منتخب غزلیں
شاید اپنے ساتھ پھر میرا گزارا ہو سکے منتقل مجھ میں…
شاید اپنے ساتھ پھر میرا گزارا ہو سکے
منتقل مجھ میں اگر وہ شخص سارا ہو سکے
منتقل مجھ میں اگر وہ شخص سارا ہو سکے
آنے والوں کی جگہ بھی عشق کر جائیں کہ یوں
ہجر اگلے موسموں کا بھی ہمارا ہو سکے
میں کنارِ شام بیٹھا منتظر ہوں آج بھی
تیرے جیسی روشنی شاید دوبارہ ہو سکے
یوں نہ ہو میں اپنی گہرائی میں گم کر دوں تجھے
جا کنارہ کر اگر مجھ سے کنارہ ہو سکے
آؤ مل کر آسماں کی سمت دیکھیں اس طرح
جو ستارہ تھا کبھی وہ پھر ستارہ ہو سکے
درمیاں کے سب زمانے ہم گزار آئے کہ یوں
ایک سا عالم ہمارا اور تمہارا ہو سکے
(شاہین عباس)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
بہت خوب اااااعلی