منتخب غزلیں

اس گھنی شب کا سویرا نہیں آنے والا اب کہیں سے بھی …

اس گھنی شب کا سویرا نہیں آنے والا
اب کہیں سے بھی اجالا نہیں آنے والا
سلیمان خمار کا انتقال
August 05, 2024
انتہائی افسوس کے ساتھ آپ تمام کو اس بات کی اطلاع دی جاتی ہے کہ بیجاپور سے تعلق رکھنے والے بر صغیر کے مشہور و معروف شاعر نظم سرحدوں کا جال کے خالق سلیمان خمار انتقال کرگئے
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
…………….
نمونہ کلام
پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں
زمیں والوں کو چھوٹا لگ رہا ہوں
ہر اک رستے پہ خود کو ڈھونڈھتا ہوں
میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں
بھرے شہروں میں دل ڈرنے لگا تھا
اب آ کر جنگلوں میں بس گیا ہوں
مراہم شکل کب کا مر چکا ہے
مجھے مت چھیڑئیے میں دوسرا ہوں
…..
کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے
اک اندھیرا سا بہ ہنگام سحر کیسا ہے
کیوں ہر اک راہ میں وحشت سی برستی ہے یہاں
ایک اک موڑ پہ یہ خوف و خطر کیسا ہے
پھر یہ سوچوں میں ہیں مایوسی کی لہریں کیسی
پھر یہ ہر دل میں اداسی کا گزر کیسا ہے
اس سے ہم چھانو کی امید بھلا کیا رکھیں
دھوپ دیتا ہے ہمیشہ یہ شجر کیسا ہے
روشنی ہے نہ ہواؤں کا گزر ہے اس میں
میرے حصے میں جو آیا ہے یہ گھر کیسا ہے
ایک مدت ہوئی آنکھوں سے بہے تھے آنسو
دامن شوق مگر آج بھی تر کیسا ہے
عمر بھر چل کے بھی پائی نہیں منزل ہم نے
کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ سفر کیسا ہے
ہم نے دیکھے تھے کئی خواب سہانے لیکن
تجربہ اب ہوا خوابوں کا نگر کیسا ہے
کیسے اگ آیا ہے آبادی میں ویرانہ خمارؔ
شہر کے بیچ یہ سنسان کھنڈر کیسا ہے
….
اس گھنی شب کا سویرا نہیں آنے والا
اب کہیں سے بھی اجالا نہیں آنے والا
جبرئیل اب نہیں آئیں گے زمیں پر ہرگز
پھر سے آیات کا تحفہ نہیں آنے والا
ہو گئے دفن شب و روز پرانے کب کے
لوٹ کر پھر وہ زمانہ نہیں آنے والا
پیڑ تو سارے ہی بے برگ ہوئے جاتے ہیں
دھوپ تو آئے گی سایہ نہیں آنے والا
یہ بھی سچ ہے کہ اجل بن کے کھڑے ہیں امراض
یہ بھی طے ہے کہ مسیحا نہیں آنے والا
ہم کو سہنا ہے اکیلے ہی ہر اک درد کا بوجھ
خیر خواہوں کا دلاسہ نہیں آنے والا
میرے افکار کے سوتے نہیں تھمنے والے
میری سوچوں پہ بڑھاپا نہیں آنے والا
نئے لفظوں کو برتنے کا سلیقہ بھی تو ہو
صرف الفاظ سے لہجہ نہیں آنے والا
جھوٹ بے پاؤں بھی دوڑے گا بہت تیز خمارؔ
لب پہ سچائی کا چرچا نہیں آنے والا
….
شناخت مٹ گئی چہرے پہ گرد اتنی تھی
ہماری زندگی صحرا نورد اتنی تھی
تمام عمر اسے سینچتے رہے لیکن
گلاب دے نہ سکی شاخ زرد اتنی تھی
گرے نہ اشک کبھی حادثوں کے دامن پر
ہماری آنکھ شناسائے درد اتنی تھی
تری پکار کا چہرہ دکھائی دے نہ سکا
مرے قریب صداؤں کی گرد اتنی تھی
تلاش زیست میں دل جیسی چیز چھوٹ گئی
حکایت دل و جاں فرد فرد اتنی تھی
جھلستی دھوپ کا اس پر گماں گزرتا تھا
بچھی تھی راہ میں جو چھانو زرد اتنی تھی
پگھل سکی نہ کبھی برف اکیلے پن کی خمارؔ
وہ شعلہ رو بھی طبیعت کی سرد اتنی تھی

