلائی، شکریہ ادا کیا۔
اور دل ہی دل میں سوچا…
عمر کے اس حصے میں آ کر آدمی دوسروں کی رائے سے زیادہ ان کے خوف کو پہچاننے لگتا ہے۔
—
شام کی اذان کے بعد میں ایک بڑا ڈبہ اٹھائے اندر جا رہی تھی کہ ہاتھ پھسل گیا۔
ڈبہ زمین سے ٹکرانے ہی والا تھا کہ ایک ہاتھ اچانک درمیان میں آگیا۔
ڈبہ بچ گیا۔
میری کمر بھی۔
میں نے چونک کر دیکھا۔
سفید بال، خاکستری شلوار قمیص، ماتھے پر گہری لکیریں، اور آنکھیں…
ایسی آنکھیں جنہوں نے شاید برسوں سے کسی سے شکایت بھی نہ کی ہو۔
انہوں نے ڈبہ سیدھا کیا۔
ایک لمحہ مجھے دیکھا۔
پھر بغیر کچھ کہے اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔
میں کافی دیر دروازے پر کھڑی رہی۔
کبھی کبھی انسان کی اصل زبان اس کے ہاتھ ہوتے ہیں۔
—
ان کا نام سلیم احمد تھا۔
ستتر برس۔
ریٹائرڈ اردو پروفیسر۔
بیوی سات برس پہلے انتقال کر چکی تھیں۔
اکلوتا بیٹا آسٹریلیا میں تھا۔
محلے والوں کی نظر میں وہ ایک "بدتمیز بوڑھا” تھے۔
اپنی نظر میں شاید صرف ایک زندہ بچ جانے والا آدمی۔
—
ان کے گھر کی بیرونی دیوار پر چنبیلی کی ایک پرانی بیل چڑھی ہوئی تھی۔
بڑی ترتیب سے تراشی گئی۔
ایک بھی سوکھی شاخ بےترتیب نہیں۔
پھول کم کھلتے تھے۔
مگر جب بھی کھلتے، پوری گلی مہک جاتی۔
بیل اس افسانے کی خاموش ترین کردار تھی۔
—
میں نے جمعے کو گاجر کا حلوہ بنایا۔
چھوٹی سی پلیٹ ان کے دروازے پر رکھ دی۔
نیچے صرف ایک جملہ لکھا۔
"ڈبہ بچانے کا شکریہ۔”
دو دن بعد پلیٹ واپس آئی۔
چمک رہی تھی۔
اس کے نیچے تہہ کیا ہوا کاغذ تھا۔
صرف دو لفظ۔
"چینی کم۔”
میں ہنس پڑی۔
پتہ نہیں کیوں…
مجھے یہ بےرخی نہیں لگی۔
اعتماد لگا۔
جس آدمی کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہ رہے، وہ تعریف بھی سچ کرتا ہے۔
—
کچھ دن بعد میں نے ان سے پوچھ لیا،
"یہ چنبیلی آپ نے لگائی تھی؟”
انہوں نے پہلی بار مجھے پورا دیکھا۔
پھر آہستہ سے بولے،
"نہیں…
یہ میری بیوی نے لگائی تھی۔
میں صرف اسے مرنے نہیں دیتا۔”
یہ جملہ سن کر مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ بعض لوگ دراصل پودوں کو نہیں…
اپنی یادوں کو پانی دیتے ہیں۔
—
اس دن پہلی مرتبہ میں ان کے گھر کے اندر گئی۔
سادہ سا ڈرائنگ روم۔
پرانی کتابیں۔
دیوار پر گھڑی جو ہر گھنٹے کے بعد ہلکی سی کھانستی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
اور الماری کی اوپری دراز میں ایک نیلے کپڑے میں لپٹی ہوئی کاپی۔
انہوں نے بہت احتیاط سے کھولی۔
ہر صفحے پر ایک ہی ہاتھ کی لکھائی۔
"سلیم، اگست میں پانی کم دینا۔”
"اگر میں بھول جاؤں تو تم یاد رکھنا۔”
"شاخ کاٹتے وقت جلدی نہ کرنا، پودے بھی درد محسوس کرتے ہوں گے۔”
نیچے نام لکھا تھا۔
"رخسانہ”
انہوں نے کاپی بند نہیں کی۔
بس انگلی ایک جملے پر رکھے کافی دیر بیٹھے رہے۔
پھر بولے،
