منتخب نظمیں

میرے شوہر نے دو سال تک ایک فون مجھ سے چھپا کر رکھ…

💥 میرے شوہر نے دو سال تک ایک فون مجھ سے چھپا کر رکھا. وہ کہہ رہا تھا: "اگر کبھی یہ فون مائرہ کو مل گیا تو وہ یقیناً مجھے قتل کر دے گی۔” 🥹💔
میرا نام مائرہ ہے۔
شادی کو دس سال ہو چکے ہیں۔
دو بچے ہیں۔
ایک سادہ سی زندگی ہے۔
اور ایک ایسا شوہر جس پر میں کبھی اندھا اعتماد کیا کرتی تھی۔
پھر آہستہ آہستہ کچھ چیزیں بدلنے لگیں۔
وہ اکثر کام کے سلسلے میں سفر پر رہنے لگا۔
کبھی اُس کی لوکیشن گھنٹوں کیلئے غائب ہو جاتی۔
کبھی فون بند آتا۔
کبھی میرے پیغامات کا جواب بہت دیر سے ملتا۔
اور جب میں پوچھتی تو جواب تقریباً ہمیشہ ایک جیسا ہوتا۔
"تم ہر بات کا مسئلہ کیوں بنا لیتی ہو؟”
"ذرا سا اعتماد بھی کر لیا کرو۔”
"تمہیں ہر جگہ شک کیوں نظر آتا ہے؟”
وقت گزرتا گیا۔
میں بحث کرنا چھوڑتی گئی۔
مگر دل کے کسی کونے میں ایک سوال زندہ رہا۔
ایک ایسا سوال جسے میں جتنا دبانے کی کوشش کرتی، وہ اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا۔
پھر ایک دن مجھے تہہ خانے میں وہ فون مل گیا۔
وہی فون۔
جس کے بارے میں اُس نے دو سال پہلے کہا تھا:
"گم ہو گیا ہے۔”
میں کافی دیر تک اُسے ہاتھ میں پکڑے بیٹھی رہی۔
کیونکہ اُس لمحے مسئلہ فون نہیں تھا۔
مسئلہ جھوٹ تھا۔
اور جھوٹ سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ تمام لمحے تھے جو اچانک میری یادداشت میں زندہ ہونے لگے تھے۔
میں نے فون چارج کیا۔
اسکرین روشن ہوئی۔
پاس کوڈ مانگا گیا۔
میں نے ہماری شادی کی تاریخ درج کی۔
فون کھل گیا۔
اور میرا دل بےقابو ہو کر دھڑکنے لگا۔
میں خود کو ہر ممکن سچ کیلئے تیار کر چکی تھی۔
کسی عورت کے پیغامات۔
خفیہ تصویریں۔
کوئی دوسرا رشتہ۔
کوئی دوسری زندگی۔
کچھ بھی۔
مگر فون تقریباً خالی تھا۔
نہ واٹس ایپ۔
نہ کال لاگ۔
نہ کوئی مشکوک ایپ۔
صرف ایک فولڈر تھا۔
"محفوظ لمحے”
میں چند لمحوں تک ساکت بیٹھی رہی۔
پھر فولڈر کھول دیا۔
اندر سینکڑوں تصاویر اور ویڈیوز محفوظ تھیں۔
پہلی تصویر ہماری شادی کی تھی۔
مگر وہ تصویر نہیں جو ہمارے البم میں تھی۔
یہ کسی اور زاویے سے لی گئی تھی۔
میں اسٹیج کے پیچھے اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی ہنس رہی تھی۔
اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔
تصویر کے نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"آج مجھے احساس ہوا کہ خوشی کی بھی ایک آواز ہوتی ہے۔”
میرے ہاتھ لرز گئے۔
میں نے اگلی تصویر کھولی۔
میں کچن میں آٹا گوندھ رہی تھی۔
بال بکھرے ہوئے تھے۔
چہرے پر آٹے کا ہلکا سا نشان تھا۔
میں کسی فلمی ہیروئن جیسی نہیں لگ رہی تھی۔
بس ایک عام سی عورت تھی۔
مگر تصویر کے نیچے لکھا تھا:
"یہ وہ دن تھا جب مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ گھر کسی عمارت کا نام نہیں ہوتا۔”
میرا دل عجیب سی کیفیت میں ڈوب گیا۔
اگلی تصویر میں، میں اسپتال کے بستر کے پاس بیٹھی بیٹی کو گود میں لیے سو گئی تھی۔
چہرے پر تھکن تھی۔
آنکھوں کے نیچے حلقے تھے۔
اور مجھے خبر بھی نہیں تھی کہ کسی نے یہ لمحہ محفوظ کر لیا ہے۔
نیچے صرف اتنا لکھا تھا:
"اس رات مجھے اپنی بیوی سے دوبارہ محبت ہوئی۔”
آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔
میں ایک ایک تصویر کھولتی گئی۔
بچوں کے پہلے قدم۔
پہلا اسکول ڈے۔
میرا غصے میں برتن دھونا۔
صحن میں پودوں کو پانی دینا۔
نماز کے بعد دیر تک دعا مانگنا۔
چائے بناتے ہوئے بےخیالی میں کھڑکی سے باہر دیکھتے رہنا۔
ایسے لمحے جن پر عام دنوں میں کسی کی نظر نہیں ٹھہرتی۔