دشت میں گھاس کا منظر بھی مجھے چاہیے ہے
سر چھپانے کے لئے گھر بھی مجھے چاہیے ہے
تھوڑی تدبیر کی سوغات ہے مطلوب مجھے
اور تھوڑا سا مقدّر بھی مجھے چاہیے ہے
تیرنے کے لئے دریا بھی ہے کافی، لیکن
شوق کہتا ہے سمندر بھی مجھے چاہیے ہے
صرف دیواروں سے ہوتی نہیں گھر کی تکمیل
چھت بھی درکار ہے اور در بھی مجھے چاہیے ہے
گاہے فٹ پاتھ بچھاکر بھی میں سو جاؤں گا
گاہے اک مخملیں بستر بھی مجھے چاہیے ہے
تیری معصوم ادائی بھی سر آنکھوں پہ مگر
تجھ میں اک شوخ ستمگر بھی مجھے چاہیے ہے
چاہیے ہے کبھی ریلا بھی مجھے سردی کا
اور کبھی دھوپ کا لشکر بھی مجھے چاہیے ہے
استعارے بھی ضروری ہیں سُخن میں، لیکن
شعر میں صنعتِ پیکر بھی مجھے چاہیے ہے
گفتگو کس سے کریں بونوں کی بستی میں خُمار
بات کرنی ہے تو ہمسر بھی مجھے چاہیے ہے
****
تجھ سے بچھڑوں تو یہ خدشہ ہے اکیلا ہو جاؤں
گھور تنہائی کے جنگل کا میں حصہ ہو جاؤں
اک ترے دم سے ہی شاداب ہے یہ میرا وجود
تُو نظر پھیرلے مجھ سے تو میں صحرا ہو جاؤں
دل کی دیواروں پہ مرقوم رہے نام مرا
قبل اس کے کہ میں بھولا ہوا قصّہ ہو جاؤں
تُو اگر دل میں بسالے تو بنوں میں شاعر
تُو جو ہونٹوں پہ سجالے تو میں نغمہ ہو جاؤں
ایسا ہوجائے نہ سوجھے تجھے کچھ میرے سوا
ایسا ہو جائے کہ میں ہی تری دنیا ہو جاؤں
جانتا ہوں میں تری سرمئی آنکھوں کا طلسم
اک نظر مجھ پہ بھی، میں بھی ترے جیسا ہو جاؤں
میں ادھورا ہوں بہت تجھ سے بچھڑ کر اے دوست
تُو جو مل جائے دوبارہ تو میں سارا ہو جاؤں
****
مدّت ہوئی راحت بھرا منظر نہیں اُترا
ساون کا مہینہ مری چھت پر نہیں اُترا
روشن رہا اک شخص کی یادوں سے ہمیشہ
گرداب میں ظلمت کے مرا گھر نہیں اُترا
جس آنکھ نے دیکھا تمہیں دیتی ہے گواہی
تم جیسا زمین پر کوئی پیکر نہیں اُترا
سچّائی مرے ہونٹوں سے اتری نہیں ہرگز
جب تک مرے کاندھوں سے مرا سر نہیں اُترا
قدرت کی عبارات کو پڑھتے رہے برسوں
مفہوم مگر ذہن کے اندر نہیں اُترا
نشّہ ہی کچھ ایسا تھا فتوحات کا اُس پر
جذبات کے توسن سے سکندر نہیں اُترا
ساحل پہ جو اترا تھا سفینوں کو جلا کر
صدیوں سے پھر ایسا کوئی لشکر نہیں اُترا
اترا نہیں نفرت کے سمندر میں کبھی میں
مجھ میں کبھی نفرت کا سمندر نہیں اُترا
کوشش تو بہت کی تھی خُمار ہم نے بھی لیکن
شیشے میں وہ اک شوخ ستمگر نہیں اترا
……………………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/