منتخب نظمیں

امی کے مرنے کے بعد ایک صبح کچن میں گئی تو… ابا چو…

💔 امی کے مرنے کے بعد ایک صبح کچن میں گئی تو… ابا چولہے کے سامنے کھڑے دلیہ بنانا سیکھ رہے تھے۔
گھر میں ہم سب موجود تھے۔ بیٹا، بہو، پوتے، پوتیاں… مگر

میرا نام رابعہ ہے۔
عمر اکیاون سال۔

اور میری امی وہ عورت تھیں جن کے بغیر ہمارا گھر گھر نہیں لگتا تھا۔ بھلا کوئی بھی گھر ماں کے بغیر گھر ہوتا ہے؟

امی کو معلوم ہوتا تھا کہ کون سی چیز کس دراز میں ہے۔

کس بچے کو کون سا سالن پسند ہے۔
کس مہمان کی چائے میں چینی کم ڈالنی ہے۔
کس دن دال پکانی ہے اور کس دن ابا کیلئے ہلکا سا آلو گوشت۔
ہم سب اسی گھر میں رہتے تھے۔

میرا بھائی، اُس کی بیوی، بچے، ابا، امی…

ایک مکمل پاکستانی گھر۔
آوازوں سے بھرا ہوا۔

برتنوں کی کھنک، بچوں کی شرارتیں، بہو کی مصروفیت، بھائی کے دفتر کی جلدی، اور امی کی آواز:

"رابعہ، چائے میں دم دیکھ لینا۔”
"بہو، بچوں کا ناشتہ لگا دیا؟”

"تمہارے ابا کی دوا کھانے کے بعد دینا۔”
ابا گھر کے دوسرے ستون تھے۔

بازار سے سودا لانے والے۔
بل جمع کروانے والے۔
بچوں کو سکول چھوڑنے والے۔
پنکھا، موٹر، دروازہ، نل، سب ٹھیک کروانے والے۔

مگر کچن؟

کچن امی کی سلطنت تھا۔

ابا کبھی وہاں آتے بھی تو بس دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھتے:

"چائے ہو گئی؟”

امی ہنس کر کہتیں:

"آپ بس بیٹھیں، ابھی لے آئی۔”
اور اکسٹھ سال ایسے ہی گزر گئے۔

پھر ستمبر کی ایک خاموش صبح امی چلی گئیں۔

پہلے ہفتے گھر لوگوں سے بھرا رہا۔

رشتے دار کھانا لاتے رہے۔
پڑوسنیں دیگچیاں بھیجتی رہیں۔
بہو بھی کچن سنبھالتی رہی۔
میں بھی ساتھ لگی رہی۔

بھائی بھی ابا کے پاس بیٹھا رہتا۔
گھر میں کوئی اکیلا نہیں تھا۔

مگر عجیب بات ہے۔۔

بعض اوقات پورا گھر ساتھ ہو کر بھی ایک شخص کی کمی پوری نہیں کر پاتا۔

دوسرے ہفتے لوگ واپس جانے لگے۔

تعزیت کی آوازیں کم ہو گئیں۔
دیگچیاں آنا بند ہو گئیں۔

اور گھر پر وہ خاموشی اتر آئی جو صرف اُس عورت کے جانے کے بعد آتی ہے جو سب کو جوڑے رکھتی ہو۔

ایک صبح فجر کے بعد میری آنکھ کھلی۔
کچن سے برتنوں کی ہلکی سی آواز آ رہی تھی۔

میں سمجھی بہو ہوگی۔
آہستہ سے اٹھی۔
کچن میں گئی۔
اور دروازے پر رک گئی۔
ابا چولہے کے سامنے کھڑے تھے۔
سفید شلوار قمیض۔
کندھوں پر پرانی چادر۔
آنکھوں پر عینک۔
اور ہاتھ میں چمچ۔
سامنے دیگچی میں دلیہ پک رہا تھا۔

یا شاید پکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

میں نے گھبرا کر کہا:

"ابا، آپ؟”
وہ چونک گئے۔

پھر تھوڑا سا شرمندہ ہو کر بولے:

"بس… دلیہ بنا رہا تھا۔”

میری آنکھیں بھر آئیں۔

"ابا، ہمیں آواز دے دیتے۔”

انہوں نے دیگچی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

"ہر بات کیلئے آواز دینا اچھا نہیں لگتا۔”

یہ جملہ بہت سادہ تھا۔

مگر اُس میں ایک چوراسی سالہ آدمی کی پوری تنہائی چھپی ہوئی تھی۔

گھر میں لوگ تھے۔

مگر وہ عورت نہیں تھی جس سے وہ بےجھجھک کہتے تھے:

"آج دلیہ بنا دو۔”

میں آگے بڑھی۔

دلیہ دیکھا۔
پانی زیادہ تھا۔

نمک بھی شاید غلطی سے ڈال دیا گیا تھا۔

میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"ابا، یہ دلیہ ہے یا سوپ؟”

وہ پہلی بار مسکرائے۔

"مجھے خود بھی شک ہے۔”

اُس دن ہم دونوں نے مل کر دلیہ بنایا۔

خراب بنا۔
بہت خراب۔
مگر ابا نے پورا پیالہ کھایا۔

میں نے پوچھا:

"اچھا ہے؟”

وہ بولے:

"تمہاری امی والا نہیں۔”

