منتخب غزلیں
کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور اور کچھ ان …

کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور
اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا
—-
قرآن کریم کا منظوم ترجمہ کرنے والے ممتاز ترین شاعر کیفؔ بھوپالی کا یومِ وفات
24؍جولائی 1991
20؍فروری 1917ء کو بھوپال، مدھ پردیش میں پیدا ہوئے۔ کیفؔ کی والدہ صالحہ خانم بھی شاعرہ تھیں اور عاجزؔ تخلص اختیار کرتی تھیں۔ اس لیے کیفؔ بھوپالی بچپن ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب تھے۔ پہلے اپنے خالو جناب ذکیؔ وارثی سے اصلاح لیتے رہے، بعد میں شعریؔ بھوپالی کے تلامذہ میں شامل ہوگئے۔ 1949ء میں بمبئی چلے گئے اور فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کرنے لگے۔ بعدازاں فلمی دنیا سے قطع تعلق کرکے کیفؔ صاحب بھوپال آگئے۔ انھوں نے بقیہ زندگی اور ساری صلاحیتیں قرآن مجید کی منظوم تفسیر لکھنے میں صرف کردی۔
24؍جولائی 1991ء کو بھوپال میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔
منتخب اشعار
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
———-
آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے
بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے
———-
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے
———-
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
———-
تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے
———-
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
———-
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
———-
ایک کمی تھی تاج محل میں
میں نے تری تصویر لگا دی
———-
اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی
جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے
———-
ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں
مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے
———-
تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے
تم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے
———-
جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی
یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
———-
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
———-
کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور
اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا
———-
کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں
———-
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
پھر یہ بارش مری تنہائی چرانے آئی
———-
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
———-
وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا
دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے
———-
جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے
اس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے
———-
چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کو
شہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں
———-
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے
وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے
———-
آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے
آج ہماری عمر بڑھا دی
……………………………..
اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا
—-
قرآن کریم کا منظوم ترجمہ کرنے والے ممتاز ترین شاعر کیفؔ بھوپالی کا یومِ وفات
24؍جولائی 1991
20؍فروری 1917ء کو بھوپال، مدھ پردیش میں پیدا ہوئے۔ کیفؔ کی والدہ صالحہ خانم بھی شاعرہ تھیں اور عاجزؔ تخلص اختیار کرتی تھیں۔ اس لیے کیفؔ بھوپالی بچپن ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب تھے۔ پہلے اپنے خالو جناب ذکیؔ وارثی سے اصلاح لیتے رہے، بعد میں شعریؔ بھوپالی کے تلامذہ میں شامل ہوگئے۔ 1949ء میں بمبئی چلے گئے اور فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کرنے لگے۔ بعدازاں فلمی دنیا سے قطع تعلق کرکے کیفؔ صاحب بھوپال آگئے۔ انھوں نے بقیہ زندگی اور ساری صلاحیتیں قرآن مجید کی منظوم تفسیر لکھنے میں صرف کردی۔
24؍جولائی 1991ء کو بھوپال میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔
منتخب اشعار
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
———-
آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے
بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے
———-
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے
———-
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
———-
تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے
———-
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
———-
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
———-
ایک کمی تھی تاج محل میں
میں نے تری تصویر لگا دی
———-
اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی
جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے
———-
ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں
مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے
———-
تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے
تم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے
———-
جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی
یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
———-
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
———-
کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور
اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا
———-
کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں
———-
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
پھر یہ بارش مری تنہائی چرانے آئی
———-
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
———-
وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا
دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے
———-
جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے
اس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے
———-
چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کو
شہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں
———-
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے
وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے
———-
آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے
آج ہماری عمر بڑھا دی
……………………………..



