اس دن حمزہ نے اسکول سے آ کر جوتے بھی نہیں اتارے۔ …
وہ سیدھا صحن کے اُس کونے میں جا بیٹھا جہاں اس کے ابو ہر شام سوکھے پتے چُنا کرتے تھے۔ مٹی گیلی تھی، مگر اس کی آنکھیں اس سے زیادہ بھیگی ہوئی تھیں۔
باپ نے دور ہی سے دیکھ لیا تھا۔
گیارہ برس کے بچے اچانک خاموش نہیں ہوتے…
انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے لوہے کی پرانی پانی کی کین دیوار کے ساتھ رکھی، ہاتھ دھوئے بغیر اس کے پاس آ بیٹھے۔
"آج کس نے دل توڑا ہے؟”
حمزہ نے سر نہیں اٹھایا۔
کافی دیر بعد اس نے بمشکل کہا،
"ابو… اگر آپ کسی بڑے دفتر میں ہوتے… یا سوٹ پہنتے… تو کیا میں بھی آج اتنا ہی چھوٹا ہوتا؟”
یہ سوال سن کر باپ کے چہرے پر ایک ایسی خاموشی اتری جو شاید صرف غریب باپ ہی سمجھ سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا۔
ان دراڑوں میں برسوں کی مٹی تھی…
اور انہی ہاتھوں نے شہر کے سب سے خوبصورت باغ سنوارے تھے۔
"کیا ہوا؟”
حمزہ کی آواز بھرّا گئی۔
"آج پوری کلاس ہنس رہی تھی۔ کہتے تھے… ‘مالی کا بیٹا بھی انگلش اسکول آ گیا۔’ پھر ایک نے کہا… ‘تمہارے ابو دوسروں کے پھولوں کو پانی دیتے ہیں، اپنے لیے کیا بچتا ہوگا؟'”
وہ چپ ہو گیا۔
بعض جملے انسان کے کانوں سے نہیں…
اس کی خودداری میں پیوست ہو جاتے ہیں۔
باپ نے اس کے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا۔
تسلی نہیں دی۔
نصیحت بھی نہیں کی۔
وہ خاموشی سے اٹھے، اسٹور سے دو چھوٹے لفافے نکالے اور وہی پرانی پانی کی کین ہاتھ میں لے آئے۔
"آؤ…”
انہوں نے آہستہ سے کہا۔
"آج ہم لوگوں کی باتوں کا جواب نہیں دیں گے…
صرف دو پھول اُگائیں گے۔”
—
گھر کے پیچھے چند گز کا ایک باغیچہ تھا۔
ایک طرف چنبیلی، دوسری طرف گلاب، اور بیچ میں خالی مٹی۔
باپ نے دو کیاریاں بنائیں۔
ایک میں خود بیج بوئے۔
دوسری حمزہ کے حوالے کر دی۔
"میں اپنے پودے کو نلکے کا صاف پانی دوں گا۔”
انہوں نے کہا۔
"اور میں؟”
"تم گلی کے آخر والے جوہڑ سے پانی لانا۔”
حمزہ چونکا۔
"وہ تو گندا ہے۔”
باپ نے صرف مسکرا کر پرانی کین اس کے ہاتھ میں دے دی۔
"بس اتنا ہی کرنا۔”
—
یہ کھیل چند دنوں کا نہیں رہا۔
یہ ان دونوں کی روزمرہ زندگی بن گیا۔
ہر شام حمزہ وہی پرانی کین اٹھاتا، جوہڑ سے بدبودار پانی بھرتا اور خاموشی سے اپنے پودے کو دے آتا۔
راستے میں کبھی وہی لڑکے مل جاتے۔
"اوئے مالی کے بچے!”
"آج پھر گٹر کا پانی لے آیا؟”
وہ پہلے کی طرح روتا نہیں تھا۔
بس کین کا دستہ اور مضبوطی سے پکڑ لیتا۔
کبھی کبھی اسے لگتا، شاید ابو واقعی غلط ہیں۔
یہ پودا مر جائے گا۔
جیسے عزت مر جاتی ہے۔
جیسے خواب مر جاتے ہیں۔
—
تین ہفتے گزر گئے۔
ایک صبح ابو نے اسے آواز دی۔
"آؤ، فیصلہ ہو جائے۔”
دونوں کیاریاں سامنے تھیں۔
حمزہ کا پودا حیرت انگیز طور پر زیادہ سرسبز تھا۔
اس کی شاخیں مضبوط تھیں۔
پتے چمک رہے تھے۔
جبکہ صاف پانی والا پودا اگرچہ زندہ تھا، مگر کمزور دکھائی دیتا تھا۔
حمزہ خوشی سے اچھل پڑا۔
"ابو!