"وہ تو خود چلی گئی…
مگر مجھے ہر موسم کا ہوم ورک دے گئی۔”
—
میں نے پہلی بار ان کے سامنے اپنے شوہر کا ذکر کیا۔
ہم دونوں میں سے کسی نے "صبر” کا لفظ استعمال نہیں کیا۔
کسی نے "وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے” بھی نہیں کہا۔
ہم دونوں جانتے تھے…
وقت کچھ بھی ٹھیک نہیں کرتا۔
صرف دکھ کو انسان کی ہڈیوں میں اس طرح بسا دیتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ چلنا سیکھ لیتا ہے۔
—
پھر ایک خاموش رفاقت شروع ہوئی۔
صبح دروازہ کھولتی تو کبھی ٹوکری میں ٹینڈے رکھے ہوتے۔
کبھی لیموں۔
کبھی صرف دو ہری مرچیں۔
میں ہر پیر ان کے دروازے کے پاس تھرماس میں قہوہ رکھ دیتی۔
کبھی انہوں نے شکریہ نہیں کہا۔
کبھی میں نے انتظار نہیں کیا۔
کچھ تعلقات میں لفظ شامل ہو جائیں تو ان کی خوبصورتی کم ہو جاتی ہے۔
—
ایک دن محلے کی ایک خاتون نے حیرت سے پوچھا،
"باجی، آپ سے آخر بات کیوں کرتے ہیں؟”
میں نے کہا،
"میں نے ان سے ملنے سے پہلے ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا تھا۔”
وہ خاموش ہوگئی۔
شاید اس لیے کہ یہ جواب نہیں، آئینہ تھا۔
—
پھر سردیاں آگئیں۔
ایک صبح فجر کی اذان کے وقت میں نے دیکھا…
چنبیلی کی بیل پر پہلی بار پانی نہیں پڑا تھا۔
مجھے بےچینی ہوئی۔
دروازہ کھٹکھٹایا۔
کوئی جواب نہیں۔
دوسری بار۔
تیسری بار۔
آخرکار پولیس آئی۔
دروازہ توڑا گیا۔
وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔
گود میں وہی کاپی کھلی ہوئی تھی۔
چشمہ آنکھوں سے ذرا نیچے سرک آیا تھا۔
یوں لگ رہا تھا جیسے اگلا صفحہ پڑھتے پڑھتے نیند آگئی ہو۔
—
نمازِ جنازہ میں پوری گلی موجود تھی۔
وہی لوگ…
جو کہتے تھے،
"سلام کا جواب نہیں دیتے۔”
ہر شخص کے پاس اب ان کی تعریف موجود تھی۔
موت اکثر وہ تعارف لکھ دیتی ہے جو زندگی بھر لوگ پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے۔
—
ان کے بیٹے نے آسٹریلیا واپس جاتے ہوئے مجھ سے پوچھا،
"آنٹی…
یہ بیل کاٹ دوں؟
اب سنبھالے گا کون؟”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
صرف نیلی کاپی اس کے ہاتھ سے لے لی۔
—
اس رات بہت تیز بارش ہوئی۔
صبح میں نے دروازہ کھولا۔
چنبیلی پر سینکڑوں سفید پھول کھلے ہوئے تھے۔
میں پانی دینے گئی تو دیکھا…
بیل کی ایک نرم شاخ دیوار پھلانگ کر میرے صحن میں اتر آئی تھی۔
ایسے…
جیسے برسوں کی خاموشی کے بعد کسی نے پہلی بار ہاتھ بڑھایا ہو۔
میں نے قینچی اٹھائی۔
پھر واپس رکھ دی۔
بعض رشتے تراشنے کے لیے نہیں ہوتے۔
صرف جگہ دینے کے لیے ہوتے ہیں۔
میں نے شاخ کو سہارا دیا۔
اور پہلی بار محسوس کیا…
دیواریں ہمیشہ اینٹوں سے نہیں بنتیں۔
بعض دیواریں لوگوں کی زبان سے بنتی ہیں۔
اور انہیں گرانے کے لیے صرف ایک سچا سلام کافی ہوتا ہے۔
افسانہ: بیل انجان رشتوں کی
©️ انتخاب سخن