پھر کچھ دیر بعد آہستہ سے کہا:

"مگر کھانے لائق ہے۔”

بعد میں بہو کچن میں آئی تو بہت پریشان ہوئی۔

"ابا جان، آپ نے مجھے کیوں نہیں جگایا؟”

ابا نے نرمی سے کہا:

"بیٹا، تم سارا دن گھر سنبھالتی ہو۔”

"کبھی کبھی آدمی کو اپنا کام خود بھی سیکھ لینا چاہیے۔”

بہو کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

بھائی بھی دروازے پر کھڑا تھا۔

شاید اُس نے بھی پہلی بار ابا کو ایک باپ نہیں، ایک تنہا شوہر کے طور پر دیکھا تھا۔

اُس دن کے بعد ابا نے ضد پکڑ لی۔
روز کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔

چائے۔
دلیہ۔
انڈا۔
دال۔

امی والا جمعے کا پاستا، جسے ابا ہمیشہ "ولایتی سویاں” کہتے تھے۔

بہو انہیں روکنا چاہتی۔

میں کہتی:
"رہنے دو، سیکھنے دو۔”
کیونکہ اب مجھے سمجھ آ گیا تھا:
ابا کو بھوک نہیں ستا رہی تھی۔
امی کی غیر موجودگی ستا رہی تھی۔
وہ کھانا پکانا نہیں سیکھ رہے تھے۔
وہ امی کے بعد جینا سیکھ رہے تھے۔

آہستہ آہستہ۔

غلطیاں کرتے ہوئے۔
نمک کم زیادہ کرتے ہوئے۔
چائے جلا کر۔
دلیہ خراب کر کے۔
اور ہر بار تھوڑا سا مضبوط ہوتے ہوئے۔

کچھ دن بعد ابا نے امی کی پرانی ترکیبوں والی کاپی نکالی۔

وہی کاپی جس کے صفحوں پر سالن کے داغ، آٹے کی دھول اور امی کے ہاتھوں کی خوشبو تھی۔

ابا نے عینک ناک کے کنارے پر رکھی ہوئی تھی۔

قلم ہاتھ میں تھا۔

اور وہ ترکیبوں کے نیچے لائنیں لگا رہے تھے۔

میں نے پوچھا:

"ابا، کیا کر رہے ہیں؟”

بولے:

"تمہاری امی نے لکھا ہے پیاز سنہری کرنی ہے۔”
"یہ سنہری اور جلنے میں فرق کیسے پتا چلتا ہے؟”

میں ہنس پڑی۔

پھر روتے روتے ہنس پڑی۔

کیونکہ زندگی کا دکھ بھی کبھی کبھی بہت معصوم سوال پوچھتا ہے۔

کچھ ہفتوں بعد ابا نے واقعی دال بنا لی۔

پتلی تھی۔
نمک کم تھا۔
مگر دال تھی۔

انہوں نے فخر سے سب کو کھلائی۔

پوتے نے کہا:

"دادا ابو، امی والی نہیں بنی۔”

سب خاموش ہو گئے۔

ابا مسکرائے۔

"ہاں، بیٹا۔”

"وہ تو کسی سے نہیں بنے گی۔”

اور اُس ایک جملے نے پورے گھر کو خاموش کر دیا۔

کل ابا نے مجھے آواز دی۔

"رابعہ، ذرا چکھو۔”
میں کچن میں گئی۔
دیگچی میں پاستا تھا۔

وہی جمعے کے جمعے بننے والا۔

میں نے چکھا۔

ذائقہ امی جیسا نہیں تھا۔

بالکل نہیں۔

مگر اُس میں کوشش تھی۔

یاد تھی۔
محبت تھی۔

میں نے کہا:

"ابا، اچھا ہے۔”

وہ کافی دیر چپ رہے۔

پھر بولے:

"ویسا نہیں بنا۔”

میں نے کہا:

"ہاں۔”

انہوں نے چمچ دیگچی میں رکھا۔

اور آہستہ سے بولے:

"مگر اتنا قریب ہے کہ یاد آ جائے۔”

اُس لمحے مجھے سمجھ آیا:

کچھ کھانے ذائقے کیلئے نہیں بنتے۔

کچھ کھانے یاد کو زندہ رکھنے کیلئے بنتے ہیں۔

ابا آج بھی کبھی کبھی دلیہ خراب کر دیتے ہیں۔

چائے میں چینی بھول جاتے ہیں۔

دال پتلی کر دیتے ہیں۔

اور بہو پیچھے سے خاموشی سے نمک درست کر دیتی ہے۔

مگر اب ہم انہیں روکتے نہیں۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ چوراسی سال کا یہ آدمی کھانا نہیں پکا رہا…

وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے خلا کے ساتھ رہنا سیکھ رہا ہے۔

امی نہیں رہیں۔

یہ سچ ہے۔

مگر ابا نے جینا بند نہیں کیا۔

یہ اس سے بھی بڑا سچ ہے۔

اور جب تک اُس گھر کے کچن سے کبھی جلی ہوئی چائے، کبھی زیادہ پانی والا دلیہ، اور کبھی امی کے پاستا جیسی کوئی خوشبو اٹھتی رہے گی…

مجھے لگتا ہے امی پوری طرح کہیں نہیں جائیں گی۔ ❤️

©️ انتخاب سخن

#EmotionalStory #urdustories #husbandandwifelife #fatheranddaughter

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/