افسانے

ذرا تصور کریں اگر ہم نور جہاں کو نہیں سنتے کیونکہ وہ سکھ خاندان سے تھیں؟ یا ہم ا…

ذرا تصور کریں اگر ہم نور جہاں کو نہیں سنتے کیونکہ وہ سکھ خاندان سے تھیں؟
یا ہم احمد فراز کو شاعر نہیں مانتے کیونکہ وہ شیعہ تھے؟
یا ہم فیض احمد فیض کو یادوں سے مٹا دیں کیونکہ وہ کمیونسٹ خیالات رکھتے تھے؟
یا ہم منیر نیازی کی شاعری کو نظر انداز کریں کیونکہ ان کا تعلق کسی خاص مسلک سے تھا؟
اور ہم پروفیسر عبدالسلام کو سائنس میں ان کے عظیم کارنامے کے باوجود نظرانداز کر دیں کیونکہ وہ احمدی تھے؟
یا ہم مختار مسعود کی تحریروں کو رد کر دیں کیونکہ ان کے خیالات مختلف تھے؟

ذرا سوچیں، اگر ہم قوالی کے بڑے استاد نصرت فتح علی خان کو نہیں سنتے کیونکہ ان کا عقیدہ مختلف تھا؟
اور ہم عبد الستار ایدھی کو ان کے مذہبی پس منظر کی وجہ سے انسانی خدمت کے لیے یاد نہ کریں؟

مگر یہی لوگ ہمارے ادب، ثقافت، اور تاریخ کے ستون ہیں۔

دنیا میں عظیم شخصیات جیسے گاندھی، جو ہندو تھے، آزادی کے لیے تحریکوں میں مشعل راہ بنے۔
آئن سٹائن، جو یہودی تھے، نے سائنس میں دنیا کو نئی راہیں دکھائیں۔
اور وہ اسٹیو جابز، جنہوں نے ایپل جیسی کمپنی کی بنیاد رکھی اور دنیا کو ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب دیا، بدھ مت کے پیروکار تھے۔

ہم نے اپنے علم، ثقافت، اور تاریخ کو اس وقت مالا مال کیا جب ہم نے یونانیوں، جن کے عقائد مختلف تھے، سے علم حاصل کیا اور اسے اپنی تہذیب کا حصہ بنایا۔

حکمت مؤمن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں پائے اسے اپنا لے۔
ہمیں اپنے عقائد اور مذہب سے غداری نہیں کرنی چاہیے، مگر ہمیں دوسروں کے عقائد اور ان کے جینے کے حق کا احترام ضرور کرنا چاہیے۔
انسانیت کی عزت کریں تاکہ دنیا میں امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔

منتخب


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/