منتخب غزلیں

لئے کائنات کی وسعتیں ہے دیار دل میں بسی ہوئی​ ہےعج…

لئے کائنات کی وسعتیں ہے دیار دل میں بسی ہوئی​
ہےعجیب رنگ کی یہ غزل، نہ لکھی ہوئی نہ پڑھی ہوئی​
…..
بیکل اتساہیؔ کا یومِ ولادت
19؍جولائی 1930
بیکل اتساہی ایک مشہور شاعر تھے جنھوں نے اپنی شاعری میں اودھی زبان کا وسیع استعمال کیا۔ وہ 19؍جولائی 1930ء کو محمد شفیع خان کے یہاں ضلع گونڈا کے بلرام پور میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام لودھی محمد جعفر خان تھا۔ بیکل کو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اتساہیؔ تخلص دیا تھا۔ ان کی سب سے مشہور نظم ” اے میری جانِ غزل ” ہے۔ بیکل کسی وقت راجیہ سبھا کے ممبر تھے۔ 1976 میں ، ادب کے میدان میں انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ 3؍ دسمبر 2016ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔
بیکل اتساہیؔ کے یوم ولادت پر منتخب اشعار
عزم محکم ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا
کتنے طوفان پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا

وہ تھے جواب کے ساحل پہ منتظر لیکن
سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا

الجھ رہے ہیں بہت لوگ میری شہرت سے
کسی کو یوں تو کوئی مجھ سے اختلاف نہ تھا

وہ میرے قتل کا ملزم ہے لوگ کہتے ہیں
وہ چھٹ سکے تو مجھے بھی گواہ لکھ لیجے

لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیں
میں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا

خدا کرے مرا منصف سزا سنانے پر
مرا ہی سر مرے قاتل کے روبرو رکھ دے

اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا
پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

چاندی کے گھروندوں کی جب بات چلی ہوگی
مٹی کے کھلونوں سے بہلائے گئے ہوں گے

ہوائے عشق نے بھی گل کھلائے ہیں کیا کیا
جو میرا حال تھا وہ تیرا حال ہونے لگا

یوں تو کئی کتابیں پڑھیں ذہن میں مگر
محفوظ ایک سادہ ورق دیر تک رہا

عشق وشق یہ چاہت واہت من کا بھلاوا پھر من بھی اپنا کیا
یار یہ کیسا رشتہ جو اپنوں کو غیر کرے مولیٰ خیر کرے

فرش تا عرش کوئی نام و نشاں مل نہ سکا
میں جسے ڈھونڈھ رہا تھا مرے اندر نکلا

بدن کی آنچ سے سنولا گئے ہیں پیراہن
میں پھر بھی صبح کے چہرے پہ شام لکھتا ہوں

نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا
قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں

ہر ایک لحظہ مری دھڑکنوں میں چبھتی تھی
عجیب چیز مرے دل کے آس پاس رہی

فرشتے دیکھ رہے ہیں زمین و چرخ کا ربط
یہ فاصلہ بھی تو انساں کی ایک جست لگے
….
لئے کائنات کی وسعتیں ہے دیار دل میں بسی ہوئی​
ہےعجیب رنگ کی یہ غزل، نہ لکھی ہوئی نہ پڑھی ہوئی​

نہیں تم تو کوئی غزل ہوکیا، کوئی رنگ و بو کا بدل ہو کیا​
یہ حیات کیا ہو، اجل ہو کیا، نہ کھلی ہوئی نہ چھپی ہوئی​

ہے یہ سچ کہ منظرِخواب ہے میرے سامنے جو کتاب ہے​
وہ جبیں کہ جس پہ گلاب کی کوئی پنکھڑی ہے پڑی ہوئی​

وہی ربطِ عکسِ جمال بھی، وہی خبطِ حُسنِ جمال بھی​
وہی ضبطِ حُزن وملال بھی شبِ ہجررسمِ خوشی ہوئی​

وہ محل کی چھت پہ جو چاند ہے، خدا جانے کاہے کو ماند ہے​
یہ طِلِسْم ہے کسی حُسن کا، یا مری نظر ہے تھکی ہوئی ​
…………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/