مگر ہر تصویر کے ساتھ ایک نوٹ تھا۔
ایک احساس۔
ایک یاد۔
ایک خاموش اعتراف۔
پھر مجھے ایک ویڈیو ملی۔
تاریخ دو سال پرانی تھی۔
وہی وقت جب فون "گم” ہوا تھا۔
میں نے ویڈیو چلائی۔
میرے شوہر نے کیمرہ اپنی طرف کیا اور مسکرا کر بولا:
"اگر کبھی یہ فون مائرہ کو مل گیا تو وہ یقیناً مجھے قتل کر دے گی۔”
میں بےاختیار ہنس پڑی۔
پھر اُس کی مسکراہٹ نرم پڑ گئی۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر بولا:
"میں نے یہ فون چھپایا ہے۔”
"کسی عورت کی وجہ سے نہیں۔”
"کسی راز کی وجہ سے نہیں۔”
"بلکہ اس لیے کہ بعض یادیں انسان دوسروں کیلئے نہیں، اپنے دل کیلئے سنبھال کر رکھتا ہے۔”
وہ رکا۔
جیسے مناسب الفاظ تلاش کر رہا ہو۔
پھر آہستہ سے بولا:
"مائرہ کو معلوم نہیں، مگر جب بھی ہم لڑتے ہیں، میں یہ فولڈر کھول لیتا ہوں۔”
"جب مجھے لگتا ہے کہ شادی مشکل ہو رہی ہے، میں یہ فولڈر کھول لیتا ہوں۔”
"جب زندگی مجھے تھکا دیتی ہے، میں یہ فولڈر کھول لیتا ہوں۔”
پھر اُس نے کیمرہ ایک تصویر کی طرف موڑ دیا۔
وہ میری تصویر تھی۔
میں برآمدے کی کرسی پر بیٹھی بیٹھی سو گئی تھی۔
بچوں کے کھلونے صحن میں بکھرے پڑے تھے۔
اور چائے کا کپ میرے پہلو میں ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
وہ ہنس کر بولا:
"یہ تصویر کبھی ڈیلیٹ نہیں کروں گا۔”
"کیونکہ یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ محبت ہمیشہ سجنے سنورنے کا نام نہیں ہوتی۔”
"محبت کبھی کبھی ایک تھکے ہوئے انسان کو دیکھ کر بھی ہوتی ہے۔”
ویڈیو ختم ہو گئی۔
میں کافی دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔
پھر مجھے فولڈر کے آخر میں ایک آخری تصویر نظر آئی۔
صرف ایک تصویر۔
میری۔
میں ہنس رہی تھی۔
شاید کسی عام سے دن کی تصویر تھی۔
مگر اُس کے نیچے ایک جملہ لکھا تھا:
"اگر کبھی یہ فون تم تک پہنچ جائے تو صرف اتنا جان لینا… میری زندگی میں بہت سی اچھی چیزیں آئیں، مگر تم اُن سب میں سب سے خوبصورت تھیں۔”
اب میرے آنسو روکنے سے بھی نہیں رک رہے تھے۔
شام کو وہ گھر آیا۔
میں نے فون میز پر رکھ دیا۔
اُس کی نظر فون پر پڑی۔
پھر مجھ پر۔
اور اُس کا رنگ اُڑ گیا۔
کافی دیر ہم دونوں خاموش رہے۔
آخرکار اُس نے دھیمی آواز میں پوچھا:
"تم نے سب دیکھ لیا؟”
میں نے سر ہلا دیا۔
"ہاں۔”
وہ نظریں جھکا کر بیٹھ گیا۔
"میں جانتا ہوں مجھے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا۔”
"مگر وہ جگہ صرف میری تھی۔”
"ایک ایسی جگہ جہاں میں تمہیں، بچوں کو اور اپنی پوری زندگی کو محفوظ رکھتا تھا۔”
میں اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
اور شاید کئی مہینوں بعد پہلی بار اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
"اگلی بار…”
میں نے آہستہ سے کہا۔
"مجھے اپنے رازوں سے باہر مت رکھنا۔”
وہ مسکرایا۔
"اور اگلی بار تم ہر بات پر شک نہیں کرو گی؟”
میں ہنس دی۔
"کوشش کروں گی۔”
پھر میں نے فون اُس کی طرف بڑھا دیا۔
"بس ایک شرط پر۔”
وہ چونکا۔
"کیا؟”
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"یہ فولڈر اب صرف تمہارا نہیں رہے گا۔”
اُس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔
میں نے اُس کا ہاتھ دبایا اور کہا:
"کیونکہ خوبصورت یادیں دیواروں کے اندر چھپانے کیلئے نہیں ہوتیں…”
"وہ تو دو لوگوں کے درمیان بار بار جینے کیلئے ہوتی ہیں۔” ❤️
©️ انتخاب سخن
#relationshipadvice #lifelessons #husbandandwifelife #wifereacts

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/