آپ ہار گئے!”
باپ ہنس دیے۔
"ہاں…
شاید میں ہار گیا۔”
پھر وہ جھکے۔
انہوں نے مٹی کو انگلیوں سے ہٹایا۔
"بیٹا… ہر گندگی زہر نہیں ہوتی۔
کچھ گندگی مٹی کو طاقت بھی دیتی ہے۔”
حمزہ خاموشی سے سنتا رہا۔
"لوگ بھی اسی گندے پانی کی طرح ہوتے ہیں۔
وہ حسد، غرور، مذاق اور نفرت تم پر پھینکیں گے۔
اگر تم ہر بات کو دل پر لے لو گے تو سڑ جاؤ گے۔
اور اگر اسے اپنی محنت کی کھاد بنا لو گے…
تو ایک دن وہیں کھڑے ہو کر تمہیں دیکھتے رہ جائیں گے۔”
ہوا سے چنبیلی کی خوشبو اٹھی۔
حمزہ نے پہلی بار اپنے باپ کے ہاتھوں کو عزت سے دیکھا۔
اسے احساس ہوا…
یہ ہاتھ صرف پودے نہیں اُگاتے۔
یہ انسان بھی اُگا دیتے ہیں۔
—
چند دن بعد اسکول میں تقریری مقابلہ تھا۔
موضوع تھا…
"میرا ہیرو۔”
سب بچوں نے ڈاکٹر، فوجی، پائلٹ اور سائنس دان چنے۔
حمزہ اسٹیج پر پہنچا تو پہلی قطار میں بیٹھے چند لڑکے پھر مسکرا رہے تھے۔
اس نے جیب سے ایک مٹھی مٹی نکالی۔
اور میز پر رکھ دی۔
پھر بولا،
"یہ مٹی میرے ابو کے ہاتھوں سے آئی ہے۔
انہیں لوگ مالی کہتے ہیں۔
مجھے فخر ہے…
کیونکہ انہوں نے کبھی کسی انسان کو نیچا دکھا کر روزی نہیں کمائی۔
صرف پھول اُگا کر کمائی ہے۔”
پورا ہال خاموش تھا۔
"اور ہاں…
میں بھی مالی کا بیٹا ہوں۔
لیکن یاد رکھیے…
ہر پھول کے پیچھے کسی مالی کے ہاتھ ہوتے ہیں۔
بس وہ ہاتھ نظر نہیں آتے۔”
اس دن پہلی بار تالیوں کی آواز ان بچوں سے زیادہ اونچی تھی…
جو کل تک ہنستے تھے۔
—
برسوں گزر گئے۔
حمزہ زرعی یونیورسٹی میں استاد بن گیا۔
ملک بھر میں اس کے تحقیقی کام کا چرچا ہونے لگا۔
ایک دن اسے قومی ایوارڈ ملا۔
اسٹیج پر اینکر نے پوچھا،
"آپ یہ اعزاز کس کے نام کرنا چاہیں گے؟”
حمزہ نے جواب دینے کے بجائے اپنا بیگ کھولا۔
اس میں سے وہی پرانی، زنگ آلود پانی کی کین نکالی۔
ہال میں بیٹھے لوگ حیران رہ گئے۔
اس نے مائیک کے قریب ہو کر صرف ایک جملہ کہا،
"یہ ایوارڈ اس آدمی کے نام…
جسے دنیا مالی کہتی رہی،
اور جس نے میری شخصیت کو لوگوں کے پھینکے ہوئے کیچڑ سے سینچا۔”
وہ مزید کچھ نہ بول سکا۔
کیونکہ پہلی قطار میں کوئی نہیں بیٹھا تھا…
جو آج یہ سن کر مسکرا دیتا۔
باپ کو گئے کئی برس ہو چکے تھے۔
گھر واپس آ کر اس نے وہی کین صحن میں رکھی، اس میں پانی بھرا اور ایک ننھا سا پودا سینچ دیا۔
پھر دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اب اسے سمجھ آ گیا تھا…
کچھ لوگ اپنی زندگی میں پھول نہیں بنتے۔
وہ مالی بنتے ہیں…
تاکہ ان کے بعد بھی دنیا میں کہیں نہ کہیں بہار آتی رہے۔
