افسانے
برف کی سفید چادر میں ڈوبا ہوا ایک انسان… سانس مدھم، جسم بے حس… اور اس کے گرد دو …

برف کی سفید چادر میں ڈوبا ہوا ایک انسان…
سانس مدھم، جسم بے حس… اور اس کے گرد دو بھیڑیے خاموش پہرے دار بنے کھڑے تھے۔
جب ڈرون کی آنکھ نے یہ منظر دنیا کو دکھایا تو سب نے یہی سمجھا کہ شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ مگر قدرت نے ایک مختلف کہانی لکھی تھی — وہ زندہ تھا۔
زندگی ابھی اس کے اندر سانس لے رہی تھی، اور اس کی وجہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ رحم کی واپسی تھی۔
کچھ دن پہلے اسی انسان نے ان بھیڑیوں کو بھوک سے بچایا تھا۔ کوئی توقع نہیں رکھی، کوئی صلہ نہیں مانگا۔ بس ایک لمحے کا احسان۔
اور جب وہ سردی میں گر پڑا، تو وہ بھیڑیے اسے چھوڑ کر نہیں گئے۔ وہ درندے کہلانے والے جانور، انسانیت کا وہ سبق پڑھا گئے جو کتابوں میں کم ہی ملتا ہے۔
وہ اس کے ساتھ لپٹ گئے، اپنی حرارت دی، اور موت کے منجمد ہاتھوں سے اسے کھینچ لائے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
رحم کی گونج وقت کے پار سنائی دیتی ہے۔
اور احسان، شکل و صورت نہیں دیکھتا — بس دل کو پہچانتا ہے۔
قدرت کبھی کبھی ہمیں یہ سکھانے کے لیے کہ انسان کیا ہے،
انسانوں کے بجائے جانوروں کو استاد بنا دیتی ہے۔ 🐺❄️
منتخب

Source
سانس مدھم، جسم بے حس… اور اس کے گرد دو بھیڑیے خاموش پہرے دار بنے کھڑے تھے۔
جب ڈرون کی آنکھ نے یہ منظر دنیا کو دکھایا تو سب نے یہی سمجھا کہ شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ مگر قدرت نے ایک مختلف کہانی لکھی تھی — وہ زندہ تھا۔
زندگی ابھی اس کے اندر سانس لے رہی تھی، اور اس کی وجہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ رحم کی واپسی تھی۔
کچھ دن پہلے اسی انسان نے ان بھیڑیوں کو بھوک سے بچایا تھا۔ کوئی توقع نہیں رکھی، کوئی صلہ نہیں مانگا۔ بس ایک لمحے کا احسان۔
اور جب وہ سردی میں گر پڑا، تو وہ بھیڑیے اسے چھوڑ کر نہیں گئے۔ وہ درندے کہلانے والے جانور، انسانیت کا وہ سبق پڑھا گئے جو کتابوں میں کم ہی ملتا ہے۔
وہ اس کے ساتھ لپٹ گئے، اپنی حرارت دی، اور موت کے منجمد ہاتھوں سے اسے کھینچ لائے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
رحم کی گونج وقت کے پار سنائی دیتی ہے۔
اور احسان، شکل و صورت نہیں دیکھتا — بس دل کو پہچانتا ہے۔
قدرت کبھی کبھی ہمیں یہ سکھانے کے لیے کہ انسان کیا ہے،
انسانوں کے بجائے جانوروں کو استاد بنا دیتی ہے۔ 🐺❄️
منتخب

Source



Ehsan Khan