دور ایک گاؤں ہے … تمثیل حفصہ دور ایک گاؤں ہے جس …

دور ایک گاؤں ہے
جس میں خواب بستے ہیں
رات رات چلتے ہیں
اور دھوپ پلتی ہے
جھانکتی ہے کھڑکی سے
مجھ سے بات کرتی ہے
کتنے رنگ بکھرے ہیں
اس زمیں سے امبر تک
سرد، زرد، موسم میں
ہنس رہے ہیں پتے بھی
جھانکتا ہوا سورج
لال رنگ جیسا ہے
چھپ کے تکتا رہتا ہے
روز کالی ٹہنی سے
دھیرے دھیرے گرتا ہے
دور ایک گاؤں ہے
جس میں نہر بہتی ہے
موج موج لہرا تی
بوند بوند ملتی ہے
پانیوں کے رستے سے
ایک پل گزرتا ہے
پل کو پار کرتے ہی
کتنے موڑ آتے ہیں
اور پاس کا منظر
دور ہوتا جاتا ہے
کتنا شور برپا ہے
روکھے سوکھے پتے بھی
راستے میں بکھرے ہیں
خالی خالی سڑکوں کو
حیرتوں نے گھیرا ہے
دھول اڑتی رہتی ہے
پر فضا کا اجلا پن
روح میں اترتا ہے
دور ایک گاؤں ہے
جس میں شام کا منظر
رات کی خموشی بھی
صبح کا حسںیں بادل
آسماں کا نیلا رنگ
سبز رنگ کی چادر
جادوئی سے منظر میں
چاروں اُور بکھری ہے
دھند کی سفیدی میں
حوض پر جھکی شاخیں
عکس یوں بدلتی ہیں
دن سے شام کرتی ہیں
رات کے اندھیرے میں
جگنوؤں، ستاروں سی
روشنی اڑاتی ہیں
دور ایک گاؤں ہے
جس میں لوگ آتے ہیں
ساتھ ساتھ رہتے ہیں
چند روز کے ساتھی
اپنی اپنی دنیا کے
رنگ ساتھ لاتے ہیں
اپنے کینوس پر وہ
خواب بُن کے جاتے ہیں
گیت گنگناتے ہیں
ان سنے سے لہجے ہیں
پھر بھی خاص لگتے ہیں
اجنبی درختوں کو
کیمرے کی آنکھوں سے
گھورتے ہی رہتے ہیں
فریم میں نئی یادیں
قیدکرتے رہتے ہیں
دور ایک گاؤں ہے
جس میں آ کے ٹھہری ہے
دور دیس سے آئی
ایک اجنبی لڑکی
پوچھتے ہیں سب اس سے
کس سے بات کرتی ہو
کتنے خواب تکتی ہو
خالی خالی آنکھوں سے۔۔!
حیرتوں کی دنیا میں
سوچتی ہی رہتی ہو
یہ جگہ پرانی ہے
اس کی کیا کہانی ہے
یہ عجیب گاؤں ہے
پھیلتا ہی جاتا ہے
اور اس کی وسعت میں
اپنی بے کرانی کو
آئنے میں رکھتی ہو
نظم پینٹ کرتی ہو۔۔۔
